عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام اور کبار فقہاء و محدثین میں ہوتا ہے۔ آپ کا پورا نام عبد اللہ بن عمرو بن العاص بن وائل السہمی القرشی تھا۔ آپ قریش کے معروف قبیلے بنو سہم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ اسلام کے نامور سپہ سالار، مصر کے فاتح اور عظیم مدبر تھے، جن کا شمار عرب کے دُہاۃ (بڑے مدبرین) میں ہوتا تھا۔ آپ کی والدہ کا نام ریطہ بنت منبہ بن الحجاج السہمية تھا۔
آپ کے چند القاب و خصوصیات میں "ذو العِلم” (صاحبِ علم)، "ذو العِبادة” (صاحبِ عبادت) اور "العبادلہ” (صحابہ میں سے چار عبد اللہ نامی فقہاء و علماء) میں سے ہونا نمایاں ہے۔ آپ اپنے والد سے پہلے ایمان لائے، یہ ایک منفرد پہلو ہے جو آپ کے غیر معمولی ایمان اور شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب آپ کے والد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ ابھی کفر کی حالت میں تھے۔ آپ کے والد نے ابتدا میں آپ کو اسلام سے روگردانی کا مشورہ دیا اور قریش کے کچھ سرداروں نے بھی آپ کو قید کر کے اسلام سے پھرنے کی کوشش کی، مگر آپ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔
نوجوانی میں ہی آپ نے دین اسلام کو مکمل طور پر اختیار کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مضبوط روحانی تعلق قائم کیا۔ آپ کا شمار ان خوش نصیب اصحاب میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی دشواریوں کا سامنا کیا اور پھر اس کی ترقی و ترویج میں حصہ لیا۔ آپ کی زندگی کا آغاز ہی علم، عبادت اور تقویٰ کی بنیاد پر ہوا، جو بعد میں آپ کی پہچان بن گیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات اسلام کے لیے بے مثال ہیں، جنہیں چند اہم نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:
- کتابتِ حدیث اور صحیفہ صادقہ: آپ حدیث نبوی کی کتابت کرنے والے چند انفرادی صحابہ میں سے ایک تھے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کو براہ راست لکھ کر محفوظ کیا جسے "صحیفہ صادقہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ صحیفہ بعد میں حدیث کی تدوین کے لیے ایک بنیادی ماخذ بنا اور مسند احمد بن حنبل میں اس کا بڑا حصہ شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آپ کو حدیث لکھنے کی اجازت دی تھی، جب کچھ صحابہ نے سوال کیا کہ کیا عبد اللہ کو ہر چیز لکھنی چاہیے جو وہ سنتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی غصے میں بھی ہوتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "لکھو! اس سے حق ہی نکلتا ہے۔” یہ آپ کے علم و فضل اور آپ کی روایت کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
- علم و فقہ: آپ کا شمار ان علماء صحابہ میں ہوتا تھا جن سے لوگ فتویٰ لیتے اور علمی مسائل میں رہنمائی طلب کرتے تھے۔ آپ قرآن و حدیث کے گہرے فہم کے مالک تھے اور اجتہادی صلاحیت رکھتے تھے۔
- عبادت و زہد: آپ شب و روز عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ آپ اکثر روزہ رکھتے، راتوں کو قیام کرتے اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے تھے۔ آپ کی اس غیر معمولی عبادت گزاری پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ آپ کو اعتدال کی نصیحت فرمائی، اور آپ کو بتایا کہ ہر ماہ تین دن روزہ رکھو، یا ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھو (یعنی روزہ داؤدی)، اور رات کو بھی پورا جاگنے کے بجائے ایک تہائی یا نصف رات تک قیام کرو۔ اس سے آپ کی اللہ کے ساتھ گہری محبت اور تعلق کا اندازہ ہوتا ہے۔
- جہاد اور غزوات: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مختلف غزوات میں شرکت کی، جن میں فتح مکہ بھی شامل ہے۔ بعد ازاں آپ نے اسلامی فتوحات میں بھی حصہ لیا، خصوصاً شام اور مصر کی فتوحات میں آپ کا کردار رہا۔
- کتابتِ وحی: بعض روایات کے مطابق آپ کتابتِ وحی کے فرائض بھی انجام دیتے تھے، جس سے آپ کے علمی مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا اندازہ ہوتا ہے۔
میراث اور وصال
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے بڑی میراث آپ کا علم اور آپ کا لکھا ہوا "صحیفہ صادقہ” ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے حدیث نبوی کے اولین مجموعوں میں سے ایک قیمتی ذخیرہ ہے۔ آپ نے تقریباً 700 سے زائد احادیث روایت کیں، جو صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔ آپ کی زندگی عبادت، تقویٰ، علم اور سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہونے کی بہترین مثال ہے۔
آپ کے وصال کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت کے اواخر میں یا یزید بن معاویہ کے دور کے اوائل میں 63 ہجری میں وفات پائی۔ کچھ روایات 65 ہجری اور بعض 68 ہجری کا ذکر بھی کرتی ہیں۔ اکثر مؤرخین کے نزدیک آپ نے 63 ہجری یا 65 ہجری میں شام کے علاقے (یا مصر) میں طاعون کی وبا کے دوران وفات پائی۔ آپ کی عمر اس وقت 70 سال سے زائد تھی۔ آپ کو مصر یا فلسطین کے کسی مقام پر دفن کیا گیا، تاہم آپ کی آخری آرام گاہ کے بارے میں حتمی طور پر کسی ایک مقام کی نشاندہی مشکل ہے۔ آپ کی وفات سے عالم اسلام ایک عظیم فقیہ، محدث اور عابد و زاہد شخصیت سے محروم ہو گیا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سنن ترمذی
- مسند احمد بن حنبل (خاص طور پر صحیفہ صادقہ کے حوالے سے)
- سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- تاریخ طبری
