عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم قریشی ہے۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ کے فرزندِ ارجمند اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔ آپ کی والدہ کا نام لبابہ بنت حارث تھا، جو اُم الفضل کے نام سے مشہور تھیں اور اُم المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی سگی بہن تھیں۔ آپ کی پیدائش ہجرتِ نبوی سے تقریباً تین سال قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ اس لحاظ سے، آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی صعوبتیں بھی دیکھیں اور مدینہ میں آپ کی صحبت سے بھرپور استفادہ کیا۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت ابو العباس تھی۔ آپ کو امت مسلمہ میں متعدد عظیم الشان القاب سے یاد کیا جاتا ہے، جن میں سب سے مشہور "حبر الامۃ” (امت کا سب سے بڑا عالم)، "ترجمان القرآن” (قرآن کریم کا مفسر) اور "رئیس المفسرین” (مفسرین کا سردار) شامل ہیں۔ آپ کو علم کی گہرائی اور وسعت کی بنا پر "بحر” (سمندر) بھی کہا جاتا تھا۔ یہ تمام القاب درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا ثمرہ تھے جو آپ نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے کی تھی: "اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ” (اے اللہ! اسے کتاب (قرآن) اور حکمت سکھا دے) اور ایک دوسری روایت میں ہے "اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ” (اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور اسے تاویل (تفسیر) کا علم سکھا دے)۔ یہ دعائیں آپ کی علمی رفعت کی بنیادی وجہ بنیں۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ایسے وقت ہوئی جب اسلام کی دعوت اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اور مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ آپ کا خاندان، بنو ہاشم، اگرچہ اپنے سردار حضرت عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد بکھر رہا تھا، لیکن آپ کے والد حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے بچپن ہی میں اسلام قبول کیا، اگرچہ اس وقت آپ بہت کم عمر تھے۔ آپ نے مکہ کے اس دور میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کی شفقتیں حاصل کیں۔

ہجرت کے بعد، جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ منورہ منتقل ہوئے، تو آپ کی عمر محض دس یا گیارہ سال تھی۔ مدینہ میں آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا گہرا موقع ملا۔ آپ اکثر وضو کے لیے پانی لا کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے اور آپ کی مجالس میں بیٹھ کر براہِ راست علم حاصل کرتے تھے۔ آپ کی اس کم عمری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قربت اور آپ کی دعاؤں نے آپ کے لیے علم کے دروازے کھول دیے۔ آپ کی ابتدائی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو علم حاصل کرنے کی بے پناہ لگن تھی۔ آپ نے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی نہیں، بلکہ کبار صحابہ کرام جیسے حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبد الرحمن بن عوف، اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی علم حاصل کیا، جس کے لیے آپ نے انتھک محنت کی اور بسا اوقات ایک حدیث کے لیے دور دراز کا سفر بھی کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی اسلامی تاریخ میں سب سے نمایاں خدمات کا تعلق علم و دانش کی اشاعت سے ہے۔ آپ نے کئی شعبوں میں بے پناہ مہارت حاصل کی:

  • قرآن فہمی اور تفسیر: آپ کو "ترجمان القرآن” اور "رئیس المفسرین” کے القاب سے جانا جاتا ہے۔ آپ قرآن کریم کے معانی، اسبابِ نزول، ناسخ و منسوخ اور عربی زبان و ادب پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ آپ کی تفسیری روایات کو بعد میں آنے والے مفسرین نے بنیادی ماخذ کے طور پر استعمال کیا۔ امام طبری اور ابن کثیر جیسے مفسرین نے آپ کی تفسیری آراء کو کثرت سے نقل کیا ہے۔
  • حدیث نبوی کا علم: آپ کثیر الروایت صحابہ میں سے تھے۔ آپ سے تقریباً 1660 احادیث مروی ہیں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔ آپ ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لیے کئی کئی دن کا سفر کرتے اور صحابہ کرام کے گھروں کے دروازوں پر انتظار کرتے تھے۔ آپ کا یہ طرز عمل طلبِ علم کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
  • فقہ اور اجتہاد: آپ کبار فقہاء صحابہ میں سے تھے۔ آپ کی فقہی آراء کو امت میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جلیل القدر خلیفہ آپ کی کم عمری کے باوجود اہم معاملات میں آپ سے مشورہ کرتے تھے۔
  • علمی مجلس اور درس و تدریس: آپ نے مکہ مکرمہ میں ایک عظیم الشان علمی مجلس قائم کی، جہاں آپ تفسیر، حدیث اور فقہ کا درس دیتے تھے۔ آپ کے حلقہ درس میں صحابہ کرام اور تابعین کی ایک کثیر تعداد شامل تھی، جن میں مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ (آپ کے غلام)، عطاء بن ابی رباح اور طاؤس جیسے جلیل القدر ائمہ شامل تھے، جنہوں نے بعد میں علم و فن کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
  • سیاسی اور انتظامی کردار: اگرچہ آپ کا بنیادی میدان علم تھا، لیکن آپ نے سیاسی اور انتظامی امور میں بھی حصہ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ بصرہ کے گورنر مقرر ہوئے اور آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جنگِ صفین میں بھی شرکت کی اور آپ کے قاصد کے طور پر کردار ادا کیا۔

آپ نے عربی زبان، شاعری اور قدیم تاریخ پر بھی گہرا علم حاصل کیا تھا، جو آپ کی قرآنی تشریحات میں معاون ثابت ہوا۔

میراث اور وصال

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی علمی میراث اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ آپ کے شاگردوں نے، جنہیں تابعین کے سرخیل کہا جاتا ہے، آپ کے علم کو سینہ بہ سینہ اور کتاب در کتاب اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ آپ کے اس شاگردوں نے ہی بعد میں اسلامی علوم کی تدوین کی بنیاد رکھی۔ آپ کی تفسیری روایات، حدیث کے ذخائر اور فقہی آراء آج بھی اسلامی علمی ورثے کا لازمی حصہ ہیں۔ آپ نے طلبِ علم، تحقیق اور تدریس کی جو بنیاد رکھی، وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔ آپ نے ایک ایسا علمی دبستان قائم کیا جس نے اسلامی علوم کو وسعت اور گہرائی عطا کی۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال سن 68 ہجری میں (بعض روایات کے مطابق 69 یا 70 ہجری میں) طائف کے مقام پر ہوا۔ آپ کی عمر تقریباً 70 سے 72 سال تھی۔ آپ کی نمازِ جنازہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے محمد بن حنفیہ نے پڑھائی۔ آپ کی وفات پر آپ نے فرمایا: "آج امت کا ربانی عالم وفات پا گیا۔” آپ کی وفات ایک ایسے دور میں ہوئی جب اسلامی امت اندرونی فتنوں کا شکار تھی، اور آپ کی وفات سے ایک عظیم علمی خلا پیدا ہو گیا۔ آج بھی جب تفسیر، حدیث یا فقہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے، تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی آراء کو بنیادی ماخذ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سیر اعلام النبلاء للذہبی
  • الاستیعاب فی معرفة الاصحاب لابن عبد البر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی
  • تاریخ طبری
  • البدایہ و النہایہ لابن کثیر