عبد اللہ بن سہل رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ، مدینہ منورہ کے انصار میں سے تھے، قبیلہ اوس کی شاخ بنو حارثہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام سہل بن زید (یا سہل بن ابی حثمہ) تھا اور آپ کے بھائیوں میں عبدالرحمن بن سہل اور محیصہ بن سہل شامل تھے۔ آپ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جان راہِ حق میں نچھاور کر دی۔ آپ کا لقب ‘شہید خیبر’ کے طور پر بھی مشہور ہے کیونکہ آپ کی شہادت کا واقعہ خیبر میں پیش آیا، جس نے اسلامی فقہ میں ایک اہم اصول ‘قسامہ’ کی بنیاد رکھی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ میں گزری۔ آپ کا خاندان قبیلہ اوس کے معززین میں سے تھا اور جوں ہی مدینہ میں اسلام کی دعوت پہنچی، آپ اور آپ کے خاندان نے اس دعوت کو قبول کیا۔ آپ ان خوش نصیب انصار میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ ہجرت کے بعد خوش آمدید کہا اور آپ کی ہر ممکن مدد فرمائی۔ آپ نے دین اسلام کی ترویج اور دفاع کے لیے اوائل عمری ہی سے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا۔ انصار ہونے کے ناطے، آپ کا ایمان اور وفاداری مثالی تھی۔ اگرچہ آپ کی ابتدائی زندگی کی بہت زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، لیکن آپ کا شمار ان سابقین اولین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کو دل و جان سے قبول کیا اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار رہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ وہ واقعہ ہے جو آپ کی شہادت کا سبب بنا اور اسلامی فقہ میں ‘قسامہ’ کے اصول کی بنیاد بنا۔ یہ واقعہ سات ہجری میں غزوہ خیبر کے بعد پیش آیا۔ آپ اپنے بھائی محیصہ بن سہل اور اپنے چچا زاد بھائی حویصہ بن مسعود کے ساتھ خیبر گئے تھے تاکہ وہاں سے کھجوریں حاصل کر سکیں۔ اس سفر کے دوران، آپ کو خیبر کے کسی علاقے میں پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا۔ آپ کو نہر میں گرا ہوا پایا گیا، اور آپ کی لاش پر خنجر کے زخم کے نشانات تھے۔
یہ واقعہ چونکہ ایک ایسے علاقے میں پیش آیا جہاں یہودی آباد تھے، اور قتل کا کوئی عینی شاہد موجود نہ تھا، اس لیے اس نے ایک اہم عدالتی مسئلہ کو جنم دیا۔ آپ کی اس قربانی کی بدولت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کا اصول وضع فرمایا جس کے تحت جب کسی مقتول کا قاتل معلوم نہ ہو اور قتل کسی خاص علاقے یا قوم سے منسوب ہو، تو اس علاقے کے پچاس افراد سے حلف لیا جاتا ہے۔ گویا آپ کی شہادت محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ اسلامی قانون سازی کا ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ آپ کا یہ اقدام، خواہ نادانستہ طور پر ہو، اسلامی قانون میں ایک دیرپا اہمیت کا حامل بن گیا اور آنے والی نسلوں کے لیے عدالتی نظام میں انصاف فراہم کرنے کی ایک مثال قائم کر گیا۔
میراث اور وصال
عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔ جب ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے چچا زاد بھائیوں (محیصہ اور حویصہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فریاد کی اور خیبر کے یہودیوں پر آپ کے قتل کا الزام لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کا حکم جاری فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہودیوں سے پچاس حلف لینے کو کہا تاکہ وہ اپنے بے گناہ ہونے کا دعویٰ کریں۔ جب یہودیوں نے حلف اٹھانے سے انکار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بھی حلف لینے کا موقع دیا، لیکن انہوں نے بھی اسے قبول نہیں کیا۔ بالآخر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے بیت المال سے آپ کی دیت (خون بہا) ادا فرمائی، تاکہ حق تلفی نہ ہو۔
اس طرح عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ شہادت کے اعلیٰ رتبے پر فائز ہوئے اور اسلامی قانون میں ایک لازوال نقوش چھوڑ گئے۔ قسامہ کا یہ فقہی اصول آج بھی اسلامی عدالتوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ جب قتل کا کوئی واضح ثبوت نہ ہو تو شک و شبہ کی صورت میں حلف کا سہارا کیسے لیا جائے۔ آپ کی شہادت نے اسلامی عدل و انصاف کے نظام کو ایک نئی جہت دی اور ایک ایسے قانونی اصول کی بنیاد رکھی جو صدیوں سے مسلمانوں کے لیے رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ آپ کی یہ شہادت، بظاہر ایک المناک واقعہ، مگر حقیقت میں اسلامی شریعت کی وسعت اور اس کی عدلیہ کی گہرائی کا ایک عظیم ثبوت بن گئی۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب الدیات، باب القسامة عند البينة و اللوث. (حدیث نمبر 6898, 6899)
- صحیح مسلم، کتاب القسامة و المحاربین و القصاص و الدیات. (حدیث نمبر 1669)
- سنن ابی داؤد، کتاب الدیات، باب القسامة. (حدیث نمبر 4522, 4523)
- موطأ امام مالک، کتاب العقول، باب القسامة. (حدیث نمبر 1580)
- ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ذکر مقتل عبد اللہ بن سہل. (صفحہ 371)
- ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ذکر القسامة و قصة عبد اللہ بن سہل. (جلد 4، صفحہ 228)
- طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ذکر خبر القسامة. (جلد 3، صفحہ 108)
