عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کا اصل نام اسلام قبول کرنے سے قبل حصین بن سلام تھا۔ آپ قبیلہ بنو قینقاع سے تعلق رکھنے والے یہود کے ایک انتہائی معزز، صاحب علم اور اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت یوسف علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ آپ کا شمار مدینہ کے بڑے علماء اور تورات کے گہرے عالموں میں ہوتا تھا۔ آپ تورات اور دیگر آسمانی صحائف پر گہری بصیرت رکھتے تھے اور ان میں بیان کردہ آخری نبی کی آمد کی علامات سے بخوبی واقف تھے۔ جب آپ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام حصین سے بدل کر عبد اللہ رکھا اور اس کے بعد سے آپ عبد اللہ بن سلام کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کا لقب ‘السید’ یعنی سردار بھی تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ اپنی ابتدائی زندگی میں مدینہ کے یہود میں ایک انتہائی قابل احترام اور علمی شخصیت تھے۔ آپ تورات کا گہرا مطالعہ کرتے تھے اور اس میں مذکور آخری نبی کی صفات اور علامات کو خوب جانتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو یہ خبر حضرت عبد اللہ بن سلام تک پہنچی۔ وہ اس وقت اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کی خبر دی۔ آپ نے فوراً اللہ اکبر کہا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شوق دل میں لیے شہر کی طرف روانہ ہوئے۔
آپ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے غور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھا اور فرمایا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین سوال پوچھے جو صرف ایک نبی ہی جان سکتا تھا: قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے؟ جنتیوں کی پہلی غذا کیا ہوگی؟ اور بچہ اپنے ماں باپ میں سے کس پر مشابہت کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سوالوں کے جواب دیے اور فرمایا کہ ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ان کے جوابات بتائے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن سلام نے فوراً کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک درخواست کی کہ آپ میرے قبولِ اسلام کا اعلان کرنے سے پہلے یہود سے میرے بارے میں پوچھیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلایا اور ان سے عبد اللہ بن سلام کے بارے میں پوچھا تو سب نے ان کی بے انتہا تعریف کی اور انہیں اپنا سردار، عالم اور نیک کہا۔ جب یہود نے ان کی تعریف میں کوئی کسر نہ چھوڑی تو حضرت عبد اللہ بن سلام کمرے سے باہر آئے اور انہوں نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا۔ یہ دیکھ کر یہود فوراً ان کی مذمت کرنے لگے اور انہیں بدترین کہنے لگے، جیسا کہ انہیں توقع تھی۔ اس سے حضرت عبد اللہ بن سلام کی بصیرت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت مزید واضح ہوئی۔ قرآن مجید میں ان کے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ سورۃ الاحقاف کی آیت نمبر 10 میں موجود ہے جہاں فرمایا گیا ہے: "کہہ دو، بھلا تمہارا کیا خیال ہے اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اسے جھٹلایا ہو، حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس جیسی چیز کی گواہی دے چکا ہے اور وہ ایمان لایا ہے، اور تم نے تکبر کیا ہے۔” اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں اکثر مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ حضرت عبد اللہ بن سلام کے بارے میں ہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اہل کتاب میں سے ایک نمایاں عالم ہوتے ہوئے اسلام قبول کیا اور اس کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ کا قبولِ اسلام اہل مدینہ کے لیے ایک بہت بڑا واقعہ تھا، بالخصوص یہود کے لیے، کیونکہ آپ ان کے مذہبی پیشوا اور عالم تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور آپ کی علمی بصیرت کا اعتراف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اہل اسلام کو تورات اور دیگر آسمانی کتابوں کی روشنی میں بہت سے مسائل کی وضاحت کیا کرتے تھے۔
آپ کی خدمات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو سابقہ امتوں کے قصص و روایات سے آگاہ کرنا بھی شامل ہے۔ آپ کا شمار ان اصحاب میں ہوتا تھا جن کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے جنتی ہونے کی بشارت دی تھی۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہو، وہ عبد اللہ بن سلام کو دیکھ لے۔” آپ نے زندگی بھر اسلام کی خدمت کی اور علمی طور پر صحابہ کرام کی رہنمائی فرمائی۔
میراث اور وصال
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ایک طویل اور پرعزم زندگی بسر کی۔ آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں بھی اپنی علمی اور اخلاقی خدمات جاری رکھیں۔ آپ خلافتِ عثمانی اور خلافتِ علوی میں بھی مدینہ میں موجود رہے اور لوگوں کی رہنمائی فرماتے رہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال کبار صحابہ میں سے تھا اور یہ سن 43 ہجری میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ بعض روایات کے مطابق آپ کا انتقال سن 31 ہجری میں بھی مذکور ہے۔ آپ نے اپنی اولاد میں یوسف، محمد اور حارثہ (یا حرثہ) چھوڑے جنہوں نے آپ کے علمی ورثے کو آگے بڑھایا۔ آپ کی زندگی یہودیت سے اسلام کی طرف ایک پرامن اور بصیرت افروز منتقلی کی مثال ہے، اور آپ کا نام اسلامی تاریخ میں ایمان، علم اور تقویٰ کی علامت کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری (کتاب فضائل الصحابۃ، باب مناقب عبد اللہ بن سلام)
- صحیح مسلم (کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل عبد اللہ بن سلام)
- سیرت ابن ہشام (ذکر إسلام عبد الله بن سلام)
- البدایہ والنہایہ لابن کثیر (جزء 3، باب ذكر إسلام عبد الله بن سلام رضي الله عنه)
- تاریخ الطبری (ذکر ہجرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم إلى المدینة)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الاثیر (جزء 3، ذکر عبد الله بن سلام)
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبد البر (جزء 3، ذکر عبد الله بن سلام)
