عبد اللہ بن سعید رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
عبد اللہ بن سعید رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے مشہور یہ شخصیت دراصل عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح العامری القرشی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اکثر کتبِ سیرت و تاریخ میں ان کا نام عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ہی ملتا ہے، تاہم کہیں کہیں غلطی سے یا کتابت کی وجہ سے "سعید” بھی لکھا جاتا ہے۔ آپ کا نسب قریش کے بنو عامر بن لؤی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ آپ قبیلہ قریش کے ایک نامور فرد اور نسبتاً ابتدائی مسلمان تھے۔ آپ مشہور صحابی اور تیسرے خلیفہ راشد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے رضاعی (دودھ شریک) بھائی تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ اُن ابتدائی افراد میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ اسلام کے آغاز میں ہی اسلام قبول کیا اور ہجرت سے قبل مدینہ منورہ آ گئے۔ اپنی ذہانت اور تعلیمی قابلیت کی وجہ سے آپ رسول اللہ ﷺ کے کاتبینِ وحی میں شامل ہو گئے۔ یہ ایک انتہائی معزز اور اہم ذمہ داری تھی جہاں آپ اللہ کے نبی ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کو کتابت کیا کرتے تھے۔
تاہم، آپ کی زندگی میں ایک انتہائی مشکل مرحلہ اُس وقت آیا جب آپ نے کسی غلط فہمی یا شیطانی وسوسے کے زیرِ اثر ارتداد اختیار کر لیا اور مرتد ہو کر مکہ واپس بھاگ گئے۔ اس واقعے کی مختلف روایات میں سے ایک مشہور روایت یہ ہے کہ جب قرآن کریم کی سورۃ المؤمنون کی کچھ آیات (جیسے: ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ) نازل ہو رہی تھیں، اور نبی اکرم ﷺ نے "فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ” کا جملہ بولا تو عبد اللہ بن سعد کے منہ سے بھی بے اختیار یہی الفاظ نکلے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ جملہ بھی وحی کے حصے کے طور پر لکھنے کا حکم دیا، تو انہیں یہ وسوسہ لاحق ہوا کہ اگر وہ خود بھی وحی جیسے الفاظ بول سکتے ہیں، تو شاید وحی الہٰی میں صداقت نہ ہو۔ (معاذ اللہ) اسی غلط فہمی اور وسوسے کے زیر اثر وہ ایمان سے پھر گئے اور مکہ جا کر اپنے سابقہ قبیلے کے ساتھ شامل ہو گئے۔
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے چند ایسے افراد کے خون کو مباح قرار دیا تھا جن کی اسلام دشمنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی اور جنہوں نے مسلمانوں کو بہت اذیتیں دی تھیں۔ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ بھی ان افراد میں شامل تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے بھی لٹکے ہوئے ملیں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔
اس نازک موقع پر آپ کے رضاعی بھائی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ آپ کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے لیے امان طلب کی۔ نبی اکرم ﷺ کافی دیر تک خاموش رہے، جس دوران آپ ﷺ یہ امید کر رہے تھے کہ کوئی صحابی آگے بڑھ کر انہیں قتل کر دے، لیکن کسی نے ایسا نہیں کیا۔ بالآخر آپ ﷺ نے عثمان رضی اللہ عنہ کی سفارش قبول کی اور عبد اللہ بن سعد کو امان دے دی۔ اس طرح آپ نے دوبارہ اسلام قبول کیا اور توبہ کر کے اپنے گناہوں سے معافی چاہی۔ آپ کا یہ واقعہ ایمان کے فراز و نشیب اور اللہ کی رحمت کی وسعت کی ایک اہم مثال ہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
دوبارہ ایمان لانے کے بعد عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے اپنی باقی زندگی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں وقف کر دی۔ آپ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کئی فوجی مہمات میں حصہ لیا اور اپنی شجاعت و بہادری کا لوہا منوایا۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں آپ کی خدمات نمایاں ترین رہیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو مصر کا والی (گورنر) مقرر کیا، جہاں آپ نے انتظامی امور میں بے پناہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
- افریقہ کی فتح (غزوۃ العبادلہ): 27 ہجری میں آپ نے شمالی افریقہ (موجودہ تیونس) کی جانب ایک عظیم الشان لشکر کی قیادت کی، جسے "غزوۃ العبادلہ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ اس میں کئی صحابہ کرام تھے جن کا نام عبد اللہ تھا (جیسے عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر وغیرہ)۔ آپ نے رومیوں کو فیصلہ کن شکست دی اور افریقہ کے وسیع علاقے اسلام کے زیرِ نگین آ گئے۔
- بحری بیڑے کی تشکیل: آپ نے اسلامی تاریخ میں پہلا منظم اور مضبوط بحری بیڑا تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سے قبل مسلمانوں کے پاس بحری جنگوں کے لیے کوئی قابل ذکر تیاری نہیں تھی۔
- ذات الصواری کی جنگ (24 یا 25 ہجری): یہ اسلامی تاریخ کی پہلی سب سے بڑی بحری جنگ تھی جو 34 ہجری میں رومی بحریہ کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ میں عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے اسلامی بحری بیڑے کی کمان کی اور رومیوں کو ایسی شکست فاش دی کہ بحیرہ روم میں رومیوں کی بالادستی ختم ہو گئی اور مسلمانوں کی بحری قوت کا سکہ جم گیا۔ یہ فتح اسلامی فتوحات میں ایک نیا سنگ میل تھی، جس نے مسلمانوں کے لیے سمندری راستے کھول دیے۔
- انتظامی اصلاحات: مصر کی گورنری کے دوران آپ نے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کیا، عدل و انصاف کے نظام کو بہتر بنایا اور مالیاتی نظام کو مستحکم کیا۔
میراث اور وصال
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں میں فتنہ و فساد برپا ہوا، تو عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے اس فتنہ سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ آپ نے کسی بھی گروہ کا ساتھ نہیں دیا اور اپنی باقی زندگی خانہ نشینی اور عبادت میں گزاری۔
آپ کا وصال 36 ہجری (بعض روایات کے مطابق 35 ہجری) میں ہوا۔ بعض مؤرخین کے مطابق آپ عسقلان میں فوت ہوئے، جبکہ دیگر روایات رملا یا مصر میں وفات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ انتقال کے وقت آپ نے اللہ تعالیٰ سے اپنی سابقہ لغزشوں کی مغفرت کی دعا کی۔ آپ کو ایک ایسے صحابی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے ایک مشکل ابتلا سے گزر کر دوبارہ ایمان مضبوط کیا اور اسلام کی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کا شمار اُن عظیم سپہ سالاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلامی فتوحات کی وسعت میں اہم کردار ادا کیا۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
- طبری، تاریخ الرسل والملوک
- ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
- الذہبی، سیر أعلام النبلاء
