عبد الرحمن بن جبر رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبدالرحمن بن جبر رضی اللہ تعالی عنہ، جو اپنی مشہور کنیت ‘عبدالرحمن بن عوف’ سے پہچانے جاتے ہیں، کا شمار اسلام کے ابتدائی اور عظیم ترین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے۔ آپ کا مکمل نام عبدالرحمن بن عوف بن عبد عوف بن عبد بن حارث بن زہرہ بن کلاب زہری القرشی ہے۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو زہرہ قبیلے سے تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیال بھی تھے۔ آپ کی والدہ کا نام الشفاء بنت عبد عوف تھا جو کہ آپ کے والد کے چچا کی بیٹی تھیں۔ قبولِ اسلام سے قبل آپ کا نام عبد عمرو یا عبد الکعبہ تھا، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل فرما کر عبدالرحمن رکھا۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، یعنی ان دس خوش نصیب صحابہ کرام میں شامل ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی۔ آپ اپنی ذہانت، تجارت میں مہارت، فراخ دلی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ عام الفیل کے تقریباً دس سال بعد (580 عیسوی کے لگ بھگ) مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار مکہ کے با اثر اور دولت مند نوجوانوں میں ہوتا تھا۔ آپ تجارت سے وابستہ تھے اور اپنی کاروباری سمجھ بوجھ کے لیے معروف تھے۔
جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا آغاز فرمایا تو آپ نے بلا جھجک اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس دعوت کو قبول کیا۔ آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور ابتدائی آٹھ مسلمانوں میں شامل تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو بھی دیگر ابتدائی مسلمانوں کی طرح قریش کی جانب سے شدید مظالم اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
جب مسلمانوں پر مکہ کی زمین تنگ کر دی گئی تو آپ نے دو مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو آپ مدینہ منورہ ہجرت کرنے والے پہلے مسلمانوں میں سے تھے۔ مدینہ پہنچنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی مؤاخات (بھائی چارہ) مدینہ کے ایک انصاری صحابی حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ سے قائم کی۔ حضرت سعد بن ربیع نے آپ کو اپنے آدھے مال اور دو بیویوں میں سے ایک کی پیشکش کی، لیکن حضرت عبدالرحمن بن عوف نے نہایت شائستگی سے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور صرف اتنا کہا کہ مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجیے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ میں صفر سے آغاز کیا اور اپنی کاروباری مہارت اور اللہ کی برکت سے جلد ہی مدینہ کے کامیاب ترین تاجروں میں سے ایک بن گئے۔ آپ کی تجارت ہمیشہ حلال اور بابرکت رہی۔ آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے:
- **مالی سخاوت:** آپ اپنی بے مثال سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ آپ نے اپنی دولت کا بڑا حصہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں وقف کر دیا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر آپ نے 200 اوقیہ سونا (تقریباً 40 کلوگرام) اور 500 گھوڑے جہاد کے لیے پیش کیے۔ ایک موقع پر آپ نے 700 اونٹوں پر لدے ہوئے سامان کا قافلہ اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا۔ آپ نے اپنی وفات کے وقت بھی کئی غلاموں کو آزاد کرنے کی وصیت فرمائی۔
- **جہادی شرکت:** آپ نے غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ غزوہ احد میں جب کئی صحابہ کرام کے قدم اکھڑ گئے تھے، آپ ثابت قدم رہے اور دفاع کیا۔
- **سربراہیِ لشکر:** رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ آپ کو دومتہ الجندل کی مہم کا امیر مقرر فرمایا۔ یہ آپ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکمل اعتماد کی دلیل تھی۔
- **امامتِ صلوٰۃ:** ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیر سے تشریف لائے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ امامت فرما رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی، جو کہ آپ کے لیے ایک عظیم شرف ہے۔
- **شورٰی کونسل میں کردار:** حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی وفات سے قبل خلافت کے انتخاب کے لیے چھ رکنی شورٰی کمیٹی تشکیل دی جس میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ آپ نے اس کمیٹی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا اور لوگوں سے مشاورت کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو امیرالمومنین منتخب کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
میراث اور وصال
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے 32 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 75 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کو جنت البقیع، مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا۔
آپ کی زندگی امت مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح دین اور دنیا دونوں میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ دنیاوی دولت کا حصول اگر شرعی حدود میں رہ کر ہو اور اس کا استعمال اللہ کی راہ میں ہو تو وہ نہ صرف حلال بلکہ اجر کا باعث بنتا ہے۔ آپ کی سخاوت، تقویٰ، اور اسلام کے لیے لازوال قربانیاں آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپ کا خوف کہ کہیں ان کی دنیاوی دولت انہیں آخرت سے غافل نہ کر دے، ایک گہرا سبق ہے۔ آپ کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی، اور آپ نے اپنی پوری زندگی اس بشارت کا حق ادا کیا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سیرت ابن ہشام
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- تاریخ طبری
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر
