ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق عرب کے قدیم اور معزز قبیلے بنو ازد سے تھا، جو یمن سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ ازد شنؤہ کی شاخ سے تھے اور دورِ جاہلیت میں ایک معروف طبیب اور جھاڑ پھونک کرنے والے کے طور پر مشہور تھے۔ انہیں خاص طور پر ذہنی بیماریوں یا جنونی کیفیت میں مبتلا افراد کے علاج میں مہارت حاصل تھی، جس کی وجہ سے لوگ ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔ ان کا اصلی نام ضماد تھا، اور چونکہ وہ بنو ثعلبہ سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے ضماد بن ثعلبہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی طبابت کے سلسلے میں سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے، جہاں انہیں اہل مکہ کی یہ بات سننے کو ملی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) معاذ اللہ جنون یا جادو کا شکار ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے پیشِ نظر انہوں نے سوچا کہ شاید وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کر سکیں، کیونکہ وہ نفسیاتی امراض اور جادو ٹونے سے متاثرہ افراد کا علاج کرتے تھے۔

وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "اے محمد! میں جنون یا جادو کا علاج کرتا ہوں، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا علاج کروں؟” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں خطبہ الحاجہ ارشاد فرمایا، جس کے کلمات یہ تھے: "إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔ أَمَّا بَعْدُ” (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد۔)

ضماد رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ یہ کلمات تین بار دہرائیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دہرایا، تو ضماد رضی اللہ تعالی عنہ ان الفاظ کی فصاحت، بلاغت اور روحانی تاثیر سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ پکار اٹھے: "میں نے کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں کے اقوال سنے ہیں، لیکن میں نے کبھی ایسے کلمات نہیں سنے۔ یہ کلمات تو سمندر کی گہرائیوں تک پہنچنے والے ہیں۔ میں نے اسلام قبول کیا!” انہوں نے اسی لمحے اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم (بنو ازد) کی طرف سے بھی بیعت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: "اور اپنی قوم کے لیے بھی؟” تو انہوں نے جواب دیا: "اور اپنی قوم کے لیے بھی۔” یہ ان کے قبیلے میں ان کے اثر و رسوخ کی دلیل تھی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ ان کا اسلام قبول کرنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ کلام اور صداقت سے متاثر ہو کر فوراً حق کو تسلیم کر لینا تھا۔ ان کا قبولِ اسلام ایک ایسے شخص کی طرف سے تھا جو ظاہری طور پر علاج کی نیت سے آیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے کھول دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی دعوت، اس کے کلمات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کس قدر مؤثر اور دلوں کو فتح کرنے والی تھی۔

انہوں نے اپنی قوم بنو ازد کی طرف سے بیعت کر کے اسلام کی دعوت کو مکہ سے باہر بھی پھیلانے میں ابتدائی کردار ادا کیا۔ اگرچہ ان کے بعد کی زندگی کے تفصیلی کارنامے جیسے غزوات میں شرکت یا دیگر سیاسی و سماجی خدمات کی معلومات زیادہ کتب میں تفصیل سے نہیں ملتیں، تاہم ان کی یہ پہلی ملاقات اور قبولِ اسلام ہی ان کے لیے ایک عظیم شرف اور اسلام کی تاریخ میں ایک یادگار واقعہ ہے۔ ان کی بدولت، ان کے قبیلے میں بھی اسلام کی روشنی پہنچی۔

میراث اور وصال

حضرت ضماد بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث ان کا وہ ایمان افروز واقعہ ہے جو احادیث کی کتابوں، جیسے صحیح مسلم، اور سیرت کی کتابوں میں مستقل طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ ان کی کہانی ہر اس شخص کے لیے ایک سبق ہے جو کسی تعصب یا غلط فہمی کی بنا پر حق سے دور ہو، کیونکہ ان کا دل اسلام کی سچائی کو پہچاننے میں ایک لمحہ بھی نہ لگا۔ وہ ان ابتدائی صحابہ میں سے تھے جنہوں نے بغیر کسی مادی لالچ یا دنیاوی مفاد کے صرف حق کی صداقت کو تسلیم کیا۔ ان کا قبولِ اسلام، نبوت کے دلائل میں سے ایک اہم دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ان کے وصال کے بارے میں مستند تاریخی حوالوں میں کوئی خاص تفصیلات نہیں ملتیں کہ ان کا وصال کب اور کیسے ہوا، لیکن یہ یقینی ہے کہ وہ اسلام پر قائم رہے اور صحابیت کے عظیم رتبے پر فائز رہے۔ ان کا ذکر کتبِ صحابہ میں ہمیشہ اس منفرد ملاقات اور قبولِ اسلام کے حوالے سے ہوتا ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب الخطبۃ التی لا تبدا بحمد اللہ
  • سیرت ابن ہشام، ذکر قدوم ضماد الأزدی وما کان منہ
  • تاریخ الطبری، ذکر بعثۃ النبی ﷺ
  • البدایۃ والنہایۃ از ابن کثیر، ذکر من أسلم من الأزد
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الأثیر، ضماد بن ثعلبہ الأزدی
  • الإصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی، ضماد بن ثعلبہ الأزدی