ضحاک بن سفیان رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ قریش کے بنو فہر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا پورا نام الضحاک بن سفیان بن معمر بن حبیب بن حارثہ بن مالک بن حبیب بن سعد بن لؤی تھا۔ آپ کا نسب ساتویں پشت میں لؤی بن غالب پر نبی اکرم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کی غیر معمولی بہادری، دلیری اور جسمانی طاقت کے باعث شہرت حاصل تھی۔ اسی لیے آپ ﷺ نے آپ کو کئی مہمات کا قائد مقرر فرمایا۔ آپ کا شمار سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں) میں ہوتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی پکار پر لبیک کہا۔ آپ نے مکہ مکرمہ میں ہی نبوت کے آغاز میں اسلام قبول فرما لیا تھا، اس وقت جب مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور انہیں قریش کی جانب سے شدید مظالم کا سامنا تھا۔ آپ نے بھی ابتدائی مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کو برداشت کیا اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے حبشہ کی ہجرت کی، جبکہ دیگر کے مطابق آپ ہجرت مدینہ سے قبل مکہ میں ہی صبر و استقامت کے ساتھ دین حق پر قائم رہے۔ آپ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے ہجرت مدینہ کا شرف حاصل کیا اور مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھنے اور اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے اسلامی تاریخ میں اپنی بہادری اور قیادت کے جوہر دکھائے۔ آپ ان جلیل القدر صحابہ میں سے تھے جنہوں نے تمام غزواتِ رسول ﷺ میں شرکت کی۔
- غزوات میں شرکت: آپ نے غزوہ بدر، احد، خندق، فتح مکہ اور دیگر تمام بڑے غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ کفار سے مقابلہ کیا اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے۔ آپ جنگ میں ثابت قدمی اور دلیرانہ کارروائیوں کے لیے معروف تھے۔
- سریّہ ضحاک بن سفیان: سات ہجری (یا بعض روایات کے مطابق نو ہجری) میں رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بنو کلاب کی طرف ایک سریّہ (چھوٹا فوجی دستہ) کا امیر مقرر فرما کر بھیجا۔ اس سریّہ کا مقصد ان قبائل کو اسلام کی دعوت دینا اور ان کی سرکشی کو دبانا تھا۔ آپ نے اس مہم کو کامیابی سے انجام دیا، جہاں بعض لوگوں نے مزاحمت کی تو آپ نے حکمت عملی اور بہادری سے انہیں زیر کیا۔ آپ نے ان کے قلعوں کو فتح کیا اور اسلامی فوج کی دھاک بٹھائی۔
- عامل اور سربراہ کی حیثیت سے: رسول اللہ ﷺ نے آپ کو آپ کی قوم بنو کلاب کے ایک حصے کا عامل (گورنر یا زکوٰۃ جمع کرنے والا) بھی مقرر فرمایا۔ یہ آپ پر حضور ﷺ کے مکمل اعتماد اور آپ کی انتظامی صلاحیتوں کا بین ثبوت تھا۔ آپ نے اپنے فرائض کو خوش اسلوبی سے انجام دیا اور عدل و انصاف کے ساتھ اپنے علاقے کے معاملات کو چلایا۔
آپ کی شجاعت، وفاداری اور قائدانہ صلاحیتوں کو رسول اللہ ﷺ نے سراہا اور آپ کو کئی اہم ذمہ داریاں سونپیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی خدمت میں گزارا۔
میراث اور وصال
ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام کی خدمت میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ آپ کی وفات کے حوالے سے مستند روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم اکثر مورخین کے مطابق آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک حیات پائی اور مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ بعض روایات میں آپ کی شہادت غزوہ یرموک میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہونے کا بھی ذکر ہے، لیکن پہلی رائے زیادہ معروف ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ کی میراث ایک بہادر مجاہد، ایک وفادار صحابی اور ایک قابل اعتماد قائد کی ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی ترویج و اشاعت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کا نام ہمیشہ اسلامی تاریخ کے روشن ستاروں میں شمار کیا جاتا رہے گا۔
مستند حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
- ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
- امام طبری، تاریخ الرسل والملوک
- امام بخاری، الأدب المفرد (بعض احادیث کے ضمن میں آپ کا ذکر)
