صهيب إبن سنان رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
صہیب بن سنان رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام صہیب بن سنان بن مالک النمری تھا۔ آپ کا تعلق بنو نمر بن قاسط قبیلے سے تھا جو عراق کے شہر موصل یا ابلہ (بصرہ کے قریب) کے باشندے تھے۔ آپ کی پیدائش سنہ 587 عیسوی کے قریب ہوئی۔ آپ کے والد سنان بن مالک اپنی قوم کے سرداروں میں سے تھے اور فارسی بادشاہ کسریٰ کے مقرر کردہ ابلہ کے گورنر کی طرف سے ایک علاقے کے والی (عامل) تھے۔
آپ کی ابتدائی زندگی کا ایک اہم اور دلخراش واقعہ آپ کی کم عمری میں رومیوں کے ہاتھوں گرفتاری ہے۔ ایک دن آپ اپنی والدہ کے ساتھ ایک بستی میں سیر کر رہے تھے کہ رومی فوجیوں نے حملہ کر دیا اور آپ کو گرفتار کر کے لے گئے۔ رومیوں نے آپ کو غلام بنا کر فروخت کر دیا۔ آپ نے رومی سلطنت میں اپنی جوانی گزاری، ان کی زبان سیکھی اور ان کے رسم و رواج سے واقف ہوئے۔ اسی وجہ سے آپ "صہیب الرومی” کے لقب سے مشہور ہوئے، اگرچہ آپ کی اصل عربی تھی۔
کئی سالوں بعد، آپ کو مکہ مکرمہ میں ایک معزز قریشی تاجر اور سخاوت میں مشہور شخصیت عبداللہ بن جدعان التیمی نے خریدا یا آپ خود وہاں پہنچ کر ان کی سرپرستی میں آ گئے اور بعد میں انہیں آزاد کر دیا گیا۔ صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کا رنگ سرخ تھا، جس کی وجہ سے بھی انہیں رومی کہا جاتا تھا۔ آپ اپنی ذہانت، فصاحت اور ایمانداری کی وجہ سے عبداللہ بن جدعان کے ہاں قابلِ احترام تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
عبداللہ بن جدعان کی سرپرستی میں مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران صہیب رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ کی دعوتِ حق کے بارے میں سنا۔ آپ ان ابتدائی افراد میں شامل تھے جنہوں نے اسلام کی پکار پر لبیک کہا۔
ایک دن، آپ نے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دارِ ارقم میں موجود ہیں اور وہاں ایمان کی دعوت دے رہے ہیں۔ آپ وہاں تشریف لے گئے اور اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر فوراً کلمۂ شہادت پڑھ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک ہی دن اسلام قبول کیا۔
آپ کے اسلام قبول کرنے کا زمانہ مکہ مکرمہ میں اسلام کے ابتدائی اور انتہائی مشکل دور میں سے تھا، جب مشرکینِ قریش مسلمانوں پر شدید مظالم ڈھاتے تھے۔ صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی دیگر نو مسلموں کی طرح سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ انہیں کفار کی جانب سے طعنے دیے جاتے، مارا پیٹا جاتا اور ہر قسم کی ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑتا، لیکن آپ ایمان پر ثابت قدم رہے۔ آپ کا ایمان اس قدر راسخ تھا کہ کوئی اذیت آپ کو راہِ حق سے ہٹا نہ سکی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات اور کارنامے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک روشن باب ہیں۔
- **ہجرت اور بے مثال قربانی:** آپ کا سب سے نمایاں کارنامہ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر مالی قربانی کا ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، تو صہیب رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا۔ لیکن قریش نے انہیں روک لیا اور کہا: "تم مکہ میں ایک غریب حال آئے تھے اور اب تمہارے پاس بہت مال ہے۔ تم یہ مال لے کر نہیں جا سکتے۔”
صہیب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ساری جمع پونجی اور مال و اسباب قریش کے حوالے کر دیا تاکہ وہ انہیں مدینہ جانے دیں۔ آپ نے ان سے فرمایا: "تم جانتے ہو کہ میں تمہارے بہترین تیر اندازوں میں سے ہوں، اور اللہ کی قسم، جب تک میرے پاس ایک بھی تیر ہے، تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے، اور پھر میں اپنی تلوار سے لڑوں گا جب تک وہ ٹوٹ نہ جائے۔ پھر جو چاہو کرو۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اپنے مال کا پتہ بتا دیتا ہوں جو میں نے مکہ میں رکھا ہے اور تم مجھے جانے دو۔”
قریش نے ان کی پیشکش قبول کر لی اور آپ اپنا سارا مال مکہ میں چھوڑ کر ہجرت کر گئے۔ جب آپ مدینہ کے قریب قبا پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دیکھ کر فرمایا: "ربح البیع أبا یحیى! ربح البیع!” (اے ابو یحییٰ! تمہاری تجارت نفع بخش رہی! تمہاری تجارت نفع بخش رہی!)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ” (سورۃ البقرۃ: 207) "اور انسانوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان بیچ ڈالتے ہیں، اور اللہ بندوں پر نہایت مہربان ہے”۔ یہ آپ کی بے مثال ایثار اور قربانی کی دلیل ہے جس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی راضی ہوئے۔ - **غزوات میں شرکت:** آپ نے غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام بڑے غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ حصہ لیا اور ہر محاذ پر ثابت قدمی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔
- **خلافتِ عمر میں امامت:** جب امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور آپ زخمی ہوئے، تو آپ نے صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کو اس وقت تک نماز پڑھائیں جب تک کہ نئے خلیفہ کا انتخاب نہ ہو جائے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا صہیب رضی اللہ تعالی عنہ پر غیر معمولی اعتماد اور ان کی امامت و فضیلت کا واضح ثبوت ہے۔
میراث اور وصال
صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی تقویٰ، سخاوت، اور اللہ کی راہ میں بے پناہ قربانی کا حسین امتزاج تھی۔
- **سخاوت اور خیرات:** آپ اپنی سخاوت اور غریبوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے مشہور تھے۔ بعض اوقات آپ پر اسراف کا الزام لگایا جاتا، مگر آپ ہمیشہ یہ جواب دیتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: "تم میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جو کھانا کھلاتا ہے (یعنی دوسروں پر خرچ کرتا ہے)۔” آپ کا شمار ان اصحاب میں ہوتا تھا جو غرباء و مساکین کا بے حد خیال رکھتے تھے۔
- **قرآن کی تلاوت:** آپ اپنی خوبصورت قراتِ قرآن کے لیے بھی مشہور تھے۔ آپ کی آواز میں قرآن سننا لوگوں کو بہت پسند تھا۔
- **وفات:** صہیب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، سنہ 38 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 39 ہجری) میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ اس وقت آپ کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی۔
- **میراث:** آپ کی زندگی مسلمانوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے، خاص طور پر ہجرت کے وقت آپ کی مالی قربانی آج بھی ایمان والوں کے لیے استقامت اور ایثار کا درس دیتی ہے۔ آپ نے ثابت کر دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ہر دنیاوی چیز قربان کی جا سکتی ہے۔
مستند حوالہ جات
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- ابن الأثیر، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ
- امام طبری، تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری)
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
- امام بخاری، صحیح بخاری (کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابہ إلی المدینۃ)
- امام مسلم، صحیح مسلم (کتاب الصلاۃ، باب استخلاف الإمام من یصلی بالناس إذا عرض لہ مرض)
