صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
صعصعہ بن ناجیہ بن عقال بن محمد بن سفیان بن مجاشع بن دارم تمیمی رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی اور بنو تمیم کے ایک ممتاز سردار تھے۔ آپ کا تعلق بنو مجاشع بن دارم کی شاخ سے تھا جو کہ بنو تمیم کا ایک ذیلی قبیلہ ہے۔ آپ عرب کے ان معدودے چند باوقار اور بااخلاق لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں بھی اعلیٰ انسانی اقدار کا مظاہرہ کیا۔ آپ کی فصاحت و بلاغت اور حکیمانہ رائے کی وجہ سے آپ اپنی قوم میں بہت محترم سمجھے جاتے تھے۔ آپ مشہور عرب شاعر الفرزدق (ہمام بن غالب) کے دادا تھے۔ آپ کے پوتے فخر سے آپ کے کارناموں کا ذکر کیا کرتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
اسلام سے قبل کا دور، جسے زمانہ جاہلیت کہا جاتا ہے، تاریک رسوم و رواج سے بھرا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک انتہائی ظالمانہ رسم بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا (وأد البنات) تھی۔ اس تاریک ماحول میں بھی صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالی عنہ نے انسانیت نوازی کی ایک روشن مثال قائم کی۔ آپ کو "محیی الموءودات” (زندہ درگور کی جانے والی بچیوں کو زندگی بخشنے والا) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ اس رسم کے سخت خلاف تھے اور جو لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کا ارادہ کرتے، آپ ان سے ان بچیوں کو خرید لیتے اور انہیں پالتے پوسے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ آپ نے زمانہ جاہلیت میں سینکڑوں بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا اور انہیں ایک نئی زندگی دی۔
جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت فرما چکے تھے اور اسلام کی دعوت پورے عرب میں پھیل رہی تھی، صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالی عنہ بنو تمیم کے ایک وفد کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ یہ وفد آپ کی قیادت میں آیا تھا اور اس کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو سمجھنا اور قبول کرنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں بیٹھ کر آپ نے اسلام قبول کیا اور اپنے ماضی کے نیک اعمال کا تذکرہ فرمایا۔ جب آپ نے اپنی ان بچیوں کو بچانے کی داستان سنائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا: "أدركت الإسلام على خير” (تم نے اسلام کو نیکی کی حالت میں پایا) اور ایک روایت کے مطابق یہ بھی فرمایا: "لك أجر ذلك” (تمہیں اس کا اجر ملے گا)۔ یہ آپ کے قبولِ اسلام کا ایک نمایاں اور سبق آموز پہلو تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ اور اسلامی تاریخ میں ان کی سب سے بڑی خدمت ان کا وہ عمل ہے جس کے ذریعے انہوں نے بے شمار معصوم بچیوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا۔ آپ کا یہ فعل زمانہ جاہلیت کے ظلم کے خلاف ایک مضبوط اخلاقی اور انسانی آواز کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ نے اس عمل سے انسانی جان کی حرمت اور عورت کی قدر و منزلت کو اجاگر کیا۔ آپ نے اس فعل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ انسانیت اور رحم دلی کے جذبات اسلام سے پہلے بھی موجود تھے، اور اسلام نے انہی نیک فطرت اعمال کو مزید جلا بخشی اور ان کی قدر و قیمت کو بڑھایا۔
آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اور وفادار صحابہ میں سے تھے، اور آپ نے اپنی زندگی کا بقیہ حصہ اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارا۔ آپ کی زندگی ان لوگوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے جو معاشرتی برائیوں کے خلاف کھڑے ہونا چاہتے ہیں اور انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کی یہ ادا اسلام کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ تھی کہ ہر جان محترم ہے اور خاص طور پر کمزوروں اور بے سہارا افراد کی مدد کرنا عظیم نیکی ہے۔
میراث اور وصال
صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور آپ نے اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق بسر کی۔ آپ کی وفات کے بارے میں تاریخ میں کوئی حتمی تاریخ یا سنہ درج نہیں ہے، لیکن روایات کے مطابق آپ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورِ خلافت میں بھی بقید حیات تھے، اور بعض روایات کے مطابق آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت کا ابتدائی حصہ بھی دیکھا۔
آپ کی میراث انسانیت نوازی، شفقت اور معاشرتی اصلاح کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ کا یہ کارنامہ کہ آپ نے زمانہ جاہلیت میں بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا، آپ کو ہمیشہ کے لیے تاریخ اسلام میں ایک عظیم المرتبت شخصیت کے طور پر زندہ رکھے گا۔ آپ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ نیکی کسی بھی دور اور حالت میں کی جا سکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ آپ کے پوتے الفرزدق نے اپنی شاعری میں آپ کے اس نیک عمل کا ذکر کر کے آپ کی یاد کو مزید تابندہ کیا۔ صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام رہتی دنیا تک ان عظیم ہستیوں میں شمار ہوتا رہے گا جنہوں نے انسانیت کے لیے بے پناہ خدمات انجام دیں۔
مستند حوالہ جات
- ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الكبرى.
- ابن عبد البر، يوسف بن عبد الله، الاستيعاب في معرفة الأصحاب.
- ابن الأثير، عز الدين أبو الحسن علي بن محمد، أسد الغابة في معرفة الصحابة.
- ابن حجر العسقلاني، احمد بن علي، الإصابة في تمييز الصحابة.
- البخاري، محمد بن إسماعيل، الأدب المفرد (کتاب: "باب فضل من عال یتیمۃ” یا "باب فضل من استنقذ موءودۃ”).
- الإمام أحمد بن حنبل، المسند.
- الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد، سير أعلام النبلاء.
- الطبري، محمد بن جرير، تاريخ الرسل والملوک.
