شعب الرومى رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق عرب کے قدیم اور معزز قبیلہ بنو نمر بن قاسط سے تھا۔ آپ کا پورا نام صہیب بن سنان بن مالک بن عبد عمرو النمرى تھا۔ آپ کی کنیت ابو یحییٰ تھی۔ آپ کے والد سنان بن مالک کسریٰ کے گورنر تھے اور ان کا علاقہ دجلہ اور فرات کے درمیان (موجودہ عراق میں، موصل کے قریب) تھا جسے "الثنی” کہا جاتا تھا۔

آپ کو "الرومی” کا لقب اس لیے دیا گیا کہ بچپن میں جب آپ ابھی کم سن ہی تھے، بازنطینی رومیوں نے اس علاقے پر حملہ کیا اور آپ کو دیگر قیدیوں کے ساتھ اغوا کر کے لے گئے اور انہیں غلام بنا لیا۔ آپ نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ رومیوں کے درمیان گزارا، ان کی زبان سیکھی اور انہی کے ماحول میں پلے بڑھے۔ اس وجہ سے آپ کی عربی میں رومی لہجے کی جھلک تھی اور اسی نسبت سے آپ "صہیب الرومی” کے نام سے مشہور ہوئے۔ بعد ازاں، آپ کو مکہ میں عبداللہ بن جدعان نے خریدا اور پھر آزاد کر دیا، یا آپ نے خود اپنی آزادی کی قیمت ادا کی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی غلامی اور قید میں گزری، جس نے انہیں بہت سے مصائب اور آزمائشوں سے دوچار کیا۔ رومیوں کے درمیان رہ کر آپ نے ان کی زبان اور ثقافت سے واقفیت حاصل کی۔ جب آپ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو مکہ تشریف لے آئے اور یہاں عبداللہ بن جدعان التیمی کے حلیف یا آزاد کردہ غلام (مولیٰ) کے طور پر زندگی بسر کرنے لگے۔

مکہ میں قیام کے دوران آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ حق کا علم ہوا۔ آپ ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے دارِ ارقم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ نے بغیر کسی تردد کے توحید کا راستہ اپنایا اور اپنی زندگی کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے وقف کر دیا۔ مکہ میں دیگر ابتدائی مسلمانوں کی طرح، حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی قریش کے شدید مظالم اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آپ پر ظلم ڈھائے گئے، لیکن آپ نے ثابت قدمی کا دامن نہ چھوڑا۔

جب ہجرت کا حکم آیا تو حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی مدینہ منورہ کی جانب رختِ سفر باندھا، لیکن قریش نے انہیں روک لیا اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنا سارا مال و اسباب چھوڑ کر جائیں۔ حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دین اور جان کو بچانے کے لیے بخوشی اپنا سارا مال قریش کے حوالے کر دیا تاکہ وہ ہجرت کر سکیں۔ جب آپ مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ربح البیع، أبا یحییٰ! ربح البیع!” (نفع بخش سودا کیا، اے ابو یحییٰ! نفع بخش سودا کیا!) اس آیت کا نزول بھی اسی واقعے کے بارے میں سمجھا جاتا ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾ (البقرہ: 207) "اور لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتے ہیں، اور اللہ بندوں پر نہایت مہربان ہے۔”

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں سخاوت سے بھری پڑی تھی۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد، آپ نے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی، جن میں غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر شامل ہیں۔ آپ میدانِ جنگ میں ایک دلیر اور نڈر سپاہی ثابت ہوئے۔

آپ کی ایک نمایاں صفت سخاوت تھی۔ آپ اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعد مسجد نبوی کی تعمیر فرما رہے تھے تو آپ نے تعمیراتی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ وہ صحابی ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صھیب سابق الروم” (صہیب رومیوں میں سبقت لے جانے والا ہے)۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے آخری وقت میں جب انہیں ابولؤلؤ فیروز نے خنجر سے زخمی کر دیا تھا، چھ صحابہ پر مشتمل شوریٰ تشکیل دی تھی تاکہ آئندہ خلیفہ کا انتخاب ہو سکے، اور اس دوران نمازوں کی امامت کے لیے حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ کو مقرر فرمایا۔ یہ آپ کی دینی اور معاشرتی حیثیت کا واضح ثبوت ہے کہ خلیفہ وقت نے اتنے حساس اور نازک وقت میں آپ پر اعتماد کیا۔ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جنازہ بھی پڑھائی۔

میراث اور وصال

حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل، پرہیزگار اور باایمان زندگی گزاری۔ آپ نے تقریباً 70 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کا وصال حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں 38 ہجری یا بعض روایات کے مطابق 39 ہجری میں ہوا۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

آپ نے اپنے پیچھے اسلام اور مسلمانوں کے لیے قربانی، ایثار، سخاوت اور شجاعت کی لازوال میراث چھوڑی۔ آپ کا ہجرت کے لیے اپنا سارا مال لٹا دینا اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جملہ "ربح البیع” آپ کی ایمانی غیرت اور دنیوی مال کی بے ثباتی پر پختہ یقین کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ کی زندگی اس بات کا عملی نمونہ ہے کہ جب ایمان دل میں گھر کر جائے تو انسان کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
  • طبری، تاریخ الامم والملوک
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب
  • ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
  • صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ البقرہ، آیت 207 سے متعلق روایات