سہل بن بیضا رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت سہل بن بیضا رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام سہل بن عبد اللہ بن الارقم بن عبد مناف بن وہب بن ثعلبہ بن مالک بن فہر تھا۔ آپ قریش کے معزز قبیلے بنو فہر سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام بیضا بنت عمارہ تھا، اور اسی نسبت سے آپ "ابن بیضا” (بیضا کے بیٹے) کے نام سے مشہور ہوئے، جیسا کہ اس دور میں بعض اوقات بیٹوں کو ماں کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ آپ کے ایک بھائی حضرت سہیل بن بیضا رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے جو جلیل القدر صحابہ کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کا خاندان شرافت اور نیک نامی کے لیے مشہور تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت سہل بن بیضا رضی اللہ تعالی عنہ نے مکہ مکرمہ کے دورِ جہالت میں پرورش پائی۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ حق کے آغاز میں ہی اسلام قبول کر لیا۔ آپ کا شمار سابقون الاولون (اولین اسلام قبول کرنے والوں) میں ہوتا ہے۔ جب کفارِ مکہ کی جانب سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بڑھ گیا اور ان کا ایمان خطرے میں پڑ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر آپ نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ہجرتِ حبشہ ثانیہ (دوسری ہجرت حبشہ) میں شرکت فرمائی۔ بعد ازاں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ بھی مدینہ تشریف لے آئے اور یہاں مہاجرینِ اولین میں شامل ہوئے۔ آپ نے حبشہ اور مدینہ، دونوں ہجرتوں کا شرف حاصل کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت سہل بن بیضا رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں گزاری۔ آپ نے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا، جن میں غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق، اور دیگر تمام مشاہدِ نبویہ شامل ہیں۔ اہل بدر میں شمار ہونا آپ کے عظیم مقام و مرتبے کی دلیل ہے۔ آپ کی ثابت قدمی، تقویٰ، اور دین کے لیے فدا کاری مثالی تھی۔ غزوات میں آپ نے بھرپور شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور ہر مشکل مرحلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ساتھی ثابت ہوئے۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور اسلامی تعلیمات کی پیروی میں صرف کیا۔
میراث اور وصال
حضرت سہل بن بیضا رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک متقی اور پرہیزگار زندگی گزاری۔ آپ کا وصال امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، سن 15 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ بعض روایات میں سن 33 ہجری بھی مذکور ہے، تاہم اکثر مؤرخین اور سیرت نگار سن 15 ہجری پر متفق ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی زندگی اسلام کے ابتدائی دور کے جلیل القدر صحابہ کرام کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ کی میراث دینِ اسلام کے لیے بے لوث خدمت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت، اور غزوات میں شرکت کی صورت میں آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مستند حوالہ جات
- ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، دار إحیاء التراث العربی، بیروت۔
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، دار صادر، بیروت۔
- ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، دار الجیل، بیروت۔
- ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، دار الفکر، بیروت۔
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، دار الجیل، بیروت۔
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، دار الفکر، بیروت۔
