سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام سمرہ بن جندب بن ہلال بن حریج بن مرہ بن سعد الفزاری تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ غطفان کی شاخ فزارہ سے تھا۔ آپ کے والد جندب بن ہلال کا انتقال جلدی ہو گیا تھا، جس کے بعد آپ کی والدہ نے مدینہ کے قبیلہ بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے حضرت مرّی بن سنان انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے شادی کر لی۔ اس طرح سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں اپنی والدہ اور سوتیلے والد کے ساتھ مقیم ہوئے اور انصار کے حلیف کے طور پر شمار ہونے لگے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو اسمعیل (چھوٹا اسمعیل) کا لقب بھی دیا جاتا تھا، جو آپ کی مضبوط شخصیت اور حکمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ایک بہادر، سمجھدار اور حق گو صحابی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش دورِ جاہلیت میں ہوئی۔ آپ نے اپنی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ میں گزاری۔ جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر کم تھی، اس وقت آپ نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ان نوجوان صحابہ میں سے تھے جن میں جہاد کا شوق بہت زیادہ تھا۔ غزوہ احد کے موقع پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کم عمری کی وجہ سے اجازت نہیں دی۔ آپ کے ساتھ ایک اور نوجوان صحابی حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے جنہیں ان کی تیر اندازی کی مہارت کی وجہ سے اجازت مل گئی۔ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ وہ رافع بن خدیج کو کشتی میں پچھاڑ سکتے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا مقابلہ کروایا۔ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رافع رضی اللہ تعالی عنہ کو پچھاڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی جنگ میں شرکت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ یہ واقعہ ان کے عزم، بہادری اور جسمانی قوت کا ابتدائی ثبوت ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلامی تاریخ میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے کئی غزوات میں حصہ لیا۔

  • غزوات میں شرکت: آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ احد، خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین اور تبوک سمیت کئی اہم غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے۔
  • بصرہ کی گورنری: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ بعض روایات کے مطابق، حضرت زیاد بن ابیہ کے انتقال کے بعد آپ کو بصرہ کا والی بنایا گیا، اور بعض کے مطابق حضرت زیاد کی غیر موجودگی میں آپ نے قائم مقام گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دورِ حکومت میں نہایت سختی اور عدل کے ساتھ امورِ مملکت چلائے۔ آپ عدل و انصاف کے قیام اور انتظامی معاملات میں بہت مستعد تھے۔
  • روایتِ حدیث: آپ رضی اللہ تعالی عنہ جلیل القدر محدثین میں سے تھے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر احادیث روایت کیں۔ آپ کی روایات میں فقہی احکام، اخلاقی تعلیمات اور معاشرتی اصول نمایاں ہیں۔ مشہور حدیث "لا ضرر ولا ضرار” (نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ) آپ ہی کی روایت کردہ ہے، جو اسلامی قانون (فقہ) کا ایک بنیادی اصول ہے۔
  • علم و تقویٰ: آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو آپ کے علم و فہم اور تقویٰ کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ آپ کا شمار ان اصحابِ علم میں ہوتا تھا جو قرآنی آیات اور نبوی تعلیمات کی گہری سمجھ رکھتے تھے۔

میراث اور وصال

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت، جہاد اور اسلامی ریاست کے انتظامی امور کو سنبھالنے میں صرف کیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث میں سب سے اہم آپ کی روایت کردہ احادیث ہیں جو آج بھی امت کے لیے رہنما اصول ہیں۔ آپ کا انتظامی وژن اور عدل و انصاف کے لیے کی گئی جدوجہد بھی قابلِ تقلید ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات بصرہ میں ہوئی، جہاں آپ گورنر کے عہدے پر فائز تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سنِ وفات کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض مؤرخین 58 ہجری، بعض 59 ہجری اور بعض 60 ہجری کا ذکر کرتے ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے 58 ہجری کو راجح قرار دیا ہے۔ یہ بھی منقول ہے کہ آپ کا انتقال اچانک کسی بیماری یا کھانے کے وقت ہوا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اسلام کی خدمت جاری رکھی اور ایک باعزت اور باوقار زندگی گزاری۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح البخاری
  • صحیح مسلم
  • سیر أعلام النبلاء للذهبي
  • أسد الغابة في معرفة الصحابة لابن الأثير
  • الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني
  • تاریخ الطبري
  • البداية والنهاية لابن كثير