سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام سعید بن عامر بن حذیم بن سلامان بن ربیعہ بن سعد بن جمح القرشی الجمحی تھا۔ آپ قریش کے قبیلہ بنو جمح سے تعلق رکھتے تھے، جو مکہ کے معزز قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ڈھال لیا۔ آپ کا لقب یا کنیت معروف نہیں، لیکن آپ اپنی دینداری، زہد اور تقویٰ کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی مکہ میں گزری۔ قبولِ اسلام سے قبل آپ کی جوانی کے ایام تھے۔ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے۔ آپ کے قبولِ اسلام کا واقعہ انتہائی اثر انگیز اور ایک خاص واقعہ سے جڑا ہوا ہے۔ مکہ کے مشرکین نے جب حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے کا ارادہ کیا، تو حضرت سعید بن عامر بھی تماشا دیکھنے والوں میں موجود تھے۔ جب حضرت خبیب رضی اللہ تعالی عنہ کو سولی پر چڑھایا گیا اور انہوں نے اپنی زندگی کی آخری دعا میں اللہ سے التجا کی کہ "اے اللہ! میرے قتل کرنے والوں میں سے ایک کو بھی مت چھوڑنا،” اور فرمایا کہ "میں اللہ کی راہ میں مر رہا ہوں، مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں کس کروٹ پر گروں گا،” تو حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس منظر اور ان دعائیہ کلمات کو براہ راست سنا اور دیکھا۔ اس واقعے نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا اور وہ فوراً اسلام کی حقانیت کو پہچان گئے اور کلمہ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نے مکہ میں مشکل حالات میں دین پر استقامت کا مظاہرہ کیا اور ہجرتِ نبوی کے بعد مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ آپ نے کئی غزوات میں شرکت کی اور اسلامی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں سب سے نمایاں پہلو آپ کی حکمرانی اور خدمات ہیں جو انہوں نے خلافتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ میں انجام دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو شام کے ایک اہم شہر حمص کا گورنر (والی) مقرر فرمایا۔ یہ تقرری حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابہ کرام کی قابلیت اور دیانت پر مبنی انتخاب کی بہترین مثال ہے۔
ایک مرتبہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حمص کا دورہ کیا تو لوگوں سے ان کے والی کے بارے میں شکایات پوچھیں۔ لوگوں نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف چار شکایات پیش کیں جو دراصل ان کی دینداری اور تقویٰ کی نشانیاں تھیں۔
- وہ بہت دیر سے ہمارے پاس آتے ہیں۔ (یعنی سورج چڑھنے کے بعد)
- رات کو کسی کو جواب نہیں دیتے۔ (یعنی ملاقات نہیں کرتے)
- مہینے میں ایک دن وہ بالکل غائب ہو جاتے ہیں۔
- انہیں کبھی کبھار بے ہوشی کا دورہ پڑتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے ان شکایات کی وضاحت طلب کی۔ انہوں نے جواب دیا:
- میں صبح کی نماز پڑھ کر کافی دیر تک اللہ کی عبادت اور ذکر میں مشغول رہتا ہوں، جب تک کہ میری نماز مکمل نہ ہو جائے اور میں اللہ کے ساتھ اپنا وقت نہ گزار لوں، اس کے بعد ہی لوگوں کے لیے نکلتا ہوں۔
- رات کا وقت میں نے اللہ کے لیے وقف کر رکھا ہے، رات کو میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور سوائے اس کے کسی کام میں مشغول نہیں ہوتا۔
- مہینے میں ایک دن میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں کیونکہ میرے پاس صرف یہی ایک جوڑا کپڑا ہے جو میں پہنتا ہوں، اور میں اس دوران خشک ہونے کا انتظار کرتا ہوں۔
- مجھے گاہے بگاہے حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا منظر یاد آ جاتا ہے جب میں ایک کافر کی حیثیت سے انہیں سولی پر چڑھتے دیکھ رہا تھا اور ان کی مدد نہیں کر سکا تھا، اس خیال سے میرا دل بھر آتا ہے اور میں بے ہوش ہو جاتا ہوں۔
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کو سینے سے لگا لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کی رعایا پر ایسا نیک اور پرہیزگار حاکم مقرر ہے۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کا زہد، تقویٰ، عدل اور پرہیزگاری حکمرانوں کے لیے ایک مثال بن گئی۔ آپ نے حمص میں رہتے ہوئے بہت سادہ زندگی گزاری اور اپنی تنخواہ سے ضرورتمندوں کی مدد کرتے رہے۔
میراث اور وصال
حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی اللہ اور اس کے بندوں کی خدمت میں گزاری۔ آپ کا وصال حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں سن 20 ہجری کے لگ بھگ حمص، شام میں ہوا، جہاں آپ نے بحیثیت والی خدمات انجام دیں۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی وفات کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ سعید پر رحم فرمائے۔” آپ نے کوئی مال و دولت نہیں چھوڑی، بلکہ آپ کی سب سے بڑی میراث آپ کا بہترین کردار، دینداری، زہد اور تقویٰ تھا جو آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کو ایک بہترین حاکم اور ایک کامل صحابی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی زندگی ایک ایسے مسلمان کی مثال ہے جو دنیاوی عہدوں اور آسائشوں کے بجائے صرف اللہ کی رضا اور آخرت کی فکر میں رہتا ہے۔
مستند حوالہ جات
- الاصابۃ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
- سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- تاریخ طبری از امام طبری
