سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بن عبد العزی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب العدوی القرشی تھا۔ آپ قریش کے بنو عدی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی قبیلہ تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے چچا زاد بھائی تھے اور رشتے میں بہنوئی بھی تھے کیونکہ آپ کی زوجہ محترمہ فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی سگی بہن تھیں۔

آپ کے والد، حضرت زید بن عمرو بن نفیل، زمانہ جاہلیت کے ان چند موحدین میں سے تھے جنہوں نے شرک و بت پرستی کو یکسر رد کر دیا تھا اور دین ابراہیمی کے پیروکار تھے۔ آپ بتوں کے لیے ذبح کیے گئے جانوروں کا گوشت نہیں کھاتے تھے، اور اکثر یہ دعا کرتے تھے کہ "اے اللہ! اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کا طریقہ کیا ہے تو میں ویسے ہی تیری عبادت کرتا، لیکن میں نہیں جانتا۔” ان کے اسی توحید پرستانہ طرزِ عمل کا گہرا اثر حضرت سعید رضی اللہ تعالی عنہ کی تربیت پر بھی پڑا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرام جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی) میں ہوتا ہے، اور آپ سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے) میں شامل تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ آپ کے والد کے توحید پرستانہ خیالات نے آپ کے دل میں شرک سے نفرت اور حق کی تلاش کا جذبہ پیدا کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام کا آغاز ہوتے ہی، حضرت سعید رضی اللہ تعالی عنہ نے بلا جھجک اسلام قبول کر لیا۔ آپ ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، اس وقت اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں کی تعداد بمشکل چند درجن تک پہنچی تھی۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زوجہ محترمہ فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ تعالی عنہا کے ہمراہ اسلام قبول کیا اور یہ دونوں بہادری اور استقامت کا پہاڑ ثابت ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی آپ ہی کے گھر سے منسلک ہے۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی نیت سے تلوار لے کر نکلے، راستے میں کسی نے انہیں بتایا کہ پہلے اپنی بہن اور بہنوئی کی خبر لو جو مسلمان ہو چکے ہیں۔ حضرت عمر غصے میں طیش میں بھرے ہوئے آپ کے گھر پہنچے، جہاں آپ اور حضرت فاطمہ سورہ طٰہٰ کی تلاوت کر رہے تھے اور حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالی عنہ انہیں قرآن سکھا رہے تھے۔ حضرت عمر کی آمد پر حضرت خباب چھپ گئے، اور جب حضرت عمر نے تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا کہ کیا کر رہے تھے تو حضرت سعید اور حضرت فاطمہ نے کمال دلیری سے اپنے ایمان کا اقرار کیا۔ اس پر حضرت عمر نے حضرت سعید اور حضرت فاطمہ کو مارا یہاں تک کہ حضرت فاطمہ کے چہرے سے خون بہہ نکلا۔ اس منظر اور پھر قرآن پاک کے چند کلمات سننے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں ہدایت کی شمع روشن ہوئی اور وہ خود اسلام لے آئے۔ یہ واقعہ حضرت سعید رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پختہ ایمان اور ثابت قدمی کی دلیل ہے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو قریش کی جانب سے شدید مظالم اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ نے اپنے ایمان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ بعد ازاں، آپ نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلامی تاریخ میں بیشمار نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر بڑے معرکے میں شریک رہے، سوائے غزوہ بدر کے۔ غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالی عنہما کو ابوسفیان کے قافلے کی جاسوسی کے لیے بھیجا تھا تاکہ اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس مہم سے واپسی پر غزوہ بدر ختم ہو چکا تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو غنیمت میں سے حصہ دیا، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر گئے تھے۔

آپ ایک بہادر اور جری جنگجو تھے۔ غزوہ احد، غزوہ خندق، اور فتح مکہ سمیت تمام بڑے معرکوں میں آپ نے اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے اور اسلام کی سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ آپ نے خلافتِ راشدہ کے دوران بھی اسلامی فتوحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خصوصاً شام کی فتوحات میں آپ کا نمایاں کردار رہا۔ جنگ یرموک میں آپ کی بہادری اور ثابت قدمی ایک مثال تھی۔

آپ کی امانت و دیانت اور راست بازی کی کئی روایات ملتی ہیں۔ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک عورت ارویٰ بنت اوس نے آپ پر زمین ہتھیانے کا جھوٹا الزام لگایا۔ اس پر حضرت سعید رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ دعا کی: "اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے اندھا کر دے اور اسے اس کی زمین میں ہی موت دے۔” راوی بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد وہ عورت نابینا ہو گئی اور اپنی ہی زمین پر چلتے ہوئے ایک گڑھے میں گر کر مرگئی۔ یہ واقعہ آپ کی دعاؤں کی قبولیت اور اللہ تعالی کے ہاں آپ کے مقام کی دلیل ہے۔

آپ کا شمار اہل علم صحابہ میں ہوتا تھا، اور آپ سے چند احادیث بھی مروی ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں گزاری۔

میراث اور وصال

حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی رضا کے حصول میں صرف کیا۔ آپ نے سادگی، تقویٰ، اور سچائی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابہ کرام میں سے تھے۔

آپ کا وصال سن 50 ہجری (بعض روایات میں 51 ہجری یا 52 ہجری) میں مدینہ منورہ کے قریب مقام عقیق میں ہوا۔ آپ کی وفات کے وقت آپ کی عمر 70 سال سے زائد تھی۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھائی اور آپ کو مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنے پیچھے ایک عظیم ورثہ چھوڑا، جو اخلاص، استقامت، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری کی مثال ہے۔ آپ کا نام تاریخِ اسلام میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، بطور ایک عظیم صحابی، ایک بہادر مجاہد، اور عشرہ مبشرہ کے ایک روشن ستارے کے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب المناقب
  • صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ
  • تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری) از امام طبری
  • البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
  • سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر جزری