سعد بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت سعد بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام سعد بن عبید بن النعمان بن نائل بن زید بن امیہ بن زید الانصاری الاوسی تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ اوس کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تھا۔ یہ وہی شاخ ہے جس سے قبا کی مشہور مسجد کا تعلق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ‘قاری الانصار’ (انصار کے قاری) کے لقب سے جانا جاتا تھا اور بعض اوقات ‘سید القراء’ (قاریوں کے سردار) بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ آپ ان چند خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مکمل قرآن حفظ کر لیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنی خوش الحانی اور قرآت کی مہارت کی وجہ سے مشہور تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت سعد بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ آپ مدینہ منورہ (یثرِب) کے معززین میں سے تھے۔ آپ نے انصار مدینہ کے ان اوائل مجاہدین میں سے تھے جنہوں نے ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل اسلام قبول کیا۔ آپ انصار کے ان ستّر (70) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شامل تھے جنہوں نے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ ہجرت کے لیے راستہ ہموار کیا۔ اس بیعت میں آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارہ نقباء (سرداروں) میں سے ایک منتخب فرمایا تھا، جن پر اپنے اپنے قبیلے کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کے لیے اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور تربیت کا فریضہ بخوبی سرانجام دیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت سعد بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور پہچان قرآن کریم کا حفظ اور اس کی تلاوت تھی۔ آپ انصار مدینہ کے چند ان جلیل القدر صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں ہی مکمل قرآن حفظ کر لیا تھا۔ آپ کی تلاوت میں غیر معمولی حُسن اور تاثیر تھی، جس کی وجہ سے آپ کو ‘قاری الانصار’ کا شرف حاصل ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر، احد، خندق اور غزوات فتح مکہ سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام اہم غزوات اور معرکوں میں شرکت فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جہاد فی سبیل اللہ اور اسلام کی سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نہ صرف ایک عظیم قاری تھے بلکہ ایک بہادر جنگجو اور اسلام کے ایک سچے وفادار سپاہی بھی تھے۔

میراث اور وصال

حضرت سعد بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ اسلام کی خدمت میں گزارا اور بالآخر 12 ہجری میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ہونے والی جنگِ یمامہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ یہ جنگ مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی، جس میں بے شمار حفاظِ قرآن اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شہادت پائی۔ حضرت سعد بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، کیونکہ اس جنگ میں کثیر تعداد میں حفاظِ قرآن کی شہادت کے بعد ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے قرآن مجید کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کرنے کا حکم جاری فرمایا۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کا وصال امت مسلمہ کے لیے قرآن مجید کی حفاظت اور تدوین کا ایک اہم سبب بن گیا۔ حضرت سعد بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث ایک عظیم قاری، سچے مجاہد اور دین کے فدائی کی ہے، جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اسلام کو سربلند کیا۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، دارالفکر، بیروت، لبنان۔
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔
  • ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، دارالجیل، بیروت، لبنان۔
  • ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، دارالفکر، بیروت، لبنان۔
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان۔
  • طبری، تاریخ الامم والملوک، دارالتراث، بیروت، لبنان۔