سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلے خزرج سے تھا، اور آپ انصارِ مدینہ کے جلیل القدر سرداروں میں سے تھے۔ آپ کا پورا نام سعد بن ربیع بن عمرو بن ابی زہیر بن مالک بن امرؤ القیس بن مالک الاغر الانصاری الخزرجی تھا۔ آپ ان بارہ نقیبوں میں سے تھے جن کا انتخاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر فرمایا تھا تاکہ وہ اپنی قوم کے معاملات میں ذمہ داری سنبھالیں اور اسلام کی دعوت کو آگے بڑھائیں۔ آپ کا گھرانہ سخاوت، مہمان نوازی اور اسلام سے والہانہ محبت کے لیے مشہور تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی جوانی مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں گزاری۔ آپ قبیلہ خزرج کے ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لبیک کہا۔ آپ ان خوش نصیب اصحاب میں سے تھے جو بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ دونوں میں شریک ہوئے۔ بالخصوص بیعت عقبہ ثانیہ میں، جو ہجرت مدینہ سے قبل ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی تھی، آپ نے اپنے قبیلے کی نمائندگی کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، یہ عہد کرتے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر طرح سے حفاظت کریں گے اور آپ کی مدد کے لیے اپنی جان و مال قربان کر دیں گے۔ اسی موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنی حارثہ کے لیے نقیب (ذمہ دار) مقرر فرمایا تھا۔ آپ کا قبولِ اسلام خالص ایمان اور یقین پر مبنی تھا، اور آپ نے ہجرت سے قبل ہی مدینہ میں اسلام کی ترویج اور اشاعت میں نمایاں کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کئی ایسے درخشاں واقعات سے مزین ہے جو آپ کی عظمت، ایثار اور فداکاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
- مواخات کا عظیم الشان مظاہرہ: ہجرت مدینہ کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) قائم فرمایا تو آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنا دینی بھائی بنایا۔ اس موقع پر آپ نے ایثار و قربانی کی ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہے۔ آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: "میرے بھائی! میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ میرے پاس دو باغات اور دو بیویاں ہیں۔ میں اپنے ایک باغ کا آدھا حصہ تمہیں دیتا ہوں اور میری دونوں بیویوں میں سے جو تمہیں زیادہ پسند آئے میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، عدت کے بعد تم اس سے نکاح کر لینا۔” حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ پیشکش شکریے کے ساتھ رد کر دی اور صرف بازار کی رہنمائی چاہی، لیکن حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ پیشکش ایثار و مواسات کی وہ لازوال داستان بن گئی جو قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔
- غزوات میں شرکت: آپ نے غزوہ بدر میں شرکت فرمائی جہاں آپ نے بہادری کے جوہر دکھائے۔
- غزوہ احد میں شہادت: غزوہ احد میں آپ نے کمال شجاعت سے لڑائی کی اور کثیر زخموں کے باعث جام شہادت نوش فرمایا۔ جنگ کے اختتام پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت سعد بن ربیع کو تلاش کریں اور میرا سلام کہیں، تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو شدید زخمی حالت میں پایا۔ آپ پر ستر سے زائد زخم تھے اور آپ نزعی کیفیت میں تھے۔ اس حالت میں بھی آپ نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت دریافت کی اور فرمایا: "میرے انصاری بھائیوں کو میرا سلام پہنچا دینا اور ان سے کہنا کہ اگر تمہاری آنکھیں جھپک رہی ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچے تو تمہارے لیے اللہ کے سامنے کوئی عذر نہ ہوگا۔” یہ الفاظ آپ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت، غیرت ایمانی اور آخری دم تک وفاداری کا ثبوت ہیں۔ آپ نے اسی وصیت کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا۔
میراث اور وصال
حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ احد کے دن 3 ہجری میں جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت اس بات کا گواہ تھی کہ آپ نے بیعت عقبہ میں کیے گئے وعدے کو سچ کر دکھایا۔ آپ نے اپنے پیچھے بیوائیں اور بیٹیاں چھوڑی تھیں جن کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان میں ملتا ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی میراث کے متعلق احکام بیان فرمائے۔ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ایثار، قربانی، فداکاری اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت کی زندہ مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ ان صحابہ کرام میں سے ہیں جنہوں نے اپنی جان و مال سب کچھ دین کی راہ میں قربان کر دیا اور رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے عظیم مثال بن گئے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام)
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
- البدایۃ والنہایة لابن کثیر
- صحیح بخاری (کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب مواخاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بین أصحابہ)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی
