سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلے خزرج کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تھا۔ آپ کے والد محترم، خیثمہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ، بھی جلیل القدر صحابی اور ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔ یہ خاندان دینِ اسلام کے لیے غیر معمولی جوش و جذبے اور قربانی کے لیے مشہور تھا، خصوصاً باپ اور بیٹے دونوں کی شہادت کی تمنا ایک نمایاں صفت تھی۔ آپ انصار مدینہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کا بیڑا اٹھایا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں آنکھ کھولی۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہیں اسلام کی دعوت بہت ابتدائی مراحل میں پہنچی اور انہوں نے بلا تاخیر لبیک کہا۔ آپ ان اولین بارہ افراد میں شامل تھے جنہوں نے عقبہ اولیٰ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور دینِ اسلام کو قبول کیا۔ بعد ازاں، آپ عقبہ ثانیہ میں بھی شریک تھے جہاں ستر سے زائد انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ ہجرت کی دعوت دی اور ہر قسم کی حمایت و نصرت کا وعدہ کیا۔ آپ نے اپنے آبائی شہر میں اسلام کی اشاعت اور نو مسلموں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی مواخات (بھائی چارہ) مہاجر صحابی ابو سلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ تعالی عنہ (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے شوہر) کے ساتھ کروائی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں سب سے نمایاں کارنامہ غزوۂ بدر میں ان کی شرکت اور شہادت ہے۔ جب غزوۂ بدر کا موقع آیا، تو آپ کے والد خیثمہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ دونوں نے جہاد میں حصہ لینے کی تمنا ظاہر کی۔ آپ کے والد نے اپنے بیٹے سعد کو گھر رہنے کا کہا کیونکہ ان کے علاوہ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ تاہم، سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت کی تڑپ میں فرمایا: "واللہ! میں جنت کے علاوہ کسی چیز کے لیے آپ کو ترجیح نہ دوں گا۔” اس پر دونوں نے قرعہ اندازی کی، اور قرعہ سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام نکلا۔ چنانچہ، آپ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے اور پامردی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ انصار میں سے غزوۂ بدر کے پہلے شہید تھے، اور آپ کو طعیمہ بن عدی یا عمرو بن عبدود نے شہید کیا۔ آپ کی شہادت دینِ اسلام کے لیے بے مثال ایثار و قربانی کی درخشاں مثال ہے۔
میراث اور وصال
سعد بن خیثمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ۲ ہجری میں غزوۂ بدر کے موقع پر شہادت پائی۔ آپ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ ابتدائی مسلمان کس قدر شہادت کے شوقین اور اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ آپ کی زندگی، بالخصوص اپنے والد کے ساتھ جہاد میں شرکت کی تمنا کا واقعہ، مسلم نوجوانوں کے لیے ایثار، فداکاری اور دین سے گہری وابستگی کا ایک شاندار سبق ہے۔ آپ کا نام غزوۂ بدر کے شہداء کی فہرست میں شامل ہے، جو اسلام کی تاریخ کے روشن ستاروں میں سے ہیں۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- الطبقات الکبریٰ از ابن سعد
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
- تاریخ طبری
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
