زید بن سہل رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
زید بن سہل رضی اللہ عنہ، جو اپنی کنیت "ابو طلحہ انصاری” کے نام سے زیادہ مشہور ہیں، جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک ہیں۔ آپ کا مکمل نام زید بن سہل بن الاسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار الانصاری الخزرجی ہے۔ آپ مدینہ منورہ کے معزز قبیلہ بنو نجار سے تعلق رکھتے تھے، جو قبیلہ خزرج کی ایک شاخ تھی۔ آپ کی والدہ کا نام السعَب بنت قیس تھا۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا شمار انصار کے بڑے سرداروں اور بہادر شہسواروں میں ہوتا تھا اور آپ قبولِ اسلام سے قبل بھی اپنے قبیلے میں نمایاں حیثیت کے حامل تھے۔ آپ کے خاندان کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی نسبت حاصل تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا تعلق بھی بنو نجار سے تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، مشہور خادم رسول، آپ کے سوتیلے بیٹے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ میں گزری، جہاں آپ اپنی قوم میں عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ کو اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی قریشِ مکہ اور اہل یثرب کے درمیان ہونے والے معاہدۂ عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی تھیں۔
آپ کا قبولِ اسلام ایک انتہائی منفرد اور متاثر کن واقعہ ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی دور میں مدینہ میں اسلام قبول کیا۔ آپ کی زوجہ محترمہ، اُم سلیم رضی اللہ عنہا (جو حضرت انس بن مالک کی والدہ تھیں)، آپ سے پہلے ہی اسلام قبول کر چکی تھیں۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اُم سلیم کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ایک مشرک سے نکاح نہیں کر سکتی۔ اگر تم اسلام قبول کر لو تو میرا مہر تمہارا قبولِ اسلام ہی ہوگا۔ یہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا کی طرف سے دعوتِ اسلام کی ایک بے مثال حکمت تھی۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس بات پر غور کیا اور آخرکار حق کو پہچانتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ آپ کا اسلام قبول کرنا اس بات کی دلیل تھا کہ آپ فطرتِ سلیمہ کے مالک تھے اور حق کو قبول کرنے میں دیر نہیں کی۔ اس کے بعد آپ نے نہایت اخلاص کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کر دی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت، اشاعت اور دفاع میں گزارا۔ آپ کئی غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ لڑے اور بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔
- **غزوۂ اُحد:** یہ غزوہ آپ کے نمایاں ترین کارناموں میں سے ایک ہے۔ جب جنگ کا پانسہ پلٹا اور مسلمان بکھر گئے تو اس مشکل گھڑی میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ان چند صحابہ میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد سیسہ پلائی دیوار بن گئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ اور سینہ مبارک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھال بنا لیا تھا اور تیروں کی بارش کو اپنے جسم پر روکتے رہے۔ آپ ایک ماہر تیر انداز تھے، اور اس روز آپ نے کثرت سے تیر چلائے یہاں تک کہ کئی کمانیں آپ کے ہاتھ میں ٹوٹ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تیر اندازی سے اتنے متاثر ہوئے کہ آپ نے فرمایا: "ارْمِ أَبَا طَلْحَةَ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي” (تیر چلاؤ ابو طلحہ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں!)۔ یہ اعزاز بہت کم صحابہ کرام کو حاصل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی سر اٹھا کر دیکھتے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ اپنا سر بلند نہ کیجیے، کہیں کوئی تیر آ کر نہ لگ جائے۔ میرا سینہ آپ کے سینے کے لیے ڈھال ہے۔
- **دیگر غزوات:** آپ غزوۂ بدر، غزوۂ خندق، صلح حدیبیہ، غزوۂ خیبر، فتح مکہ اور دیگر تمام اہم غزوات اور سریات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے۔ آپ کی شجاعت، ثابت قدمی اور فنِ حرب میں مہارت مسلم تھی۔
- **راہِ خدا میں قربانی (بیرحاء کا واقعہ):** حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنی دولت بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں پیش پیش تھے۔ جب سورہ آل عمران کی آیت 92 نازل ہوئی "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ” (تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو گے)، تو آپ رضی اللہ عنہ فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا سب سے محبوب مال میرا باغ "بیرحاء” ہے، جو مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا اور اس کا پانی بہت میٹھا اور پسندیدہ تھا۔ میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، آپ اسے جہاں چاہیں خرچ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی اس عظیم قربانی کو سراہا اور فرمایا کہ اسے اپنے قریبی رشتہ داروں (حضرت حسان بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم) کو دے دو۔
- **رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت:** آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ کی خدمت میں حاضر رہنا اور آپ کی ہر ضرورت پوری کرنا آپ کے لیے باعث فخر تھا۔ غزوۂ حنین میں جب لوگ مالِ غنیمت کے پیچھے بھاگے، تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد موجود چند صحابہ میں سے ایک تھے۔
میراث اور وصال
حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی زندگی اسلامی تاریخ میں بہادری، سخاوت، تقویٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثال محبت کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کے لیے وقف کر دی۔ آپ سے کئی احادیث مبارکہ بھی مروی ہیں جو آپ کے فہمِ دین کی گواہی دیتی ہیں۔
آپ کا وصال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 31 ہجری یا 32 ہجری میں ہوا۔ آپ ایک بحری جہاد پر روانہ ہوئے تھے اور دورانِ سفر بیمار پڑ گئے اور وہیں سمندر میں آپ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ سفر کے دوران کئی دن تک کوئی خشکی کا علاقہ میسر نہ آیا جہاں آپ کو دفن کیا جا سکے۔ سمندر میں سات یا نو دن گزرنے کے باوجود آپ کا جسدِ مبارک بالکل محفوظ اور ترو تازہ رہا، جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ بالآخر ایک جزیرہ ملا جہاں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً 70 سال تھی۔ آپ کی وفات اسلام کے ایک عظیم مجاہد، مخلص فدائی اور سچے عاشقِ رسول کی رحلت تھی۔
مستند حوالہ جات
- القرآن الكريم (سورہ آل عمران، آیت 92)
- صحیح بخاری، کتاب الزکاة، کتاب المغازی
- صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة
- سير أعلام النبلاء از امام ذہبی
- البداية والنهاية از حافظ ابن كثير
- تاريخ الطبري از امام طبری
- الطبقات الكبرى از ابن سعد
- أسد الغابة في معرفة الصحابة از ابن الأثير
