زید بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

زید بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے ایک مشہور اسلامی شخصیت کا ذکر کتبِ سیرت و تاریخ میں عام طور پر نہیں ملتا۔ البتہ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ عظیم صحابی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے انتہائی قریب، آپ ﷺ کے متبنیٰ اور قرآن میں نام سے مذکور واحد صحابی ہونے کے باعث غیر معمولی شہرت و فضیلت کے حامل ہیں۔ چونکہ سوال میں "مشہور اسلامی شخصیت” کا ذکر ہے، اس لیے قیاس کیا جاتا ہے کہ شاید ‘حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ’ مراد ہوں، اور ‘ثعلبہ’ سے کچھ خلط مبحث ہوا ہو۔ ذیل میں انہی عظیم صحابی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت پیش کی جا رہی ہے۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام زید بن حارثہ بن شراحیل (یا شرحبیل) الکلبی تھا۔ آپ کا تعلق بنو کلب کے معزز قبیلے سے تھا۔ آپ کی والدہ کا نام سعدیٰ بنت ثعلبہ تھا جو قبیلہ بنی معن سے تھیں۔ بچپن ہی میں ایک دردناک واقعے کے بعد آپ کو غلامی کی زندگی گزارنی پڑی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آپ کو سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مکہ کے بازارِ عکاظ سے حکیم بن حزام بن خویلد (سیدہ خدیجہ کے بھتیجے) سے خریدا تھا، جنہوں نے آپ کو اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کو پیش کر دیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پھر آپ کو رسول اللہ ﷺ (نبوت سے قبل) کی خدمت میں پیش کر دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو فوراً آزاد کر دیا۔ آپ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت اور تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنا متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا، اور لوگ آپ کو "زید بن محمد” کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ سورۃ الاحزاب کی آیت 5 نازل نہیں ہوئی، جس میں متبنیٰ کو ان کے حقیقی باپ کے نام سے پکارنے کا حکم دیا گیا: "اُدْعُوْهُمْ لِآبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ” (انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے)۔ اس کے بعد آپ کو دوبارہ "زید بن حارثہ” کہا جانے لگا۔

آپ کی کنیت "ابو اسامہ” تھی، جو آپ کے صاحبزادے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کے نام پر تھی۔ آپ نے کئی شادیاں کیں جن میں سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا بھی شامل تھیں، جن سے طلاق کے بعد رسول اللہ ﷺ نے نکاح کیا، نیز سیدہ ام ایمن (برکہ) رضی اللہ تعالی عنہا (جن سے حضرت اسامہ کی ولادت ہوئی) اور درۃ بنت ابی لہب رضی اللہ تعالی عنہا بھی آپ کے نکاح میں آئیں۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش نجد کے علاقے میں ہجرت سے تقریباً 45 سال پہلے ہوئی تھی۔ کم عمری میں آپ اپنی والدہ کے ساتھ ان کے رشتہ داروں کی ملاقات کے لیے گئے تھے کہ ایک قافلے نے انہیں اغوا کر لیا اور آپ کو غلام بنا کر بازارِ عکاظ میں فروخت کر دیا۔ یہی وہ تقدیر کا لمحہ تھا جب آپ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچنے کا شرف حاصل ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو آزادی عطا کی اور آپ کی غیر معمولی ذہانت، اخلاق اور پاکیزہ سیرت کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنا بیٹا بنا لیا۔

جب آپ کے والد حارثہ بن شراحیل اور چچا کو معلوم ہوا کہ زید مکہ میں ہیں، تو وہ آپ کی تلاش میں مکہ پہنچے اور رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی، آپ سے درخواست کی کہ وہ ان کے بیٹے کو واپس کر دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "زید کو بلاؤ، اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہیں تو وہ آزاد ہیں، میں انہیں نہیں روکوں گا، اور اگر وہ میرے ساتھ رہنا چاہیں تو میں انہیں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔” جب حضرت زید سے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے والدین پر رسول اللہ ﷺ کو ترجیح دی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ آپ کی رسول اللہ ﷺ سے گہری محبت اور عقیدت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید کا ہاتھ پکڑا اور کعبہ میں لے جا کر لوگوں کے سامنے اعلان کیا: "گواہ رہو کہ یہ زید میرا بیٹا ہے، میں اس کا وارث ہوں اور یہ میرا وارث ہے۔” اس واقعہ نے معاشرے میں ان کے مقام کو مزید بلند کر دیا۔

جب رسول اللہ ﷺ پر نبوت کا نزول ہوا تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں شامل تھے۔ آپ مردوں میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد سب سے پہلے اسلام لانے والے سمجھے جاتے ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت، اطاعت اور محبت سے عبارت رہا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گزرے لمحات، جنگوں میں شجاعت اور دینِ اسلام کی خدمت کا حسین امتزاج ہے۔

  1. رسول اللہ ﷺ سے والہانہ محبت: آپ کی سب سے نمایاں خصوصیت رسول اللہ ﷺ سے بے مثال محبت اور وفاداری تھی۔ آپ کو رسول اللہ ﷺ کا "حِبّ رسول اللہ” یعنی "اللہ کے رسول ﷺ کا محبوب” کہا جاتا تھا۔
  2. قرآن مجید میں نام کا ذکر: آپ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 37 میں ارشاد ہوتا ہے: "فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا” (پھر جب زید نے اس عورت سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا)۔ یہ آیت حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کے حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ سے طلاق اور بعد ازاں رسول اللہ ﷺ سے نکاح کے پس منظر میں نازل ہوئی تھی۔ اس سے آپ کی فضیلت اور عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
  3. غزوات میں شرکت: آپ نے تقریباً تمام بڑے غزوات مثلاً بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ حصہ لیا اور ہر محاذ پر اپنی شجاعت اور بہادری کا لوہا منوایا۔
  4. سریوں کی قیادت: رسول اللہ ﷺ نے آپ کی قابلیت، وفاداری اور فوجی بصیرت کو دیکھتے ہوئے آپ کو کئی سریوں (چھوٹے فوجی دستے جن کی قیادت رسول اللہ ﷺ خود نہ کرتے تھے) کا امیر مقرر فرمایا۔ ان میں سریۂ قرَدہ، سریۂ جموم، سریۂ عیص، سریۂ طرف، سریۂ حسمی اور سریۂ مدین وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان فوجی مہمات میں آپ نے نمایاں کامیابی حاصل کی اور اسلامی لشکر کی رہنمائی کا حق ادا کیا۔
  5. رسول اللہ ﷺ کے قاصد: اپنی دیانت، امانت اور فصاحت کی وجہ سے آپ رسول اللہ ﷺ کے قابل اعتماد قاصد بھی تھے اور کئی اہم پیغامات لے کر تشریف لے جاتے تھے۔

میراث اور وصال

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کی آخری اور سب سے بڑی قربانی 8 ہجری (629 عیسوی) میں شام کی حدود میں واقع غزوہ موتہ کے موقع پر پیش آئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس جنگ کے لیے لشکر کی قیادت کی ذمہ داری سب سے پہلے آپ ہی کو سونپی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: "اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب امیر ہوں گے، اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔”

غزوہ موتہ میں رومیوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کمالِ شجاعت سے لڑتے ہوئے رومی لشکر کی صفوں کو توڑا اور بالآخر شہید ہو کر جامِ شہادت نوش فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کو جب وحی کے ذریعے آپ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ ﷺ پر سخت رنج و غم کا عالم طاری ہو گیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی شہادت کی خبر دیتے ہوئے اپنی آنکھوں سے آنسو بہائے، جو آپ ﷺ کی ان جاں نثار صحابہ سے غیر معمولی محبت کا آئینہ دار تھا۔

حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث ان کی بے مثال قربانی، رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ محبت، اور دینِ اسلام کے لیے ان کی غیر متزلزل خدمات ہیں۔ آپ کے صاحبزادے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اپنے والد کی شجاعت اور قائدانہ صلاحیتوں کو وراثت میں پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حضرت اسامہ کو (کم عمری کے باوجود) ایک لشکر کا امیر مقرر کیا تھا جس کا مقصد موتہ کے شہداء کا انتقام لینا تھا، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں اس لشکر کو اسی طرح روانہ کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا، جو حضرت زید کی نسل اور حضرت اسامہ کی صلاحیتوں پر رسول اللہ ﷺ کے اعتماد کا مظہر تھا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی ایمان، ایثار، وفاداری اور شجاعت کا ایک روشن باب ہے۔

مستند حوالہ جات

  • القرآن الکریم، سورۃ الاحزاب
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ
  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ
  • طبری، تاریخ الرسل و الملوک
  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • ابن الأثیر، أسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ فی تمییز الصحابہ