زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام زید بن ارقم بن زید بن قیس بن نعمان بن مالک اغر بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلہ خزرج کے بنو حارث بن خزرج شاخ سے تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ انصار میں سے تھے، اور چونکہ آپ ان خوش نصیب صحابہ کرام میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا، اس لیے آپ کو "صحابی رسول” ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ کی کنیت ابو عمرو، جبکہ بعض روایات میں ابو انیسہ بھی ذکر کی گئی ہے۔ آپ کم عمر صحابہ میں سے تھے جنہوں نے ابتدا میں ہی اسلام قبول کیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ میں گزری۔ آپ کی عمر کم تھی جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے۔ آپ نے اپنے خاندان کے ساتھ اسلام قبول کیا، اور یوں کم سنی میں ہی اسلام کی برکات سے فیض یاب ہوئے۔ ہجرت کے وقت آپ کی عمر تقریباً تیرہ سے پپندہ برس تھی۔ آپ کی کم عمری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر آپ کو کم عمر ہونے کی وجہ سے جہاد میں شرکت کی اجازت نہیں ملی، لیکن غزوہ احد میں جب آپ کی عمر پندرہ سال کے قریب تھی، آپ کو میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت مل گئی، جس سے آپ کی عمر کا تعین ہوتا ہے۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی قربت میں پروان چڑھے اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو براہ راست حاصل کرنے کا شرف حاصل کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کے کئی نمایاں کارنامے انجام دیے اور اسلام کی راہ میں گراں قدر خدمات پیش کیں۔

  • غزوات میں شرکت: آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق سمیت دیگر کئی غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت فرمائی۔ آپ نے میدانِ جنگ میں شجاعت اور پامردی کا مظاہرہ کیا۔
  • سردار المنافقین کا واقعہ: آپ کے نمایاں ترین کارناموں میں سے ایک غزوہ بنی مصطلق (بعض روایات میں غزوہ مریسیع) سے واپسی پر پیش آنے والا واقعہ ہے۔ آپ اس وقت نوعمر تھے کہ آپ نے عبداللہ بن ابی (سردار المنافقین) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ "اگر ہم مدینہ لوٹ گئے تو وہاں سے عزت والا ذلیل کو نکال دے گا” (یعنی معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین کو)۔ آپ نے فوراً یہ بات اپنے چچا کے ذریعے رسول اللہ ﷺ تک پہنچائی۔ عبداللہ بن ابی نے قسمیں کھا کر اپنی بات سے انکار کر دیا، جس پر بعض صحابہ نے حضرت زید کی کم عمری کی وجہ سے ان کی بات پر شبہ کیا۔ تاہم، اللہ تعالیٰ نے سورہ منافقون کی آیات نازل فرما کر حضرت زید بن ارقم کی صداقت کی گواہی دی اور عبداللہ بن ابی کے جھوٹ کو بے نقاب کیا۔ اس واقعے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید کا کان پکڑا اور فرمایا: "تمہارے کان نے سچ سنا ہے۔” یہ آپ کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز اور امت کے لیے منافقین کی شناخت کا سبب بنا۔
  • علمی خدمات اور روایتِ حدیث: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کبار صحابہ میں سے تھے جن سے کثیر تعداد میں احادیث مروی ہیں۔ آپ نے تقریباً 70 سے زائد احادیث روایت کیں، جو صحاح ستہ اور دیگر حدیث کی کتب میں موجود ہیں۔ آپ نے نبی اکرم ﷺ کی سیرت، فضائل، اور احکام شرعیہ سے متعلق احادیث روایت کیں، خاص طور پر اہل بیت اور فضائل علی رضی اللہ عنہ سے متعلق احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ آپ سے مروی ہے۔ آپ کی صداقت، امانت اور ضبطِ حدیث پر امت کا اجماع ہے۔
  • قضا اور افتاء: آپ علم و فضل میں ممتاز تھے اور صحابہ کرام کے درمیان مسائل میں رائے دیتے تھے۔ آپ نے بعض اوقات قضا کے فرائض بھی انجام دیے۔
  • کتابتِ قرآن: اگرچہ آپ کا نام کاتبِ وحی کے طور پر واضح طور پر کم آتا ہے، لیکن یہ بات قرین قیاس ہے کہ آپ نے بھی قرآن مجید کے کچھ حصوں کی کتابت کی ہو گی، کیونکہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور علم و فضل میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
  • کو فہ میں سکونت اور امارت: آپ نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں کوفہ میں سکونت اختیار کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کوفہ کے مختصر عرصے کے لیے امیر (گورنر) بھی رہے۔

میراث اور وصال

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی پائی۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد بھی ایک لمبی عمر پائی اور کوفہ میں مقیم رہے۔ آپ نے اسلام کے عظیم خادم کی حیثیت سے اپنی زندگی گزاری اور امت کی رہنمائی فرمائی۔ آپ کا وصال سن 68 ہجری میں کوفہ میں ہوا، بعض روایات میں سن 65 ہجری بھی ذکر ہے۔ آپ اس وقت کافی معمر ہو چکے تھے۔

آپ کی میراث احادیث نبوی ﷺ کا وہ عظیم ذخیرہ ہے جو آپ نے امت تک پہنچایا۔ آپ کی روایت کردہ احادیث اسلامی شریعت اور سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم ماخذ ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں سچائی، امانت اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھا۔ منافقین کے سردار کے واقعے میں آپ کی صداقت اور جرأت نے آپ کو ایک خاص مقام عطا کیا، جو قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ آپ کے علم و فضل، تقویٰ و پرہیزگاری اور اسلام کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سنن ابی داؤد
  • جامع ترمذی
  • مسند احمد بن حنبل
  • سیرت ابن ہشام
  • تاریخ طبری
  • البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن الاثیر)
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)