زیاد بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عمرو بن عدی بن امیہ بن بیاضہ الأنصاری البیاضی الخزرجی تھا۔ آپ کا تعلق انصارِ مدینہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو بیاضہ سے تھا۔ آپ انصار کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور نصرت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کا لقب یا کنیت تاریخ میں بہت نمایاں طور پر مذکور نہیں، البتہ آپ کو آپ کی خاندانی نسبت "البیاضی” سے پہچانا جاتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے۔ آپ نے اسلام قبول کرنے میں سبقت حاصل کی۔ مدینہ میں اسلام کی دعوت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کے ذریعے پھیل رہی تھی، اور اسی دور میں آپ نے اسلام قبول کیا۔ آپ ان چند خوش نصیب انصاری صحابہ میں سے تھے جنہوں نے ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے۔ یہ بیعت اسلام کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا، جب مدینہ کے ستر سے زائد افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حال میں حفاظت اور اطاعت کا عہد کیا۔ زیاد بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ اس عہد میں شامل تھے، جس نے مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اسلامی خدمات سے بھرپور تھی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام اہم غزوات میں شرکت کی، جن میں غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر شامل ہیں۔ میدانِ جنگ میں آپ کی شجاعت اور پامردی لائقِ ستائش تھی۔
آپ کی ایک بہت بڑی خدمت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یمن کے علاقے حضرموت میں صدقات (زکوٰۃ) جمع کرنے کا عامل (کلیکٹر) مقرر فرمایا تھا۔ یہ آپ کی دیانت، امانت اور انتظامی صلاحیت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گہرے اعتماد کا مظہر تھا۔ آپ نے یہ ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں نبھائی اور پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں بھی آپ حضرموت میں عامل رہے۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں جب فتنۂ ارتداد (منکرینِ زکوٰۃ اور جھوٹے مدعیانِ نبوت) نے سر اٹھایا تو حضرموت میں بھی کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا اور سَجَاح بنت حارث کی نبوت کے دعوے کی وجہ سے بھی انتشار پیدا ہوا۔ ایسے نازک وقت میں زیاد بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ نے نہایت ثابت قدمی اور حکمت سے کام لیا۔ آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم پر مرتدین اور منکرینِ زکوٰۃ کے خلاف کارروائی کی اور فتنہ کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح آپ نے اسلامی حکومت کی بالادستی اور نظامِ زکوٰۃ کو بحال رکھنے میں بنیادی خدمت انجام دی۔
میراث اور وصال
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل اور باوقار زندگی گزاری۔ آپ نے اسلامی تاریخ کے کئی ادوار دیکھے اور ہر دور میں دین کی خدمت کی۔ آپ ان خوش نصیب صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض پایا، جہاد میں حصہ لیا اور اسلامی ریاست کے ابتدائی انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ کی میراث دینِ اسلام سے گہری وابستگی، جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت، اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے گراں قدر خدمات ہیں۔
آپ کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں یمن میں ہوا۔ بعض روایات میں آپ کی عمر 120 سال بھی بتائی گئی ہے جو آپ کی طویل العمری کی نشاندہی کرتی ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 3، 5، 8۔
- ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جلد 2۔
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، جلد 2۔
- ذہبی، سیر اعلام النبلاء، جلد 2۔
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 3۔
- طبری، تاریخ الامم والملوک، جلد 2، 3۔
