زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
زیاد بن سمیہ، جو بعد میں زیاد بن ابی سفیان کے نام سے مشہور ہوئے، اسلامی تاریخ کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ ان کی ولادت 8 ہجری میں طائف میں ہوئی، یہ وہ دور تھا جب اسلام جزیرہ نما عرب میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا تھا۔ ان کی والدہ کا نام سمیہ تھا، جو حارث بن کلاہ ثقفی کی لونڈی تھیں اور بعد میں آزاد کر دی گئیں۔ زیاد کی ولادت کے والد کی شناخت ابتدا میں متنازعہ تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کی نسبت سے "زیاد بن سمیہ” یا بعض اوقات "زیاد ابن ابیہ” (اپنے باپ کا بیٹا) کے نام سے جانے جاتے تھے۔
حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان کے دورِ خلافت میں، 44 ہجری میں، انہیں باقاعدہ طور پر حضرت ابوسفیان (حضرت معاویہ کے والد) کا بیٹا تسلیم کیا گیا، جس کے بعد وہ "زیاد بن ابی سفیان” کہلائے۔ یہ استلحاق (باپ ہونے کا دعویٰ تسلیم کرنا) اسلامی تاریخ کا ایک اہم سیاسی واقعہ تھا جس پر فقہا اور مؤرخین کے درمیان کافی بحث مباحثہ رہا ہے۔
ابتدائی زندگی اور اسلامی تربیت
زیاد کی پرورش اسلامی ماحول میں ہوئی، اگرچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت بہت کم عمر تھے۔ اس لیے انہیں صحابہ کرام میں شمار نہیں کیا جاتا بلکہ تابعین میں سے ایک اہم شخصیت مانا جاتا ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی ذہانت، فطانت اور غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کی غمازی کرتی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے ان کی صلاحیتوں کو بہت جلد پہچان لیا تھا۔ روایت ہے کہ جب حضرت عمر نے زیاد کی فصاحت و بلاغت اور تدبیر دیکھی تو فرمایا: "اگر اس نوجوان کا باپ قریشی ہوتا تو وہ عرب کو اپنی لاٹھی سے چلاتا” (یعنی وہ عرب کے ایک بڑے حکمران یا سردار ہوتے)۔
حضرت عمر نے زیاد کو بصرہ میں مختلف انتظامی امور پر مامور کیا، جہاں انہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ انہوں نے اسلامی ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو سمجھنے اور عملی تجربہ حاصل کرنے میں اپنی ابتدائی زندگی کا قیمتی وقت صرف کیا۔ وہ فصیح و بلیغ کلام، ذہانت اور تدبر میں ممتاز تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
زیاد بن ابی سفیان کی خدمات کا دائرہ وسیع تھا اور انہوں نے کئی خلفاء کے دور میں اہم عہدوں پر فائز رہ کر اسلامی حکومت کی مضبوطی کے لیے کام کیا۔
* **حضرت عمر اور حضرت عثمان کے دور میں:** انہوں نے بصرہ میں بطور کاتب (سیکرٹری) اور عامل (گورنر کے نائب) کے طور پر کام کیا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری، جو بصرہ کے والی تھے، ان کی ذہانت اور استعداد کے معترف تھے۔
* **حضرت علی کے دور میں:** حضرت علی نے ان کی صلاحیتوں کو سراہا اور انہیں فارس اور کرمان کا عامل مقرر کیا۔ زیاد نے ان علاقوں میں امن و امان قائم کیا، خراج کی وصولی کو منظم کیا اور حضرت علی کے وفادار رہے۔ حضرت علی نے ان کی انتظامی صلاحیتوں کی تعریف کی اور انہیں ایک خط میں لکھا کہ "تم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے”۔
* **حضرت معاویہ کے دور میں:** حضرت حسن بن علی کی دستبرداری کے بعد، حضرت معاویہ نے زیاد کو اپنے قریب کیا اور انہیں عراق کا عظیم ترین گورنر بنا دیا۔ 44 ہجری میں انہیں باقاعدہ طور پر ابوسفیان کا بیٹا تسلیم کیا گیا، جس کے بعد وہ "زیاد بن ابی سفیان” کہلائے۔ اس فیصلے نے انہیں حضرت معاویہ کے خاندان کا حصہ بنا دیا اور ان کی سیاسی حیثیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
* **بصرہ، کوفہ اور مشرقی صوبوں کی حکمرانی:** زیاد کو بصرہ، کوفہ اور پھر تمام مشرقی صوبوں (خراسان، سجستان، ہند، سندھ) کا والی مقرر کیا گیا۔ انہوں نے عراق میں سخت گیر انتظامیہ نافذ کی، جس سے امن و امان بحال ہوا۔ ان کے دور میں خانہ بدوشوں اور خوارج کی سرگرمیوں کو سختی سے کچل دیا گیا اور ریاست میں استحکام آیا۔
* **انتظامی اصلاحات اور ترقی:** زیاد نے شہروں کی ترقی پر توجہ دی، خاص طور پر بصرہ میں انہوں نے نہریں کھدوائیں، بازار آباد کیے اور فوجی چھاؤنیاں مضبوط کیں۔ انہوں نے پولیس (شرطہ) کے نظام کو مزید فعال بنایا اور عدالتی نظام کو مستحکم کیا۔ ان کی حکومت میں سخت گیر قوانین اور بے پناہ انتظامی صلاحیتوں کا امتزاج تھا، جس کے نتیجے میں ایک طویل عرصے بعد عراق میں امن و امان قائم ہوا۔
* **عسکری توسیع:** انہوں نے خراسان اور ماوراء النہر میں اسلامی فتوحات کو آگے بڑھانے کے لیے لشکر تیار کیے اور متعدد مہمات کامیابی سے سرانجام دیں۔
میراث اور وفات
زیاد بن ابی سفیان کی وفات 53 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 52 ہجری) میں کوفہ میں طاعون کی بیماری سے ہوئی۔ وہ تقریباً 50 سے 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
زیاد کی میراث متنازعہ رہی ہے لیکن ان کی انتظامی صلاحیتوں، ذہانت اور غیر معمولی فصاحت و بلاغت پر کسی کو اختلاف نہیں۔ وہ اسلامی تاریخ کے چند ان گنے چنے منتظمین میں سے تھے جنہوں نے وسیع علاقوں پر کامیابی سے حکومت کی۔ ان کے سخت گیر اقدامات نے جہاں ایک طرف امن و امان بحال کیا، وہیں بعض حلقوں میں ان پر جبر و تشدد کا الزام بھی لگایا گیا۔ ان کی پالیسیوں کا مقصد مرکزی حکومت کی مضبوطی اور ریاست کے استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ وہ ایک زیرک سیاست دان، ایک ماہر منتظم اور ایک کامیاب جرنیل تھے۔ ان کے کئی بیٹے بھی بعد میں اسلامی ریاست کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے، جن میں عبید اللہ بن زیاد اور سلم بن زیاد نمایاں ہیں۔
مستند حوالہ جات
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک) از امام محمد بن جریر طبری
- البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر
- الکامل فی التاریخ از ابن اثیر
- سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
- تاریخ دمشق از ابن عساکر
