ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں۔ آپ کا تعلق بنو اسلم قبیلے سے تھا، جو عرب کے مشہور قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص ہونے کا شرف حاصل تھا۔ اسی نسبت سے آپ کو "خادم رسول” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، جو آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ آپ کی کنیت ابو فراس تھی۔ آپ کا نام ربیعہ اور والد کا نام کعب تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی حق کو پہچان لیا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ آپ ان خوش نصیب صحابہ میں سے تھے جنہوں نے دینِ حق کی قبولیت میں سبقت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کو ہر چیز پر ترجیح دی۔ آپ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد ان صحابہ میں شامل ہو گئے جو "اہلِ صفہ” کہلاتے تھے۔ یہ وہ صحابہ کرام تھے جو مسجد نبوی کے چبوترے (صفہ) پر قیام فرماتے تھے، اور اپنا سارا وقت دین کے علم اور عمل میں صرف کرتے تھے۔ ان کا کوئی مستقل گھر بار نہیں ہوتا تھا اور وہ اپنا زیادہ تر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور تعلیمات کو حاصل کرنے میں گزارتے تھے۔ اسی دوران حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی خدمت کا شرف بھی حاصل ہوا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ اور ان کی سب سے نمایاں خدمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی خدمت تھی۔ آپ دن رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لیے پانی کا انتظام کرنا، آپ کے بستر مبارک کو درست کرنا، آپ کے جوتوں کی نگہبانی کرنا، اور دیگر کئی چھوٹی بڑی ضروریات پوری کرنا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔ آپ نے یہ خدمت پوری محبت، لگن اور سعادت مندی کے ساتھ انجام دی۔ آپ کی اسی بے لوث خدمت سے متاثر ہو کر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا: "مجھ سے مانگو، جو چاہو گے میں تمہیں عطا کروں گا”۔ (سل، أُعطَكَ). اس پر حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نہایت ادب سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں آپ سے جنت میں آپ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں”۔ (أسألك مرافقتك في الجنة). نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگنا؟” تو انہوں نے اصرار کیا کہ انہیں صرف آپ کی رفاقت ہی چاہیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تو پھر کثرت سے سجدے کر کے میری مدد کرو”۔ (فأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ). یہ واقعہ آپ کے اعلیٰ مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی بے پناہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ نے غزوات میں بھی حصہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ جہاد میں شریک رہے۔
میراث اور وصال
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی دین اسلام کے لیے بے مثال قربانی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت اور بے لوث خدمت کا روشن باب ہے۔ آپ کی سب سے بڑی میراث آپ کی وہ مثال ہے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی اور جنت میں آپ کی رفاقت کے حصول کے لیے بے تاب رہے۔ آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے حدیث نبوی کو براہ راست رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آگے امت تک پہنچایا، اگرچہ آپ سے مروی احادیث کی تعداد کم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی آپ نے مدینہ منورہ میں ہی قیام کیا اور بقیہ زندگی تقویٰ اور پرہیزگاری میں بسر کی۔ آپ کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا، بعض روایات کے مطابق 63 ہجری کے بعد، آپ نے شام کے علاقے میں وفات پائی جبکہ دیگر روایات میں آپ کا وصال مدینہ کے قریب بیان کیا جاتا ہے۔ آپ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی پائی اور دین اسلام کے لیے اپنی خدمات کو جاری رکھا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحث علیہ۔
- سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یقول فی الرکوع والسجود۔
- سیر أعلام النبلاء از امام ذہبی، جلد 3، صفحہ 23-24۔
- اسد الغابہ فی معرفة الصحابۃ از ابن اثیر، جلد 2، صفحہ 240-241۔
- الاصابہ فی تمییز الصحابۃ از ابن حجر عسقلانی، جلد 2، صفحہ 429-430۔
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 344۔
