ربیعہ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ربیعہ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ قریش کے بنو جمح قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کا پورا نام ربیعہ بن امیہ بن خلف الجمحی تھا۔ ان کے والد امیہ بن خلف، قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھے اور اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں شمار ہوتے تھے۔ امیہ بن خلف غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔ ربیعہ کی والدہ کا نام صفیہ بنت معمر الجمحی تھا۔ ربیعہ اپنی خوبصورتی، فصاحت و بلاغت اور بلند آواز کی وجہ سے مشہور تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ربیعہ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی مکہ مکرمہ میں گزاری۔ ان کے والد کی اسلام دشمنی کے باوجود، ربیعہ کو اللہ تعالی نے ہدایت کی توفیق بخشی۔ انہوں نے فتح مکہ کے بعد یا اس کے قریب اسلام قبول کیا۔ بعض روایات کے مطابق، وہ غزوہ حنین میں مسلمانوں کے ساتھ شریک تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے بعد جلد ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد وہ دین کے مخلص پیروکار بن گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا وقت صرف کرنے لگے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ربیعہ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ اور خدمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حج، یعنی حجۃ الوداع کے موقع پر سامنے آیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے میدان میں اپنا تاریخی خطبہ (خطبہ حجۃ الوداع) ارشاد فرمایا تو وہاں لاکھوں کا مجمع تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ہر شخص تک پہنچانا ممکن نہ تھا، چنانچہ ربیعہ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کے قریب کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جملے کو بآواز بلند دہراتے تھے تاکہ خطبہ حجۃ الوداع کا پیغام تمام حاضرین تک پہنچ سکے۔ یہ فریضہ انہوں نے نہایت احسن طریقے سے سرانجام دیا، جس کی وجہ سے یہ عظیم خطبہ آج بھی پوری امت کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس خطبے میں سود کی حرمت، جان و مال کا احترام، اور جاہلیت کے تمام رسم و رواج کو باطل قرار دینے جیسے اہم احکامات شامل تھے۔ یہ ان کے ایمان، فصاحت اور خدمت دین کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
میراث اور وصال
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ربیعہ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ منورہ میں قیام فرمایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ایک واقعہ پیش آیا جس میں انہوں نے شراب نوشی کی، جس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حد جاری فرمائی۔ اس واقعے کے بعد ربیعہ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ شرمندگی کے باعث شام کی طرف ہجرت کر گئے اور باقی زندگی وہیں بسر کی۔ اگرچہ یہ واقعہ ان کی زندگی کے ایک انسانی پہلو کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے ان کی صحابیت اور دین سے تعلق پر کوئی حرف نہیں آتا۔ صحابہ کرام کی زندگیوں میں بھی انسانی لغزشیں ممکن تھیں، مگر وہ اس پر تائب ہوتے تھے۔ ربیعہ بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ نے شام میں ہی وفات پائی۔ ان کی میراث ان کا وہ عظیم کردار ہے جو انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر ادا کیا، جس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری پیغام پوری امت تک پہنچا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
- ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
- طبری، تاریخ الامم والملوک
- ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
