ربيعہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے۔ آپ کا نسب قریش کی معزز شاخ بنو ہاشم سے تعلق رکھتا تھا، جو نبی اکرم ﷺ کا اپنا خاندان ہے۔ آپ کا مکمل نام ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم قریشی ہے۔ آپ کے والد حارث بن عبدالمطلب، عبدالمطلب کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے سب سے بڑے چچا تھے۔ آپ کی والدہ کا نام غزیہ بنت قیس بن طریف تھا، جو بنو کنانہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس طرح ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم ﷺ کے خاندان کے نہایت قریبی فرد تھے اور بچپن سے ہی آپ ﷺ کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے تھے۔ آپ کو "ابو یزید” کی کنیت سے بھی پکارا جاتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی نبی اکرم ﷺ کی قربت میں گزاری۔ آپ نے اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایمان قبول کر لیا تھا، جب اسلام کے پیروکاروں کو قریش کی شدید اذیتوں کا سامنا تھا۔ ان مشکل حالات میں جب مسلمانوں پر ظلم و ستم انتہا کو پہنچ گیا تو نبی اکرم ﷺ کی اجازت سے ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی اہلیہ ام حکم بنت زبیر بن عبدالمطلب (جو آپ ﷺ کی چچا زاد بہن تھیں) کے ہمراہ حبشہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت ثانی تھی اور ان مٹھی بھر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے اپنا وطن چھوڑا اور غیر ملک میں پناہ لی۔ حبشہ میں قیام کے دوران آپ کے ہاں متعدد اولادیں پیدا ہوئیں جن میں عبداللہ، محمد اور عباس شامل تھے۔ ان ناموں کا انتخاب نبی اکرم ﷺ کے خاندان سے گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
فتح خیبر کے بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ دیگر مہاجرین حبشہ کے ہمراہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور پھر اپنی بقیہ زندگی نبی اکرم ﷺ کی خدمت اور اسلامی ریاست کی ترقی کے لیے وقف کر دی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
مدینہ منورہ آنے کے بعد ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ نے متعدد غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شرکت فرمائی۔ آپ نے فتح مکہ، غزوہ حنین اور طائف جیسے اہم معرکوں میں حصہ لیا۔ غزوہ حنین کے موقع پر جب مسلمانوں میں ایک عارضی بد نظمی پیدا ہو گئی تھی، تو ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ ان چند صحابہ کرام میں سے تھے جو نبی اکرم ﷺ کے گرد ثابت قدم رہے اور میدان جنگ سے پسپا نہیں ہوئے۔ یہ آپ کی شجاعت، وفاداری اور نبی اکرم ﷺ سے گہرے تعلق کا واضح ثبوت ہے۔
آپ کی زندگی کا ایک نمایاں واقعہ جس کا ذکر سیرت کی کتب میں خاص طور پر ملتا ہے، وہ "دمِ ربیعہ” کا مسئلہ ہے۔ جاہلیت کے دور میں بنو لیث کے ہاتھوں آپ کے ایک بیٹے، آدم یا ایاس (بعض روایات میں یہ ان کے بھائی کا بیٹا تھا، مگر عام طور پر اس کا دعویٰ ربیعہ سے منسوب کیا جاتا ہے)، کا خون بہا واجب تھا جسے نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے تاریخی فرمان کے ذریعے معاف کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: "جاہلیت کے تمام دعوے اور خون بہا میرے قدموں تلے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے چچا زاد بھائی ربیعہ بن حارث کے بیٹے ایاس کا خون بہا معاف کرتا ہوں۔” اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو آپ سے کس قدر محبت تھی اور آپ نے نبی اکرم ﷺ کے حکم کی تعمیل میں اپنے ذاتی حق سے کس طرح دستبرداری اختیار کی۔ یہ واقعہ نبی اکرم ﷺ کے عدل و انصاف اور اسلام میں خون خرابے کے خاتمے کی مثال بن گیا۔
آپ سخاوت اور بلند اخلاقی کے حامل تھے۔ جب آپ حبشہ سے واپس آئے تو آپ کے پاس ایک بڑا قافلہ تھا جس میں آپ کی اولادیں اور اہل و عیال تھے۔ آپ نے ان سب کی کفالت بڑی خوش دلی سے کی۔
میراث اور وصال
ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے 13 ہجری میں وفات پائی جبکہ دیگر روایات میں 21 ہجری کا ذکر ملتا ہے، اور مؤخر الذکر قول زیادہ معتبر مانا جاتا ہے۔ آپ نے مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن کیے گئے۔
آپ کی اولاد میں عبداللہ، محمد، عباس، حرب، ہاشم، عبدالشمس، امیہ اور ماریہ شامل تھے۔ ان میں سے کئی نے ہاشمی خاندان کی روایات کو آگے بڑھایا۔ آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ، اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حسین نمونہ تھی۔ آپ ان صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں اسلام کو قبول کیا اور اس کی نشر و اشاعت کے لیے اپنی جان و مال کو وقف کر دیا۔ آپ کی میراث صرف آپ کی اولاد نہیں بلکہ آپ کا وہ کردار ہے جس نے ابتدائی اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
مستند حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ
- محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ
- الذہبی، سیر اعلام النبلاء
- ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
- الطبری، تاریخ الامم والملوک
