رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام رافع بن خدیج بن رافع بن عدی بن زید بن جُشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلہ اوس کے بنو حارثہ خاندان سے تھا، اور آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں جنہیں "انصار” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ آپ کے والد کا نام خدیج بن رافع تھا جو خود بھی جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جن کی زمینیں اور باغات تھے، اور آپ کا شمار مدینہ کے زراعت کے ماہرین میں ہوتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً 12 یا 13 سال قبل مدینہ منورہ میں ہوئی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کم عمری میں ہی اسلام قبول فرما لیا اور اپنے خاندان کے ساتھ دینِ حق کی پیروی کا شرف حاصل کیا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کا ایک اہم واقعہ جنگ بدر میں شرکت کی خواہش سے متعلق ہے۔ جب جنگ بدر کا موقع آیا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی کم عمری (تقریباً 15 سال) کی وجہ سے میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کم عمر قرار دے کر واپس لوٹا دیا۔ تاہم، ایک سال بعد جب جنگ احد پیش آئی، تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دوبارہ اپنی خواہش کا اظہار کیا اور اس بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت عطا فرما دی۔ اس طرح آپ کی پہلی شرکت میدانِ جنگ میں جنگ احد میں ہوئی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی سربلندی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ نے جنگ بدر کے علاوہ تقریباً تمام بڑے غزوات میں شرکت کی، جن میں جنگ احد، جنگ خندق، صلح حدیبیہ، فتح خیبر، فتح مکہ، جنگ حنین اور طائف کا محاصرہ شامل ہیں۔
جنگ احد میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک تیر لگا جو ان کے جسم میں پیوست ہو گیا اور زخم کافی گہرا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس تیر کو نہ نکالا جائے، مبادا خون زیادہ بہہ جائے اور زخم مزید بگڑ جائے۔ چنانچہ وہ تیر آپ کے وصال تک جسم میں رہا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ ایک جید عالم، فقیہ اور محدث کی حیثیت سے بھی معروف تھے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست احادیث سنیں اور انہیں روایت کیا۔ آپ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد تقریباً 78 ہے، جن میں سے کئی احادیث بخاری اور مسلم میں موجود ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایات بالخصوص زراعت اور لین دین کے شرعی مسائل کے بارے میں مشہور ہیں، مثلاً "مزارعت” اور "محاقلہ” کے احکام سے متعلق احادیث آپ ہی سے مروی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مدینہ میں زمین کی دیکھ بھال اور زرعی معاملات کے لیے مقرر فرمایا تھا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو زرعی امور کا بہترین علم تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی فقہی بصیرت اور سنت نبوی پر عمل کا بہترین نمونہ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے جب آپ سے مزارعت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق جواب دیا۔

میراث اور وصال

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل اور بھرپور زندگی گزاری اور دین اسلام کی خدمت میں اپنی جان و مال کو قربان کیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں سن 74 ہجری میں ہوا، بعض روایات کے مطابق سن 73 ہجری بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً 86 سال تھی۔ آپ کو مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
آپ کی سب سے بڑی میراث آپ کی روایت کردہ احادیث ہیں جو آج بھی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ کے علمی اور عملی کارنامے مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور آپ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سنن ابی داؤد
  • جامع ترمذی
  • سنن نسائی
  • مسند احمد
  • أسد الغابة في معرفة الصحابة (ابن اثیر)
  • الاستیعاب فی معرفة الأصحاب (ابن عبدالبر)
  • الإصابة في تمييز الصحابة (ابن حجر عسقلانی)
  • سیر أعلام النبلاء (شمس الدین ذہبی)
  • البدایة والنهایة (ابن کثیر)