ذو الشمالين بن عبد عمرو رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ذو الشمالين بن عبد عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کا اصلی نام عمیر بن عبد عمرو بن نضلہ خزاعی تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ خزاعہ سے تھا، جو عرب کے ایک معزز اور قدیم قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ آپ کو "ذو الشمالين” کے لقب سے جانا جاتا ہے، جس کا لفظی معنی "دو بائیں ہاتھ والا” ہے۔ اس لقب کی وجہ کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ بائیں ہاتھ سے زیادہ کام کرتے تھے یا دونوں ہاتھوں سے یکساں مہارت سے کام کرتے تھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ کے ہاتھوں کی کوئی خاص ساخت تھی یا انگلیاں نسبتاً چھوٹی تھیں۔ تاہم، زیادہ تر مفسرین اور محدثین اس لقب کو آپ کی بائیں ہاتھ کی مہارت یا بائیں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت سے منسوب کرتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ذو الشمالين رضی اللہ تعالی عنہ ان سابقین اولین میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ اسلام کے آغاز میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ نے مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کے ابتدائی ایام میں ہی کلمہ حق پڑھا اور اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو قریش کی جانب سے شدید ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں آپ نے اپنے دین کی حفاظت کی خاطر حبشہ کی دوسری ہجرت میں شرکت فرمائی۔ بعد ازاں، آپ نے نبی اکرم ﷺ اور دیگر صحابہ کرام کے ساتھ مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی اور اسلامی ریاست کے قیام میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ذو الشمالين رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ آپ نے اسلام کی پہلی عظیم جنگ، غزوہ بدر میں شرکت فرمائی۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو فتح مبین عطا فرمائی اور جس کے شرکاء کو جنت کی بشارت دی گئی۔ آپ نے اس غزوہ میں شجاعت اور بہادری کے جوہر دکھائے۔

آپ کا سب سے مشہور واقعہ وہ ہے جو حدیث کی کتابوں میں سجدہ سہو کے باب میں تفصیل سے مذکور ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھاتے ہوئے (غالباً ظہر یا عصر کی) دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ عام طور پر صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ سے سوال کرنے میں محتاط رہتے تھے، مگر ذو الشمالين رضی اللہ تعالی عنہ نے جرأت کے ساتھ کھڑے ہو کر عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: "نہ نماز کم کی گئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔” لیکن جب دیگر صحابہ کرام نے بھی ذو الشمالين رضی اللہ تعالی عنہ کی بات کی تصدیق کی، تو آپ ﷺ نے باقی دو رکعتیں پوری کیں اور پھر سجدہ سہو ادا فرمایا۔ یہ واقعہ آپ کی دین کی پاسداری، حق گوئی اور حضور اکرم ﷺ کے عمل کو درست کرنے کی جسارت کی ایک بہترین مثال ہے۔ آپ کا یہ عمل آج بھی اسلامی فقہ کے ایک اہم مسئلے کی بنیاد ہے۔

میراث اور وصال

ذو الشمالين بن عبد عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ بدر میں جام شہادت نوش فرمایا۔ یوں آپ ان خوش نصیب شہداء بدر میں شامل ہو گئے جن کے لیے رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت دی۔ آپ کی شہادت اسلام کے لیے عظیم قربانی کی علامت ہے۔

آپ کی میراث صرف آپ کی شہادت نہیں بلکہ وہ حدیث بھی ہے جو آپ کے حق گوئی کے واقعے سے متعلق ہے، اور جو سجدہ سہو کے احکام کا ایک بنیادی ماخذ ہے۔ اسلامی تاریخ میں آپ کا نام ایک بہادر، حق گو اور دین کی پاسداری کرنے والے صحابی کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب ہل یسلم فی رکعتین أو ثلاث، حدیث نمبر 482۔
  • صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب السہو فی الصلوٰۃ، حدیث نمبر 573۔
  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 299 (طبع دار الفکر، بیروت)۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 3، صفحہ 113 (طبع دار صادر، بیروت)۔
  • ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 2، صفحہ 529 (طبع دار الجیل، بیروت)۔
  • ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جلد 2، صفحہ 177 (طبع دار الفکر، بیروت)۔
  • الطبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 2، صفحہ 175 (طبع دار التراث، قاہرہ)۔