ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ کا اصل نام عبداللہ تھا اور ان کے والد کا نام عبد نعم تھا، اس طرح ان کا مکمل نام عبداللہ بن عبد نعم المزنی تھا۔ بعض روایات میں ان کے والد کا نام عبداللہ بھی ملتا ہے۔ وہ قبیلہ مزینہ سے تعلق رکھتے تھے جو عرب کے معروف قبائل میں سے ایک تھا۔ یہ ایک یتیم بچے تھے جن کی پرورش ان کے چچا نے کی تھی اور انہوں نے عبداللہ کو بہت مال و دولت سے نوازا تھا۔ ان کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے تھا، لیکن جب انہوں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا تو یہ تمام دنیاوی آسائشیں ان کے ایمان کی راہ میں حائل نہ ہو سکیں۔
انہیں "ذو البجادین” کے لقب سے جانا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں "دو پھٹے پرانے کمبلوں والا”۔ اس لقب کے پیچھے ایک ایمان افروز داستان پنہاں ہے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے چچا نے انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل ہوئے تو وہ ان سے تمام مال و متاع چھین لیں گے۔ عبداللہ نے اپنے ایمان کو ترجیح دی اور کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ چچا نے اپنے وعدے کے مطابق ان سے ہر چیز لے لی، حتیٰ کہ ان کے تن کے کپڑے بھی چھین لیے۔ اس وقت ان کے پاس ایک موٹا اور پرانا اونی کمبل (بجاد) تھا جسے انہوں نے پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے، ایک سے ازار بنایا اور دوسرے سے رداء (اُوپر پہننے والا کپڑا)۔ اسی حالت میں وہ مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کر گئے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کی اس قربانی کو دیکھ کر انہیں "ذو البجادین” کا لقب عطا فرمایا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی اپنے چچا کی سرپرستی میں گزری جو مالدار ہونے کے سبب انہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کرتے تھے۔ وہ اپنی قوم میں ایک باوقار مقام رکھتے تھے، لیکن ان کے دل میں حق کی جستجو موجود تھی۔ جب اسلام کی دعوت جزیرہ نما عرب میں پھیلنے لگی اور مکہ سے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ اسلامی ریاست کا مرکز بن چکا تھا، تو حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ تک بھی اسلام کی خبر پہنچی۔ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کے اسلام قبول کرنے کے واقعات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے بارے میں سنا تو ان کا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا۔
انہوں نے اپنے چچا سے اسلام قبول کرنے کی اجازت طلب کی تو ان کے چچا نے انہیں سختی سے منع کیا اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کیا تو وہ ان سے تمام دولت، مال اور حتیٰ کہ وہ لباس بھی چھین لیں گے جو انہوں نے انہیں پہنایا ہے۔ حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ کا ایمان اس دنیاوی دھمکی کے آگے متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے اپنے چچا سے کہا کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکا ہوں، اور میں اس ایمان کو دنیا کی کسی بھی چیز کے بدلے نہیں چھوڑوں گا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے چچا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر آپ میری ہر چیز چھین لیں، تب بھی میرا ایمان نہیں چھین سکتے”۔
چچا نے غصے میں آ کر واقعی ان کی تمام چیزیں چھین لیں، یہاں تک کہ انہوں نے ان کے بدن سے کپڑے بھی اتار لیے۔ اس بے سرو سامانی کی حالت میں انہوں نے ایک موٹا اونی کمبل لیا، اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور انہی کو لباس بنا کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ اس حال میں وہ مسجد نبوی پہنچے اور فجر کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قربانی کے اس عمل کو بہت سراہا اور انہیں "ذو البجادین” کا منفرد اور قابل فخر لقب عطا فرمایا۔ اس کے بعد وہ مدینہ میں مقیم ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں دین کا علم حاصل کرنے لگے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد خود کو مکمل طور پر دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کا گہرا ایمان، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت، اور ذکر و تلاوت کا شوق تھا۔ وہ مسجد نبوی میں مستقل طور پر حاضر رہتے، قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے اور بلند آواز سے اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
ان کے ذکر کرنے کا انداز کچھ اس قدر بلند تھا کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ذو البجادین بہت زیادہ بلند آواز سے ذکر کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "انہیں چھوڑ دو، یہ ‘اَوّاہ’ (یعنی بہت زیادہ آہ و زاری کرنے والا، بہت زیادہ اللہ کو یاد کرنے والا) ہے۔” یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کی عبادت اور اخلاص کی ایک عظیم تعریف تھی۔ اس واقعے سے ان کی کثرت ذکر اور اللہ سے ان کی قربت کا اندازہ ہوتا ہے۔
وہ ہر وقت اللہ کی رضا اور اس کی اطاعت میں سرگرم رہتے تھے۔ انہوں نے اپنے ایمان کی خاطر اپنی دنیاوی ہر چیز قربان کر دی تھی، اور اس کے بعد بھی وہ کسی قسم کی کمی محسوس نہیں کرتے تھے۔ ان کی زندگی دیگر مسلمانوں کے لیے یہ پیغام تھی کہ اللہ کی رضا اور اس کے دین کی محبت دنیا کی ہر دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔ انہوں نے جہاد فی سبیل اللہ میں بھی شرکت کا شوق رکھا اور اس کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔
میراث اور وصال
حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اگرچہ زیادہ طویل نہ تھی، مگر وہ اسلامی تاریخ میں قربانی، سادگی اور غیر متزلزل ایمان کی ایک درخشاں مثال بن کر ابھری۔ ان کا وصال ہجرت کے نویں سال غزوہ تبوک کے دوران ہوا۔ تبوک کی سخت گرمی اور طویل سفر کے دوران وہ بیمار ہو گئے۔ جب ان کی بیماری نے شدت اختیار کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔
ان کا انتقال غزوہ تبوک کے دوران ہی ہوا۔ یہ ایک انتہائی جذباتی اور یادگار لمحہ تھا جب حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کی قبر کھودنے میں مدد کی اور پھر ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی مدد سے خود ان کی قبر میں اتر کر انہیں لَحَد میں رکھا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی: "اللهم إني أمسيت عنه راضياً فارض عنه” (اے اللہ! میں اس سے راضی ہو کر رخصت ہوا ہوں، پس تو بھی اس سے راضی ہو جا)۔ یہ دعا اس عظیم صحابی کی فضیلت اور اللہ کے ہاں ان کے بلند مقام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ وہ شرف تھا جو بہت کم صحابہ کرام کو نصیب ہوا۔
حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث ان کا غیر متزلزل ایمان، دنیاوی مال و متاع کی قربانی، اللہ کے ذکر میں استقامت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت ہے۔ ان کی کہانی ہر اس شخص کے لیے ایک مشعل راہ ہے جو دین کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ وہ تا قیامت سادگی، اخلاص اور اللہ کی راہ میں کامل تسلیم و رضا کی علامت بنے رہیں گے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام)
- طبقات ابن سعد (الطبقات الکبری لابن سعد)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر (ابن اثیر)
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر (ابن عبدالبر)
- دلائل النبوۃ للبیہقی (امام بیہقی)
- الرحیق المختوم (صفی الرحمن مبارکپوری)
