خارجہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
خارجہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ (یہاں ‘رضی اللہ تعالی عنہ’ صارف کی ہدایت کے مطابق استعمال کیا گیا ہے، بصورت دیگر آپ کو ائمہ تابعین میں شمار ہونے کی وجہ سے ‘رحمۃ اللہ علیہ’ سے یاد کیا جاتا ہے) مدینہ منورہ کے ان عظیم فقہاء اور علماء میں سے تھے جنہیں "فقہائے سبعہ” (مدینہ کے سات بڑے فقہاء) میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ کا پورا نام خارجہ بن زید بن ثابت انصاری نجاری خزرجی تھا۔ آپ کے والد جلیل القدر صحابی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ تھے جو کاتب وحی، قرآن مجید کے جمع کرنے والوں میں سے ایک اور علمِ فرائض (وراثت) کے سب سے بڑے ماہر تھے۔ خارجہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے والد کے اس عظیم علمی ورثے کو بخوبی سنبھالا اور اس میں اضافہ کیا۔ آپ بنو نجار قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جو مدینہ کے انصار کا ایک معزز قبیلہ تھا۔ آپ کو اس لیے بھی خاص مقام حاصل ہے کہ آپ نے اسلامی علم کو براہ راست جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے حاصل کیا اور اس علم کو بعد کی نسلوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
خارجہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت مدینہ منورہ میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ہوئی، اس لیے آپ کا شمار تابعین کے ائمہ میں ہوتا ہے، یعنی آپ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں پایا۔ چونکہ آپ کے والد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ ایک عظیم صحابی تھے، اس لیے خارجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی پرورش مکمل طور پر اسلامی ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی اور ان کی صحبت میں رہ کر قرآن، حدیث اور فقہ کا گہرا علم حاصل کیا۔ آپ نے دیگر کبار صحابہ کرام جیسے حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا۔ آپ کی زندگی کا آغاز ہی علم اور دین کی خدمت کے لیے وقف تھا، اور آپ نے صحابہ کرام کی تعلیمات کو اپنی ذات میں جذب کر لیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کم عمری میں ہی علمی حلقوں میں اپنی پہچان بنا چکے تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
خارجہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کے نمایاں کارناموں میں سب سے اہم ان کا "فقہائے سبعہ” میں شمار ہونا ہے۔ مدینہ منورہ میں اسلامی علوم، خاص طور پر فقہ، کے مستند ترین مراکز میں ان سات فقہاء کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ آپ کا فقہی اجتہاد، حدیث کا وسیع علم اور قرآن کی گہری سمجھ آپ کی علمی عظمت کی دلیل تھی۔ آپ مدینہ کے مفتی تھے اور لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔
آپ کی خدمات میں شامل ہیں:
- **علمِ حدیث کی روایت:** آپ نے اپنے والد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ متعدد کبار صحابہ کرام سے احادیث روایت کیں اور انہیں بعد کی نسلوں تک پہنچایا۔ آپ کے شاگردوں میں بڑے بڑے محدثین اور فقہاء شامل تھے۔
- **علمِ فقہ میں مہارت:** آپ کو فقہ میں خاص مقام حاصل تھا، آپ قیاس و اجتہاد میں بصیرت رکھتے تھے اور سلف صالحین کے منہج پر فتویٰ دیتے تھے۔ آپ کی فقہی آراء کو آج بھی اہمیت حاصل ہے اور فقہی کتب میں ان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
- **عادات و خصائل:** آپ انتہائی پرہیزگار، عابد و زاہد اور متواضع شخصیت کے مالک تھے۔ آپ دنیاوی خواہشات سے بے رغبت رہتے تھے اور اپنا وقت علم کے حصول اور اس کی نشر و اشاعت میں صرف کرتے تھے۔ آپ کی زندگی سادگی اور تقویٰ کی عمدہ مثال تھی۔
- **عدالتی ذمہ داریاں:** بعض روایات کے مطابق، آپ نے مدینہ میں قاضی کے فرائض بھی سرانجام دیے، جو آپ کی علمی قابلیت اور عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت کا عکاس ہے۔
میراث اور وصال
خارجہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی خدمت میں صرف کر دی۔ آپ نے مدینہ میں ایک مضبوط علمی روایت کو پروان چڑھایا جو بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہوئی۔ آپ کے شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے آپ کے علم کو جذب کیا اور اسے اسلامی دنیا کے کونے کونے میں پھیلایا۔ آپ کی فقہی آراء اور احادیث کی روایات آج بھی اسلامی کتب میں محفوظ ہیں۔ آپ کا وصال سن 99 ہجری یا بعض روایات کے مطابق سن 100 ہجری میں ہوا، آپ اس وقت تقریباً 70 سال کے تھے۔ مدینہ منورہ میں آپ نے وفات پائی اور وہیں تدفین ہوئی۔ آپ کی وفات سے عالمِ اسلام ایک عظیم فقیہ اور محدث سے محروم ہو گیا، لیکن آپ کا علمی ورثہ آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔
مستند حوالہ جات
- ابن سعد، محمد بن سعد بن منيع الزهري البصري، الطبقات الكبرى، الجزء الخامس، ذکر خارجة بن زيد.
- الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد، سير أعلام النبلاء، الجزء الرابع، خارجة بن زيد.
- المزي، يوسف بن عبد الرحمن، تهذيب الكمال في أسماء الرجال، الجزء الثامن، خارجة بن زيد بن ثابت.
- ابن كثير، إسماعيل بن عمر، البداية والنهاية، الجزء التاسع، وفيات سنة تسع وتسعين.
- مالك بن أنس، الموطأ، کتاب الأقضية، باب ما جاء في القضاء.
