حنظلة بن ابى آمر رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ کے انصار میں سے ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کا تعلق قبیلہ اوس کے بنو عمرو بن عوف سے تھا۔ آپ کے والد کا نام ابو عامر راہب تھا، جن کا اصلی نام عبد عمرو بن صیفی تھا۔ ابو عامر راہب کا شمار مدینہ کے سرکردہ اور صاحبِ اثر افراد میں ہوتا تھا، وہ شروع میں ایک حنفی تھے اور یہود و نصاریٰ کے علوم سے بھی واقفیت رکھتے تھے، مگر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اسلام کو عروج حاصل ہوا تو وہ اسلام کے سخت مخالف بن گئے اور یہاں تک کہ مدینہ چھوڑ کر مکہ چلے گئے اور پھر قیصر روم سے مسلمانوں کے خلاف مدد طلب کرنے کے لیے روم چلے گئے اور وہیں وفات پائی۔
حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کی شدید مخالفت کے باوجود اسلام قبول کیا اور ایمان کی راہ اختیار کی۔ آپ کا سب سے مشہور لقب "الغسیل الملائکہ” (جسے فرشتوں نے غسل دیا) ہے، جو آپ کو غزوہ احد میں شہادت کے بعد ملا۔ یہ لقب آپ کی غیر معمولی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کے مقام کی دلیل ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ میں گزری۔ آپ کا گھرانہ اپنی مذہبی حیثیت اور سماجی مقام کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ آپ کے والد ابو عامر راہب کا کفر و عناد اور اسلام دشمنی اپنے عروج پر تھی، لیکن حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے حق کو پہچانا اور اپنے والد کی مخالفت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا۔ آپ نے اسلام قبول کر کے ثابت کر دیا کہ ایمان کا رشتہ خونی رشتوں سے بالا تر ہے۔
غزوہ احد کی صبح سے قبل، حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی شادی عبداللہ بن ابی (جو رئیس المنافقین تھا) کی بیٹی جمیلہ بنت عبداللہ سے ہوئی تھی اور آپ شب زفاف میں تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ اور شہادت کا واقعہ غزوہ احد (3 ہجری) کے موقع پر پیش آیا۔ اس دن آپ نے ایک ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ایثار و قربانی کی درخشاں علامت بن گئی۔
غزوہ احد کی صبح، جب مسلمانوں کی صفیں ترتیب دی جا رہی تھیں اور جہاد کی پکار بلند ہو رہی تھی، حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابھی ابھی اپنی نئی نویلی دلہن سے خلوت گزاری کی تھی اور غسلِ جنابت نہیں کیا تھا۔ آپ نے جہاد کی آواز سنتے ہی بے تابانہ میدانِ جنگ کا رخ کیا۔ آپ کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس قدر غالب تھی کہ آپ نے دنیا کی ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا اور فوراً تلوار سنبھال کر میدان میں کود پڑے۔
میدانِ احد میں آپ نے کفار کے خلاف بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ ابن کثیر اور دیگر مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ نے ابوسفیان بن حرب، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور قریش کے لشکر کے سردار تھے، پر حملہ کیا اور انہیں قتل کرنے ہی والے تھے کہ شداد بن الاسود نے آپ پر پیچھے سے وار کیا اور آپ شہید ہو گئے۔
آپ کی شہادت کے بعد ایک انتہائی حیران کن اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "تمہارے ساتھی کو فرشتے غسل دے رہے ہیں!” جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی حقیقت دریافت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں میدانِ جنگ میں گئے تھے اور انہیں غسل کرنے کا موقع نہیں ملا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیج کر انہیں غسل دیا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کو دیکھا تو پانی کے قطرے ان کے سر سے ٹپک رہے تھے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق ہوئی۔ اسی دن سے آپ "غسیل الملائکہ” کے نام سے مشہور ہو گئے۔
میراث اور وصال
حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں 3 ہجری کو شہید ہوئے، آپ کی عمر اس وقت پچیس برس سے کم تھی۔ آپ نے اسلام کی راہ میں جو لازوال قربانی پیش کی، وہ رہتی دنیا تک جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کر دینے کی عظیم مثال ہے۔
آپ کی شہادت کے بعد، آپ کی زوجہ محترمہ جمیلہ بنت عبداللہ کے ہاں آپ کے صاحبزادے عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ عبداللہ بن حنظلہ بھی ایک جلیل القدر تابعی اور مجاہد بنے اور واقعہ حرہ (63 ہجری) میں یزید بن معاویہ کی فوج کے خلاف مدینہ کے دفاع کی قیادت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ اس طرح، حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی میراث جہاد اور حق پرستی کی صورت میں ان کی نسل میں بھی جاری رہی۔
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی زندگی مختصر مگر سبق آموز ہے۔ آپ نے یہ ثابت کر دیا کہ ایمان کی مضبوطی انسان کو ہر قسم کے خونی اور خاندانی رشتوں پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ترجیح دینے پر آمادہ کرتی ہے۔ آپ کا یہ عمل آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ جب حق کی پکار ہو تو کسی دنیاوی کام یا تعلق کی پرواہ نہ کی جائے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- تاریخ الامم والملوک از طبری
- صحیح بخاری (کتاب الغسل، باب غسل المشرك و غيره)
- سنن ابی داؤد
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
