حرقوص العنبری رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حرقوص بن زہیر السعدی التمیمی العنبری رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو تمیم کی شاخ بنو سعد بن زید مناۃ سے تھا، جو بعد میں بنو عنبر بن عمرو بن تمیم سے منسوب ہوئے۔ آپ کی کنیت ابو الخیل تھی۔ ابتدائی دور میں آپ "ذو الخویصرہ التمیمی” کے نام سے بھی معروف ہوئے، یہ لقب آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مخصوص واقعے کے بعد ملا جس کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔ آپ کا تعلق بصرہ کے علاقے سے تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حرقوص بن زہیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اسلام قبول کیا۔ آپ کا تذکرہ ایک ایسے واقعہ سے ملتا ہے جب غزوہ حنین کے بعد مال غنیمت کی تقسیم ہو رہی تھی۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص (جو بعد میں ذو الخویصرہ کے نام سے پہچانا گیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! انصاف کیجیے!” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر میں انصاف نہیں کرتا تو اور کون کرے گا؟ تم نے خسارہ اٹھایا اگر میں انصاف نہ کروں۔” اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس شخص کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔” یہ واقعہ حرقوص بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کا ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے اور کئی علماء اسے خوارج کے ظہور کی پیش گوئی قرار دیتے ہیں۔ اس واقعے کے باوجود، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھے اور ابتدائی مسلمانوں میں شامل تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حرقوص بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہ نے ابتدائی اسلامی فتوحات میں حصہ لیا۔ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں، آپ جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں شامل تھے۔ تاہم، بعد ازاں آپ جنگ صفین کے بعد پیش آنے والے تحکیم (ثالثی) کے معاملے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف کرنے والے گروہ میں شامل ہو گئے، جو کہ خوارج کے نام سے مشہور ہوا۔ آپ ان سرکردہ افراد میں سے تھے جنہوں نے تحکیم کے فیصلے کو "اللہ کے حکم کے خلاف” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور "لا حکم إلا للہ” (حکم صرف اللہ کا ہے) کا نعرہ بلند کیا۔ آپ نے اس اختلاف کی بنا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انکار کر دیا اور اپنے پیروکاروں کے ساتھ نہروان کے مقام پر جمع ہو گئے۔ آپ خوارج کے ایک اہم رہنما بن کر ابھرے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے خلاف جنگ نہروان میں صف آرا ہوئے۔
میراث اور وصال
حرقوص بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہ 38 ہجری میں جنگ نہروان کے مقام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ آپ کا وصال اسلامی تاریخ کے ایک انتہائی پرآشوب دور میں ہوا، جب مسلمانوں کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ آپ کی زندگی اور خاص طور پر آپ کے بعد کے واقعات، اسلامی فرقوں کی تشکیل اور خوارج کے ظہور کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ آپ کی شخصیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے جس میں ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا تھا جو ظاہری طور پر دیندار ہوں گے لیکن دین کی روح سے محروم ہوں گے۔ آپ کا تذکرہ تاریخ میں ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اجتہادی اختلاف کی بنا پر امت مسلمہ میں ایک نئے فکری دھارے کی بنیاد رکھی، جس کے اثرات صدیوں تک اسلامی معاشروں پر مرتب ہوتے رہے۔ آپ کا انجام عبرت کا نشان بنا، اس بات کی دلیل کے طور پر کہ اگرچہ نیت خالص ہو سکتی ہے، مگر دین کی فہم میں غلطی بڑے فتنوں کا سبب بن سکتی ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب من قال ما منعت صدقۃ الا جمعت… حدیث نمبر 1416، 3610، 6933۔
- صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب ذکر الخوارج وصفاتہم… حدیث نمبر 1064۔
- تاریخ الطبری، از محمد بن جریر الطبری۔ (متعدد جلدوں میں جنگ جمل، صفین، اور نہروان کے واقعات کے تحت)۔
- البدایہ والنہایہ، از حافظ ابن کثیر۔ (جنگ نہروان اور خوارج کے باب میں تفصیل)۔
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، از ابن اثیر جزری۔ (حرقوص بن زہیر کے تذکرہ کے تحت)۔
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، از ابن عبدالبر۔
