حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام حرام بن ملحان بن خالد بن زید بن حارث بن حرام الانصاری الخزرجی ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصار کے قبیلہ خزرج کے ایک معزز بطن بنو نجار سے تھا۔ بنو نجار کی اہمیت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا مدینہ ہجرت کے بعد قیام پہلے اسی قبیلے میں ہوا تھا۔ حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی تھے، جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ اور اس نسبت سے رسول اللہ ﷺ کی خالہ بھی تھیں۔ اس رشتہ داری کی بناء پر حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم ﷺ کے خالو تھے۔ آپ ان جلیل القدر صحابہ میں سے تھے جنہیں "قرّاء” یعنی قرآن کے ماہر قاری اور اس کے علوم کے عالم کے طور پر جانا جاتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کا شمار مدینہ کے ان ابتدائی انصار میں ہوتا ہے جنہوں نے صدق دل سے اسلام قبول کیا اور دینِ حق کی پکار پر لبیک کہا۔ ہجرتِ نبوی ﷺ سے قبل یا اس کے فوراً بعد آپ نے اسلام قبول فرمایا اور اپنی زندگی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کا شمار ان مخلص اور فداکار صحابہ میں ہوتا تھا جنہوں نے علم و تقویٰ اور ایمان کی پختگی کو اپنی پہچان بنایا۔ آپ نے نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہ کر قرآن اور دین کا گہرا علم حاصل کیا اور اسی بنا پر قرّاء کے معزز گروہ میں شامل ہوئے۔ آپ کی ابتدائی زندگی اطاعتِ الٰہی، عبادت اور دینی علوم کے حصول میں گزری۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ نے دیگر انصاری صحابہ کی طرح اسلام کی سر بلندی کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔ آپ نے غزوہ بدر اور غزوہ احد سمیت تمام اہم غزوات میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شرکت کی اور دادِ شجاعت دی۔

بئر معونہ کا واقعہ اور شہادت

آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں اور ایمان افروز واقعہ بئر معونہ میں آپ کی شہادت ہے۔ یہ واقعہ سن 4 ہجری (بعض روایات کے مطابق 3 ہجری) میں پیش آیا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ بنو عامر کے سردار عامر بن طفیل نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ کچھ ایسے مبلغین اور معلمین اسلام بھیجے جائیں جو اس کے علاقے کے لوگوں کو قرآن اور دین سکھا سکیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس درخواست پر لبیک کہا اور ستر بہترین قرّاء صحابہ کرام کا ایک وفد تیار کیا، جن میں حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ اس وفد کی قیادت حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ فرما رہے تھے۔

جب یہ صحابہ کرام بئر معونہ (ایک کنویں کا نام جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع تھا) کے مقام پر پہنچے تو عامر بن طفیل نے ان کے ساتھ غداری کی اور بنو سلیم کے قبائل کو ان پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ دشمنوں نے صحابہ کرام پر اچانک حملہ کر دیا اور اکثر صحابہ کو شہید کر دیا۔ روایت کے مطابق جب حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک نیزہ مارا گیا جو ان کے کندھے سے پار ہو گیا تو آپ نے اس حالت میں باآواز بلند پکارا: "فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ!” (رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا!)۔ آپ کے یہ الفاظ بعد میں ہر شہید مسلمان کے لیے استقامت اور کامیابی کا نشان بن گئے۔ اس المناک واقعہ میں ستر (70) قرّاء صحابہ کرام شہید ہو گئے، سوائے ایک یا دو کے۔

میراث اور وصال

حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ نے 4 ہجری میں بئر معونہ کے مقام پر غداری کے نتیجے میں شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا اور جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ دین اسلام کی خدمت اور اشاعت کے لیے کس قدر پُرعزم تھے۔

نبی کریم ﷺ کا غم اور قنوتِ نازلہ

بئر معونہ کے اس دلخراش واقعے نے رسول اللہ ﷺ کو شدید رنج پہنچایا۔ آپ ﷺ کو اس قدر دکھ ہوا کہ آپ ﷺ نے تقریباً ایک ماہ تک فجر کی نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھی اور ان غدار قبائل کے لیے بددعا فرمائی جنہوں نے معصوم مبلغین اور قرّاء کو دھوکے سے شہید کیا۔

لازوال میراث

حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ کا قول "فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ!” (رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا!) اسلام کی تاریخ میں استقامت، رضا بالقضا اور شہادت کی تمنا کا ایک لازوال نشان بن گیا ہے۔ یہ جملہ آج بھی ہر مسلمان شہید کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ آپ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ دین کی راہ میں قربانی دینے والا ہی اصل کامیاب ہے۔ آپ کی شہادت نے اسلامی تعلیمات کے پھیلاؤ کے لیے صحابہ کرام کی بے لوث جدوجہد اور ان کی جرات کو اجاگر کیا۔ آپ کو آپ کے علم، تقویٰ، اور بے مثال جرات کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة الرجیع وذکر بئر معونة.
  • صحیح مسلم، کتاب الإمارة، باب ثبوت الجنة للشهید وفی فضل الشهادة.
  • سیرت ابن ہشام، باب غزوة بئر معونة.
  • البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 4، باب غزوة بئر معونة.
  • تاریخ الطبری، جلد 2، باب غزوة بئر معونة.
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ابن الاثیر، جلد 2، تذکرہ حرام بن ملحان.
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ابن عبد البر، تذکرہ حرام بن ملحان.