حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام حجر بن عدی بن جبلہ بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ تھا۔ آپ کا تعلق یمنی قبیلہ کندہ کی ایک معزز شاخ بنو اسد سے تھا، اسی لیے آپ کو کندی اور اسدی دونوں نسبتوں سے پکارا جاتا ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا تعلق بنو تمیم سے تھا۔ خاندانی شرافت اور نسبی وقار کی بنا پر آپ عرب کے ایک ممتاز گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کو "حجر الخیر” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے جو آپ کی نیکی، پرہیزگاری اور تقویٰ کی علامت ہے۔ آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی دین اسلام کے لیے وقف کر دی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ہوئی تھی۔ آپ نے اپنی جوانی کے ابتدائی ایام جاہلیت میں گزارے لیکن حق کی جستجو آپ کے دل میں موجود تھی۔ مدینہ منورہ میں اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعد آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ نے غزوہ خندق سے قبل یا اس کے بعد اسلام قبول کیا، اور آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کی ہیں۔ قبولِ اسلام کے بعد آپ نے اپنے آپ کو مکمل طور پر دینِ الٰہی کے تابع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر علم و حکمت اور ایمانی تربیت حاصل کی۔ آپ تقویٰ، پرہیزگاری، جرات اور حق گوئی میں ممتاز تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی عظیم خدمات انجام دیں۔ آپ ایک بہادر سپاہی اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل تھے۔ خلفائے راشدین کے دور میں آپ نے فتوحاتِ اسلامی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے جنگ قادسیہ میں شرکت کی جہاں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں مسلمانوں نے ایران کو فتح کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے شام کی فتوحات اور دیگر کئی اہم معرکوں میں دادِ شجاعت دی، اور آپ کا شمار کوفہ کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا تھا۔
آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو آپ کا حق کے لیے بے باک موقف اختیار کرنا اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد جب امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا دورِ خلافت آیا، تو بعض گورنروں نے منابر پر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں گستاخی اور سب و شتم کا سلسلہ شروع کیا۔ سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس بدعت کو سخت ناپسند کیا اور کوفہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ آپ کا موقف یہ تھا کہ ایک جلیل القدر صحابی اور اہل بیت کی فرد کے خلاف اس طرح کی بات کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
کوفہ کے گورنر زیاد بن ابیہ (جو بعد میں بصرہ کے بھی گورنر بنے) نے سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں کو فتنے کا الزام لگا کر گرفتار کر لیا۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے بارہ ساتھیوں کو امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس شام بھیج دیا، جہاں انہیں "مرج عذراء” کے مقام پر قید کر دیا گیا۔ بہت سی شفاعتیں اور سفارشیں کی گئیں، جن میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شفاعت بھی شامل تھی، لیکن امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے زیاد بن ابیہ کے اصرار پر انہیں قبول نہیں کیا۔ بالآخر، 51 ہجری میں (بعض روایات کے مطابق 53 ہجری) سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے چھ ساتھیوں کو ناحق شہید کر دیا گیا۔ آپ شہادت سے قبل دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ سے دعا کی کہ انہیں اس وقت تک تلوار کی مار سے صبر عطا فرمائے جب تک ان کی زبان اللہ کا ذکر کر رہی ہے۔ آپ پہلے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے جنہیں بعد کے مسلمانوں کے ہاتھوں سیاسی وجوہات کی بنا پر شہید کیا گیا۔

میراث اور وصال

سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی دلخراش واقعہ ہے جسے متعدد مورخین نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ آپ کی شہادت کو تاریخ میں ظلم و استبداد کے خلاف حق گوئی اور ثابت قدمی کی ایک بے مثال داستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ پیغام دیا کہ حق کی خاطر ہر قسم کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ آپ کی شہادت نے امت مسلمہ میں گہرے اثرات چھوڑے اور اہل بیت و صحابہ کرام سے محبت کرنے والے ہر طبقے کے دلوں میں آپ کے لیے احترام و عقیدت پیدا کی۔
آپ کو شام کے علاقے مرج عذراء میں دفن کیا گیا، اور آپ کا مزار صدیوں تک زائرین کے لیے ایک روحانی مرکز رہا۔ سن 2013 میں شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران بعض انتہا پسند گروہوں نے آپ کے مزار کی بے حرمتی کی اور آپ کے جسدِ خاکی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کی دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید مذمت کی۔ سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ آج بھی امت مسلمہ کے لیے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، عدل و انصاف کا ساتھ دینے اور دین پر ثابت قدم رہنے کی ایک درخشاں علامت ہیں۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، جلد 8.
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 5.
  • ابن الأثیر، الکامل فی التاریخ، جلد 3.
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 6.
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، جلد 2.
  • الذہبی، سیر أعلام النبلاء، جلد 3.