حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلے خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا۔ آپ کا پورا نام حبیب بن زید بن عاصم بن عمرو بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام نصیبہ بنت کعب تھا، جو ام عمارہ کے نام سے مشہور تھیں اور اسلام کی تاریخ کی عظیم مجاہدہ صحابیات میں سے ایک تھیں۔ آپ کے والد زید بن عاصم بھی جلیل القدر صحابی تھے۔
حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ ان چند خوش نصیب انصار صحابہ میں سے تھے جنہوں نے ابتدا ہی میں اسلام قبول کیا اور دین کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو "شہید” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ آپ نے دینِ حق کی خاطر شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور آپ نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں اسلام کی روشنی تیزی سے پھیل رہی تھی۔ آپ کی والدہ محترمہ، ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا، ابتداء ہی سے اسلام کی پرجوش داعیہ اور رسول اللہ ﷺ کی فدائی تھیں۔ اس مذہبی و انقلابی گھرانے کی تربیت نے حبیب رضی اللہ تعالی عنہ کے قلب میں بھی ایمان کی گہری جڑیں پیدا کر دیں۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کم عمری میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ ان ستر انصاری صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ہجرت سے قبل، سن 13 نبوی (622ء) میں بیعتِ عقبہ ثانیہ میں حصہ لیا تھا۔ یہ وہ تاریخی موقع تھا جب اہل مدینہ نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ ہجرت کی دعوت دی اور آپ ﷺ کی مکمل حفاظت اور اطاعت کا عہد کیا۔ حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور آپ ﷺ کے پیروکار اور مددگار ہونے کا شرف حاصل کیا۔ اس بیعت میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر مبارک بہت کم تھی، لیکن آپ کے ایمان کی پختگی قابلِ دید تھی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اگرچہ زیادہ طویل نہیں تھی، مگر آپ کے کارنامے اور خدمات تاریخِ اسلام میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔
- بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت: آپ کا سب سے پہلا اور اہم کارنامہ بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت تھا، جس نے مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور ہجرتِ نبوی ﷺ کا راستہ ہموار کیا۔
-
مسیلمہ کذاب کے خلاف مہم اور شہادت: رسول اللہ ﷺ نے متعدد حکمرانوں اور قبائلی سرداروں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط بھیجے تھے۔ نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کو بھی ایسا ہی ایک خط بھیجا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس اہم پیغام کو لے کر جانے کے لیے حضرت حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کا انتخاب فرمایا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور حساس مشن تھا، جس کے لیے کمالِ جرات اور وفاداری درکار تھی۔
حضرت حبیب رضی اللہ تعالی عنہ جب یمامہ (نجد کا علاقہ) میں مسیلمہ کے پاس پہنچے اور اسے رسول اللہ ﷺ کا خط پیش کیا، تو مسیلمہ نے انہیں قید کر لیا۔ مسیلمہ نے آپ سے پوچھا: "کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟” حضرت حبیب رضی اللہ تعالی عنہ نے بلا جھجک جواب دیا: "ہاں، میں گواہی دیتا ہوں!”
پھر مسیلمہ نے پوچھا: "اور کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) اللہ کا رسول ہوں؟” اس پر حضرت حبیب رضی اللہ تعالی عنہ نے برملا اور نہایت استقامت کے ساتھ انکار کیا اور فرمایا: "میں نہیں سنتا (یا یہ کہ مجھے یہ بات قبول نہیں)۔”
مسیلمہ اس جواب سے سخت غضبناک ہوا اور اس نے حضرت حبیب رضی اللہ تعالی عنہ کو اذیت دینا شروع کی۔ وہ آپ کے جسم کے اعضاء کو ایک ایک کر کے کاٹتا جاتا اور ہر بار وہی سوال دہراتا، مگر حضرت حبیب رضی اللہ تعالی عنہ نے ہر بار رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کیا اور مسیلمہ کی نبوت کا انکار کیا۔ آخرکار، مسیلمہ نے انہیں ٹکڑوں میں کاٹ کر شہید کر دیا۔ یہ ایمان پر ثابت قدمی اور کمالِ وفاداری کی ایک بے مثال داستان ہے۔ - اہلِ ایمان کے لیے مثالی کردار: آپ کی یہ عظیم شہادت اہل ایمان کے لیے ہمیشہ ایک مثالی کردار رہی ہے کہ حق پر قائم رہنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کی شہادت رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے آخری ایام میں پیش آئی، اور آپ ﷺ کو جب اس دلخراش واقعے کی خبر ملی تو آپ ﷺ غمگین ہوئے۔
میراث اور وصال
حضرت حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے 11 ہجری میں، رسول اللہ ﷺ کے وصال سے کچھ ہی عرصہ بعد، مسیلمہ کذاب کے ہاتھوں یمامہ کے علاقے میں شہادت پائی۔ آپ کی شہادت حق پر ثابت قدمی اور غیر متزلزل ایمان کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
آپ کی والدہ محترمہ، ام عمارہ نصیبہ بنت کعب رضی اللہ تعالی عنہا، اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر سخت غمزدہ ہوئیں، مگر اس غم کو انہوں نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کے لیے قوت میں بدل دیا۔ انہوں نے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے جنگ یمامہ میں شرکت کی اجازت طلب کی، تاکہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل مسیلمہ سے بدلہ لے سکیں۔ جنگ یمامہ میں انہوں نے نہ صرف بہادری سے حصہ لیا بلکہ خود مسیلمہ کذاب کے قتل میں بھی کردار ادا کیا اور اس جنگ میں گیارہ زخم کھائے۔
حضرت حبیب بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث دراصل ایمان کی پختگی، رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت، اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کا ابدی سبق ہے۔ آپ کی زندگی اور شہادت نے بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے ثابت قدمی اور قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
مستند حوالہ جات
- ابن ہشام، السیرۃ النبویہ
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- امام بخاری، صحیح بخاری (ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسیلمہ کذاب کے بارے میں روایات)
- امام مسلم، صحیح مسلم
- تاریخ طبری
