حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور تعارف

حضرت حارث بن عبدالمطلب (عنہ) رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا اور عبدالمطلب بن ہاشم کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ آپ کا مکمل نسب حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف ہے۔ آپ کی والدہ کا نام سمرہ بنت جندب بن حُجیر (بنواسد) تھا۔ حارث بن عبدالمطلب اپنے والد عبدالمطلب کے پہلے فرزند تھے اور اسی وجہ سے انہیں اپنے والد کے ساتھ مکہ کی معاشرت میں اہم مقام حاصل تھا۔ آپ کا کوئی مخصوص لقب تاریخ میں کثرت سے مشہور نہیں، تاہم آپ کو عموماً آپ کے والد کے بڑے بیٹے کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حارث بن عبدالمطلب کی ابتدائی زندگی مکہ کے قریش معاشرت میں گزری۔ آپ کو تاریخ میں سب سے نمایاں طور پر اس وقت یاد کیا جاتا ہے جب آپ نے اپنے والد عبدالمطلب کی زمزم کے کنویں کی دوبارہ کھدائی میں مدد کی۔ یہ وہ وقت تھا جب عبدالمطلب کو قریش کی شدید مخالفت کا سامنا تھا اور حارث ہی ان کے واحد (بعض روایات کے مطابق، اس وقت ان کے واحد جوان) بیٹے تھے جو ان کے ساتھ اس عظیم کام میں شریک ہوئے۔ اس واقعے سے حارث کی اپنے والد سے گہری وابستگی اور ان کی اطاعت کا پتا چلتا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق، حارث بن عبدالمطلب کا وصال بعثتِ نبوی سے قبل یا اس کے بالکل ابتدائی ایام میں ہوا، یعنی آپ نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا۔ اس لیے آپ نے اسلام قبول نہیں فرمایا اور نہ ہی آپ کو صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ کی وفات نبوت سے پہلے ہونے کی وجہ سے، آپ کو "رضی اللہ تعالی عنہ” کے ساتھ یاد نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ لقب ان صحابہ کے لیے مخصوص ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ پر ایمان لا کر دین اسلام کی خدمت کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

چونکہ حارث بن عبدالمطلب کا وصال نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل ہو گیا تھا، لہٰذا آپ کے نمایاں کارنامے اور خدمات براہ راست دین اسلام کی اشاعت یا دفاع کے حوالے سے نہیں ہیں۔ آپ کا سب سے بڑا اور یادگار کارنامہ اپنے والد عبدالمطلب کی زمزم کے کنویں کی دوبارہ کھدائی میں بھرپور معاونت کرنا تھا۔ یہ مکہ کے اہل اور حج پر آنے والے زائرین کے لیے ایک عظیم خدمت تھی جس کا اجر آپ کو یقیناً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملے گا۔

اس کے علاوہ، آپ اپنے والد کے بڑے فرزند کی حیثیت سے قریش کے سردار گھرانے میں ایک اہم رکن تھے۔ آپ نے اپنے والد کی سرپرستی میں قریش کے رسم و رواج اور مکہ کی انتظامی امور میں یقیناً حصہ لیا ہوگا۔ آپ نے اپنے پیچھے اولاد چھوڑی جن میں آپ کے بیٹے نوفل بن حارث (رضی اللہ عنہ) نے بعد میں اسلام قبول کیا اور ایک جلیل القدر صحابی بنے۔

میراث اور وصال

حارث بن عبدالمطلب کی میراث ان کے خاندان اور بالخصوص ان کے بیٹے نوفل بن حارث (رضی اللہ عنہ) کی صورت میں آگے بڑھی جنہوں نے اسلام قبول کیا اور غزوۂ بدر سمیت متعدد غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ نوفل بن حارث (رضی اللہ عنہ) نے اپنی سخاوت اور بہادری سے دین اسلام کی عظیم خدمات انجام دیں۔

حارث بن عبدالمطلب کا وصال مکہ مکرمہ میں بعثتِ نبوی سے قبل ہوا۔ بعض روایات کے مطابق آپ کی وفات نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے بھی پہلے ہوئی، جبکہ دیگر روایات کے مطابق آپ کا انتقال بعثت کے ابتدائی برسوں میں ہوا۔ البتہ اس پر تمام مؤرخین متفق ہیں کہ آپ نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا اور نہ ہی آپ کو ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو مکہ مکرمہ میں دفن کیا گیا، اور آپ کی قبر کا مقام صحیح طور پر معلوم نہیں ہے۔

مستند حوالہ جات

  • محمد بن اسحاق، سیرت ابن ہشام (الروض الأنف في شرح السیرة النبویة لابن هشام)
  • ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
  • ابو الفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقی، البدایہ والنہایہ
  • محمد بن سعد، طبقات ابن سعد (الطبقات الکبریٰ)