جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار سابقون الاولون صحابہ کرام میں ہوتا ہے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائیوں میں سے تھے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب تھا، جو قریش کے سرداروں میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا تھے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں، جو ہاشمی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ حضرت جعفر، امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حقیقی بڑے بھائی تھے۔ آپ کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوتھی پشت میں جا کر ملتا ہے (محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم، اور جعفر بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم)۔
آپ کی کنیت "ابو عبداللہ” تھی، لیکن آپ "ابو المساکین” کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے کیونکہ آپ مسکینوں اور غریبوں پر بے پناہ شفقت اور سخاوت فرماتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ لقب عطا فرمایا تھا۔ آپ کو سب سے بڑا لقب "ذو الجناحین” (دو پروں والا) بھی عطا ہوا، جو آپ کی شہادت کے بعد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی عظمت شان بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت میں دو پر عطا فرمائے ہیں جن سے آپ اڑتے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ مکرمہ کے ایک معزز گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کا بچپن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کا آپ کی شخصیت پر گہرا اثر تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا، تو حضرت جعفر نے بغیر کسی تردد کے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کر لیا۔ آپ ان چند خوش نصیبوں میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ حق کی ابتداء ہی میں لبیک کہا۔ آپ کا قبولِ اسلام اس وقت ہوا جب مسلمان گنتی کے چند افراد تھے اور انہیں قریش کی شدید ترین اذیتوں کا سامنا تھا۔ آپ نے ایمان کی خاطر ہر قسم کی مصیبت برداشت کی اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد بھی جلد ہی اسلام لے آئیں اور وہ پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ہجرتِ حبشہ اور قیادت
جب مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اپنی انتہا کو پہنچ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حبشہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حبشہ کی جانب دوسری ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے قافلے کا سالار مقرر کیا گیا۔ اس قافلے میں تقریباً تراسی (83) مرد اور انیس (19) خواتین شامل تھیں۔ آپ نے بڑی دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ اس قافلے کی قیادت فرمائی۔
جب قریش کو اس ہجرت کی اطلاع ملی تو انہوں نے عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو شاہ حبشہ (نجاشی) کے پاس بیش قیمت تحائف دے کر بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو واپس مکہ لے آئیں۔ نجاشی نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں طلب کیا اور ان سے ان کے دین کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی فصاحت و بلاغت اور جرأت کے ساتھ اسلام کی تعلیمات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق مسلمانوں کے عقیدے کو پیش کیا۔
آپ نے فرمایا: "اے بادشاہ! ہم ایک ایسی قوم تھے جو جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، فواحش کا ارتکاب کرتے تھے، رشتہ داروں سے تعلقات توڑتے تھے، پڑوسیوں سے بدسلوکی کرتے تھے، ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ نے ہم میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جس کے حسب و نسب، سچائی، امانت اور پاکدامنی کو ہم سب جانتے ہیں۔ اس نے ہمیں اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی دعوت دی اور بتوں اور پتھروں کی پوجا سے منع کیا۔ اس نے ہمیں سچ بولنے، امانتیں ادا کرنے، صلہ رحمی کرنے، پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرنے اور حرام چیزوں سے بچنے کا حکم دیا۔ اس نے ہمیں نماز، زکوٰۃ اور روزے کا حکم دیا۔ ہم نے اس پر ایمان لایا اور اس کی پیروی کی۔ اسی وجہ سے ہماری قوم نے ہم پر ظلم ڈھائے اور ہمیں دین چھوڑ کر بت پرستی کی طرف لوٹانے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے ہم پر ظلم و ستم بڑھا دیا تو ہم آپ کے ملک میں آئے، اس امید پر کہ یہاں ہمیں ظلم نہیں ہوگا۔”
حضرت جعفر کے اس دلنشین خطاب نے نجاشی کو بہت متاثر کیا۔ اس نے قریش کے سفیروں کی درخواست مسترد کر دی اور مسلمانوں کو اپنے ملک میں مکمل تحفظ فراہم کیا۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں مسلمان دس سال سے زائد عرصے تک حبشہ میں رہے اور وہاں سکون سے دین پر عمل کرتے رہے۔
واپسی مدینہ اور غزوہ موتہ
7 ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح فرمایا، تو اسی دوران حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ سے مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی واپسی پر بے پناہ خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا: "میں نہیں جانتا کہ مجھے خیبر کی فتح زیادہ خوش کر رہی ہے یا جعفر کی آمد۔” اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو گلے لگایا اور آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
8 ہجری میں غزوہ موتہ پیش آیا۔ یہ رومیوں کے خلاف ایک اہم فوجی مہم تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا امیر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر فرمایا اور ہدایت کی کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب امیر ہوں گے، اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے۔ جنگ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدید لڑائی کے بعد شہید ہو گئے۔ ان کے بعد حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلامی پرچم سنبھالا اور بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔
آپ نے بڑی بہادری سے لڑائی لڑی اور جب دشمنوں نے آپ کو گھیر لیا تو آپ نے اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں تاکہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ہو اور ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔ آپ کے ایک بازو کو دشمن نے تلوار سے کاٹ دیا، لیکن آپ نے پرچم کو دوسرے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑے رکھا۔ جب وہ ہاتھ بھی کٹ گیا تو آپ نے پرچم کو اپنے سینے سے لگا کر تھامے رکھا۔ بالآخر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رومیوں نے شہید کر دیا اور آپ کے جسم پر ستر (70) سے زائد زخم تھے۔ آپ کی شہادت کے بعد پرچم حضرت عبداللہ بن رواحہ نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔
میراث اور وصال
حضرت جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت غزوہ موتہ میں 8 ہجری میں ہوئی، اس وقت آپ کی عمر تقریباً 41 سال تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ بہت غمزدہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر کے گھر جا کر ان کے اہل و عیال کو تسلی دی اور ان کے بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ لیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جعفر کو جنت میں دو پر عطا کیے گئے ہیں جن سے وہ پرواز کرتے ہیں جہاں چاہتے ہیں۔” اسی وجہ سے آپ کا لقب "ذو الجناحین” (دو پروں والا) پڑ گیا۔ آپ کی اہلیہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں اور آپ کے تین بیٹے تھے: عبداللہ، محمد اور عون۔
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ایمان، ہجرت، جہاد، سخاوت اور فصاحت و بلاغت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی سب سے بڑی میراث آپ کا کردار ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کی ہجرتِ حبشہ کی قیادت اور نجاشی کے دربار میں آپ کا بے مثال خطاب، آپ کی ایمانی غیرت، حکمت اور قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ "ابو المساکین” کے لقب سے اس لیے سرفراز ہوئے کیونکہ آپ مسکینوں اور یتیموں کا خصوصی خیال رکھتے تھے اور ان پر اپنا مال خرچ کرنے میں ذرا بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ آپ اسلام کی تاریخ کے ایک عظیم مجاہد، مبلغ اور شہید ہیں جن کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام)
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک از محمد بن جریر الطبری)
- البدایہ والنہایہ (از حافظ ابن کثیر)
- اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ (از ابن الاثیر)
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ (از ابن حجر عسقلانی)
- صحیح بخاری و صحیح مسلم (کتب الاحادیث)
