جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام جریر بن عبداللہ بن جابر (یا حابہ) بن مالک بن نصر بن ثعلبہ بن جعفی بن امرئ القیس بن بجیلہ البجلی ہے۔ آپ کا تعلق یمن کے قحطانی قبیلے بجیلہ سے تھا، جو اپنی شجاعت اور فصاحت کے لیے مشہور تھا۔ آپ کی کنیت ابو عمرو تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی غیر معمولی خوبصورتی کے باعث مشہور تھے، اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو "یوسف ہذہ الامۃ” (اس امت کے یوسف) کا لقب عطا فرمایا، جس سے آپ کے حسن و جمال اور اخلاقی پاکیزگی کی تصدیق ہوتی ہے۔ آپ کے والد عبداللہ بھی اپنی قوم میں معزز اور نامور شخصیات میں سے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی یمن میں گزری جہاں آپ اپنے قبیلے بجیلہ کے سردار تھے۔ آپ نے ہجرت کے دسویں سال، حجة الوداع سے چند ماہ قبل، اپنی قوم کے وفد کے ہمراہ مدینہ منورہ آ کر اسلام قبول کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب عرب کے اکثر قبائل اسلام کے دامن میں پناہ لے رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی آمد پر غیر معمولی عزت و احترام کا مظاہرہ فرمایا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت جریر رضی اللہ تعالی عنہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھا کر آپ کو بٹھایا اور فرمایا: "جب کوئی معزز شخص تمہارے پاس آئے تو اس کی عزت کرو۔” آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور اس شرط پر کہ ہر مسلمان کی خیر خواہی کریں گے، نماز قائم کریں گے، زکوٰة ادا کریں گے اور امیر بننے کی طلب نہیں کریں گے۔ آپ کے قبولِ اسلام سے آپ کے قبیلے بجیلہ میں بھی اسلام تیزی سے پھیلا اور ان کی ایک کثیر تعداد مشرف بہ اسلام ہوئی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کے نمایاں کارنامے درج ذیل ہیں:
- ذو الخلصہ کی مہم: قبولِ اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ذو الخلصہ نامی بت کدہ کو منہدم کرنے کے لیے بھیجا، جسے "یمنی کعبہ” کہا جاتا تھا اور بجیلہ و خثعم قبائل اس کی پوجا کرتے تھے۔ حضرت جریر رضی اللہ تعالی عنہ ایک سو پچاس شہسواروں کے دستے کے ساتھ گئے، کامیابی سے بت کدہ کو منہدم کیا اور وہاں کے مشرکوں کو شکست دی۔ جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ اور آپ کے لشکر کے حق میں دعا فرمائی: "اللهم بارك في خيل جرير وأحمسه” (اے اللہ! جریر کے گھوڑوں اور ان کے لشکر میں برکت عطا فرما!)۔
- جنگِ ارتداد: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب بعض قبائل میں ارتداد کی لہر اٹھی، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو یمن میں مرتدین کے خلاف کارروائی کے لیے بھیجا۔ آپ نے نہایت بہادری اور حکمت سے کام لیتے ہوئے یمن میں اسلام کو استحکام بخشا اور مرتدین کے فتنے کو کچلا۔
- فتوحاتِ عراق و فارس: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ نے عراق اور فارس کی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ جنگ قادسیہ، جلولاء، مدائن اور نہاوند میں شریک ہوئے اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے۔ جنگ قادسیہ سے قبل آپ کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سفیر بنا کر ایران کے بادشاہ یزدگرد کے دربار میں بھیجا، جہاں آپ نے کمالِ فصاحت و بلاغت سے اسلام کا پیغام پیش کیا اور مسلمانوں کی قوت و عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
- حکومتی عہدے: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو حلوان کا عامل (گورنر) مقرر کیا، اور بعد ازاں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بھی آپ نے فارس کے بعض علاقوں میں حکومتی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔
- روایتِ حدیث: آپ جلیل القدر محدثین میں سے تھے اور آپ سے متعدد احادیث مروی ہیں۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست علم حاصل کیا اور کئی تابعین نے آپ سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ آپ کی روایت کردہ احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔
میراث اور وصال
حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلامی ریاست کی وفاداری اور استحکام کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تو آپ نے فتنہ سے اجتناب کیا اور امت میں خونریزی کو ناپسند کیا۔ آپ نے ابتداء میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حمایت کی اور ان کی طرف سے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس سفیر بن کر بھی گئے تاکہ صلح کرائی جاسکے، لیکن جب معاملات مزید بگڑ گئے تو آپ اس فتنہ سے کنارہ کش ہو کر شام کے علاقے قرقیسیا میں گوشہ نشین ہو گئے، تاکہ مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق اور خونریزی کا حصہ نہ بنیں۔
آپ کا وصال 51 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 54 ہجری) میں قرقیسیا کے مقام پر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ آپ کی اولاد میں عوف، ابراہیم، منذر اور دیگر بیٹے شامل تھے۔ آپ کو ایک خوبصورت، بہادر، فصیح، دیانتدار اور مخلص صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دینِ اسلام کی خدمت میں گزارا اور آنے والی نسلوں کے لیے تقویٰ، شجاعت اور دانشمندی کی مثال قائم کی۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سنن ترمذی
- مسند احمد بن حنبل
- سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
- تاریخ الطبری از امام طبری
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
