جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف القرشی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو نوفل سے تھا جو بنو عبد مناف کی ایک شاخ تھی۔ آپ کا نسب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے عبد مناف پر ملتا ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا تھے۔ آپ کے والد مطعم بن عدی قریش کے سرکردہ اور صاحبِ اثر افراد میں سے تھے، جنہوں نے بعثتِ نبوی کے ابتدائی دور میں شعبِ ابی طالب کے بائیکاٹ کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور قریش کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آپ کی والدہ کا نام ام حبیب بنت ربیعہ بن عدی بن عبد شمس تھا۔
حضرت جبیر رضی اللہ عنہ کو زمانہ جاہلیت میں بھی عرب کے انساب (شجرہ ہائے نسب) کا سب سے بڑا ماہر مانا جاتا تھا۔ اس علم میں ان کی مہارت اتنی مسلم تھی کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تائید فرمائی۔ اگرچہ ان کا کوئی خاص لقب معروف نہیں، لیکن ان کے علمِ انساب میں کمال کی وجہ سے انہیں اس فن میں ایک اتھارٹی تسلیم کیا جاتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی اور انہوں نے قریش کے ایک متمول اور بااثر گھرانے میں پرورش پائی۔ ابتدا میں، وہ اسلام کے مخالفین میں شامل تھے، اور غزوہ بدر کے موقع پر بھی انہوں نے مشرکین مکہ کی طرف سے شرکت کی۔ اس وقت وہ اپنے والد کے کہنے پر مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے قریش کے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنے کے لیے آئے تھے۔
ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب وہ ابھی کافر تھے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور کی تلاوت کرتے سنا۔ خود ان کے الفاظ ہیں: "میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوئے سنا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر پہنچے: "أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ” (کیا یہ کسی چیز کے بغیر پیدا ہوئے ہیں یا یہ خود ہی خالق ہیں؟) تو میرا دل اڑنے لگا اور یہ پہلی بار تھا کہ ایمان میرے دل میں راسخ ہوا۔” یہ واقعہ غزوہ بدر کے بعد کا ہے، اور اس نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔
آپ نے فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کیا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد اسلام قبول کیا اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے۔ اس وقت سے لے کر آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت میں گزار دی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ ان کا علمِ انساب میں مہارت تھا، جسے انہوں نے اسلام لانے کے بعد امتِ مسلمہ کے لیے وقف کر دیا۔ یہ علم زمانہ جاہلیت میں قریش کے لیے بہت اہم تھا اور بعد میں بھی مسلمانوں کے لیے نسب ناموں کو محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر خلیفہ بھی آپ کے علمِ انساب سے استفادہ کرتے تھے۔
آپ نے متعدد احادیث مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، جو صحاحِ ستہ اور دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔ ان کی روایات کو علمی حلقوں میں انتہائی مستند سمجھا جاتا ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے مختلف غزوات اور سرایا میں شرکت کی، اور مسلمانوں کے شانہ بشانہ جہاد میں حصہ لیا۔
آپ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک معزز اور دانا شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ آپ کی رائے اور مشاورت کو خلفائے راشدین اور دیگر اکابرِ صحابہ اہمیت دیتے تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علم و عمل اور دین کی خدمت میں گزاری۔
میراث اور وصال
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ مدینہ منورہ میں گزارا اور علم و عمل کے ذریعے امتِ مسلمہ کی رہنمائی کرتے رہے۔ آپ نے اپنے پیچھے ایک علمی ورثہ چھوڑا جس میں آپ کی روایت کردہ احادیث اور علمِ انساب کی مہارت شامل ہے۔ آپ کی اولاد میں سے نافع بن جبیر بن مطعم رحمۃ اللہ علیہ ایک مشہور تابعی ہوئے جنہوں نے اپنے والد سے اور دیگر صحابہ کرام سے احادیث روایت کیں۔
آپ کا وصال 58 ہجری یا بعض روایات کے مطابق 59 ہجری میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات سے امتِ مسلمہ ایک عظیم اور دانا صحابی سے محروم ہو گئی، لیکن ان کی خدمات اور تعلیمات آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مستند حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
- ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
- امام ذہبی، سیراعلام النبلاء
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
- طبری، تاریخ الرسل والملوک
- صحیح بخاری، کتاب التفسیر
