تمیم بن الحمام رضی اللہ تعالی عنہ

تمیم بن الحمام رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے کوئی معروف صحابی تاریخ اسلام میں مشہور نہیں ہیں۔ غالب امکان ہے کہ آپ کی مراد مشہور صحابی **تمیم بن اوس الداری رضی اللہ تعالی عنہ** سے ہے، جن کا اسم گرامی "تمیم” ہے اور وہ اپنی کنیت "الداري” سے مشہور ہیں۔ ذیل میں تمیم بن اوس الداری رضی اللہ تعالی عنہ کی مستند سیرت پیش کی جا رہی ہے۔

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت تمیم بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام تمیم بن اوس بن خارجہ بن سودة الداري اللخمي ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ لخم سے تھا اور آپ کا وطن فلسطین میں واقع ایک گاؤں "دار” تھا، اسی نسبت سے آپ کو "الداري” کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو رقیہ تھی، جو آپ کی صاحبزادی رقیہ کے نام پر تھی۔ قبولِ اسلام سے قبل آپ عیسائی مذہب کے پیروکار اور ایک راہب تھے۔ آپ علم و فضل میں مہارت رکھتے تھے اور انجیل کے بہت بڑے عالم شمار کیے جاتے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

قبولِ اسلام سے قبل، حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ فلسطین میں قیام پذیر تھے اور عیسائیت کی تعلیمات اور الٰہی کتب کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے۔ آپ شام اور بیت المقدس کے علاقوں میں بھی سفر کرتے رہے اور وہاں کے علمائے دین سے ملاقاتیں کرتے تھے۔ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبریں جب آپ تک پہنچیں تو آپ نے ان کی حقانیت کو جاننے کی کوشش کی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے نویں سال (تقریباً 630 عیسوی) میں، حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ اپنے قبیلے کے دس دیگر افراد کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ یہاں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سنی اور آپ کے معجزات کا مشاہدہ کیا۔ اس کے نتیجے میں آپ نے اپنے وفد کے ہمراہ اسلام قبول کر لیا۔ آپ کا اسلام قبول کرنا آپ کے گہرے فہم اور حق کی تلاش کا ثبوت تھا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ کو کئی منفرد اعزازات حاصل ہیں:

  • **حدیثِ دجال کی روایت:** آپ کی سب سے مشہور خدمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق مشہور حدیث کی روایت ہے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بحری سفر کا واقعہ سنایا جس میں وہ سمندر میں طوفان آنے کے بعد ایک جزیرے پر جا پہنچے تھے۔ وہاں انہوں نے ایک پراسرار شخص کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھا جس نے بتایا کہ وہ مسیح الدجال ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کو اپنے صحابہ کرام کو سنایا اور اس کی تصدیق فرمائی۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں تفصیل سے موجود ہے۔
  • **مساجد میں روشنی کا انتظام:** آپ نے سب سے پہلے مسجد نبوی میں رات کے وقت قندیلیں روشن کرنے کا انتظام کیا۔ اس سے قبل مساجد میں رات کو روشنی کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا تھا۔ آپ نے شام میں گرجوں اور کلیساؤں میں روشنی کا انتظام دیکھا تھا، اسی سے متاثر ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت چاہی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظوری سے مسجد نبوی میں قندیلیں لٹکائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اس عمل کو سراہتے ہوئے فرمایا: "تمیم نے اسلام کو روشن کر دیا۔”
  • **قصہ گوئی کی روایت:** حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ پہلے شخص تھے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے اور قصے سنانے (قصص) کا آغاز کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھڑے ہو کر تقریر کرنے کی خصوصی اجازت عطا فرمائی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں بھی آپ اس خدمت کو سرانجام دیتے رہے اور لوگوں کو دین کی باتیں اور واقعات سنا کر ان کی تربیت فرماتے۔
  • **فلسطین میں جاگیر:** نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ اور آپ کے خاندان کو فلسطین کے علاقے الخلیل (Hebron) اور بیت عینون (Beth Anun) کے ساتھ ایک اور علاقے مَریش میں زمین عطا فرمائی تھی۔ یہ زمین تحریری طور پر عطا کی گئی تھی اور اس کی سند بعد کے ادوار میں بھی محفوظ رہی۔ یہ ان کے لیے ایک خصوصی اعزاز تھا۔

میراث اور وصال

حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ منورہ سے دوبارہ فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔ آپ نے اپنی زندگی کا باقی حصہ فلسطین کے علاقے الخلیل میں گزارا۔ آپ نے اپنی علمی و عملی میراث کے طور پر کئی احادیث روایت کیں، جن میں حدیثِ دجال سب سے مشہور ہے۔ آپ کا شمار ان معدودے چند صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں وعظ و نصیحت اور تعلیمِ دین کے لیے قصہ گوئی کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ کی وفات کے بارے میں مختلف روایات ہیں، تاہم مشہور قول کے مطابق آپ نے تقریباً 40 ہجری (660 عیسوی) میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ آپ کو الخلیل (Hebron) میں ہی دفن کیا گیا۔ آپ کا مزار آج بھی وہاں موجود ہے اور مرجع خلائق ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب قصۃ الجساسۃ و الدجال
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
  • ابن الاثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء
  • طبری، تاریخ الامم والملوک (تاریخ طبری)
  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ