تمیم بن اوس داری رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت تمیم بن اوس داری رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام تمیم بن اوس بن خارجہ بن سود بن جذیمہ بن ذراعین بن عدو بن الدار بن ہانی تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو الدار سے تھا جو کہ قبیلہ لخم سے ایک شاخ تھی اور اس کا سلسلہ نسب قحطان سے جا ملتا ہے۔ یہ قبیلہ یمن سے ہجرت کر کے شام اور فلسطین کے علاقوں میں آباد ہوا تھا۔ اسی نسبت سے آپ "الداري” کہلائے۔ قبولِ اسلام سے قبل بھی آپ کا خاندان ایک معزز اور اہل علم گھرانا سمجھا جاتا تھا، اور آپ خود بھی اس وقت عیسائیت کے پیروکار تھے، اور اپنی زہد و تقویٰ اور عبادت گزاری کے لیے معروف تھے۔ آپ کی ذات میں شرافت، دانشمندی اور امانت داری جیسی صفات نمایاں تھیں۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت تمیم بن اوس داری رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش فلسطین کے علاقے غزہ یا الخلیل (Hebron) میں ہوئی۔ آپ اپنی قوم کے سرداروں اور ممتاز افراد میں سے تھے۔ قبولِ اسلام سے قبل آپ ایک راہب یا عابد کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے اور عیسائیت کے گہرے پیروکار تھے۔ آپ کے ایمان لانے کا واقعہ ہجرت کے نویں سال پیش آیا، جسے عام الوفود (وفود کا سال) بھی کہا جاتا ہے، جب مختلف قبائل کے وفود مدینہ منورہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر رہے تھے۔ حضرت تمیم رضی اللہ تعالی عنہ اپنے قبیلے کے دس افراد پر مشتمل ایک وفد کے ساتھ مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔

آپ کے قبولِ اسلام کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ اور آپ کے خاندان کے لیے فلسطین میں الخلیل اور بیت عینون کے علاقے بطور اقطاع (ملکیتی عطا) عطا فرمائے۔ یہ ایک تاریخی فرمان تھا جو باقاعدہ لکھا گیا اور جس کی گواہی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ جیسے صحابہ کرام نے دی۔ اس فرمان کی رو سے یہ علاقے ہمیشہ کے لیے حضرت تمیم اور ان کی نسل کی ملکیت قرار پائے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت تمیم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی مکمل طور پر دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت تمیم بن اوس داری رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی علمی بصیرت، عبادت گزاری اور عملی خدمات کے ذریعے دینِ اسلام کی عظیم خدمات انجام دیں۔

  1. حدیثِ دجال کی روایت: آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ مشہور حدیثِ دجال (حدیث الجساسہ) کی روایت ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں تفصیل سے موجود ہے جس میں آپ نے ایک جزیرے میں دجال سے اپنی ملاقات کا واقعہ بیان کیا جب وہ اپنے قبیلے کے ساتھ ایک سمندری سفر پر تھے۔ اس روایت کو محدثین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم معجزے کے طور پر بھی دیکھا ہے کہ آپ نے بغیر سفر کیے غیب کی خبروں کو تصدیق فرمایا۔
  2. مساجد میں چراغاں کی ابتداء: آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس بات کا شرف حاصل ہے کہ آپ نے مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی میں سب سے پہلے تیل کے قندیل روشن کرنے کی روایت قائم کی۔ یہ واقعہ رمضان المبارک کے دوران پیش آیا جب آپ نے شام سے قندیلیں منگوا کر مسجد کو روشن کیا تاکہ نمازیوں کو سہولت ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو سراہا اور فرمایا: "اللہ تمہارے چہروں کو دنیا و آخرت میں روشن رکھے۔”
  3. واعظ اور قصہ گو: آپ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں پہلے شخص تھے جنہوں نے مسجد میں کھڑے ہو کر مسلمانوں کو وعظ و نصیحت اور دینی قصے سنانے کی اجازت طلب کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی اجازت دی، بشرطیکہ وہ ہفتے میں ایک بار جمعہ سے پہلے ہو۔ اس طرح آپ پہلے "قصاص” (قصہ گو / واعظ) بنے۔
  4. عبادت و زہد: آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے زہد، تقویٰ اور عبادت گزاری کے لیے مشہور تھے۔ آپ رات کا زیادہ حصہ نماز اور تلاوت میں گزارتے تھے۔ ایک رات تہجد کی نماز میں ایک آیت (ام حسب الذین اجترحوا السیئات۔۔۔) پر آپ نے فجر تک گریہ وزاری کی۔
  5. حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے مشیر: آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے قریبی مشیروں میں سے تھے اور ان کے دورِ خلافت میں دینی اور انتظامی امور میں رہنمائی فرماتے رہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے جنازے میں بھی آپ شریک تھے۔

میراث اور وصال

حضرت تمیم بن اوس داری رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے ساتھ گزارا۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں فتنہ و فساد برپا ہوا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ کو خیرباد کہہ کر شام/فلسطین میں اپنے آبائی علاقے کی طرف ہجرت فرمائی جہاں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقطاع عطا فرمائے تھے۔ آپ کو اس بات کا دکھ تھا کہ اسلام کا آغاز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہوا اور اب امت کا شیرازہ بکھرتا نظر آرہا ہے۔

آپ کا وصال 40 ہجری میں (بعض روایات کے مطابق 36 ہجری یا 38 ہجری) امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں بیت المقدس یا بیت عینون (الخلیل کے قریب) کے مقام پر ہوا۔ آپ کی عمر تقریباً 70 برس تھی۔ آپ کی قبر مبارک کے بارے میں مختلف آراء ہیں، لیکن عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ آپ کو بیت جبریل یا بیت حنینا کے قریب دفن کیا گیا، یا بیت عینون میں جہاں آپ کی زمینیں تھیں۔ آپ کی میراث میں آپ کی علمی خدمات، خاص طور پر حدیثِ دجال، مساجد میں چراغاں کی سنت، اور آپ کا تقویٰ و پرہیزگاری شامل ہے۔ آپ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے دینِ اسلام کی اشاعت اور عملی نفاذ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب قصۃ الجساسۃ۔
  • سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب فی اتخاذ القنادیل فی المساجد۔
  • جامع ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی مثل المؤمن القارئ للقرآن۔
  • طبقات الکبریٰ از ابن سعد، ج 7، ص 39-41، ذکر تمیم بن اوس الداری۔
  • البدایہ و النہایہ از ابن کثیر، ج 8، ص 100-101، تمیم بن اوس الداری۔
  • سیر اعلام النبلاء از الذہبی، ج 2، ص 446-450، تمیم بن اوس۔
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی، ج 1، ص 478-480، تمیم بن اوس بن خارجہ الداری۔
  • مسند احمد، ج 36، ص 348-360، حدیث تمیم بن اوس الداری۔