بشر بن البراء رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت بشر بن البراء بن معرور رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف انصاری قبیلے خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تھا۔ آپ کے والد ماجد حضرت براء بن معرور رضی اللہ تعالی عنہ ان چند جلیل القدر سردارانِ انصار میں سے تھے جنہوں نے بیعت عقبہ ثانیہ میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے والد انصاری صحابہ میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اور ہجرتِ نبوی سے قبل ہی وفات پا چکے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام خلود بنت قیس تھا۔ آپ کا نسب یہ ہے: بشر بن البراء بن معرور بن صخر بن خنساء بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ الخزرجی الانصاری۔ آپ کو "ابن البراء” کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ آپ ایک سچے اور فدائی صحابی کے طور پر جانے جاتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت بشر بن البراء رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ نے وہیں پرورش پائی۔ آپ نے اپنے والد حضرت براء بن معرور رضی اللہ تعالی عنہ کے ذریعے بہت کم عمری میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا، کیونکہ آپ کے والد ان اولین انصار میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لبیک کہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو حضرت بشر رضی اللہ تعالی عنہ پہلے ہی حلقہ بگوش اسلام ہو چکے تھے اور آپ اس جماعت میں شامل تھے جس نے مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیادیں مضبوط کیں۔ آپ نے اپنی ابتدائی زندگی سے ہی اسلامی تعلیمات کی پیروی کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر دین کا گہرا علم حاصل کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت بشر بن البراء رضی اللہ تعالی عنہ ان جلیل القدر صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی غزوات میں شرکت کرکے غیر معمولی شجاعت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا۔
- غزوہ بدر: آپ غزوہ بدر کے شہسواروں میں شامل تھے، جس میں آپ نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ غزوہ بدر میں شریک صحابہ کو اللہ تعالی نے ایک خاص فضیلت عطا فرمائی ہے۔
- غزوہ اُحد اور غزوہ خندق: آپ نے غزوہ اُحد اور غزوہ خندق سمیت دیگر کئی غزوات میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ ہو کر جنگ لڑی اور اپنی جان کو دین کی خاطر قربان کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔
- غزوہ خیبر اور شہادت: آپ کی سب سے نمایاں خدمت اور شہادت غزوہ خیبر (7 ہجری) کے موقع پر ہوئی۔ جب مسلمانوں نے خیبر کے بعض قلعے فتح کر لیے تو ایک یہودی عورت زینب بنت حارث (جو سردار سلام بن مشکم کی بیوی تھی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھونا ہوا بکری کا گوشت ہدیہ کیا۔ اس نے اس بکری کے گوشت میں زہر ملا دیا تھا، خاص طور پر بازو میں جہاں اسے معلوم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لقمہ لیا اور اسے چبانے کے بعد محسوس کیا کہ اس میں زہر ہے، فوراً اسے تھوک دیا اور صحابہ کرام کو بھی خبردار کیا کہ یہ زہر آلود ہے۔ لیکن حضرت بشر بن البراء رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک لقمہ کھا لیا تھا۔ زہر کے اثرات شدید تھے اور اس کی وجہ سے آپ شدید بیمار پڑ گئے اور بالآخر شہید ہو گئے۔ اس طرح آپ نے زہر سے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا اور اسلام کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
میراث اور وصال
حضرت بشر بن البراء رضی اللہ تعالی عنہ نے 7 ہجری میں غزوہ خیبر کے بعد زہر کے اثرات سے شہادت پائی۔ آپ کو شہداء خیبر میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ کی شہادت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت افسوس ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس زہر کے اثرات کو اپنی وفات تک محسوس فرماتے رہے، یہاں تک کہ مرض الوفات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے آج بھی خیبر کے زہر کی تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔
حضرت بشر بن البراء رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی ایثار، شجاعت اور دین سے والہانہ محبت کی عمدہ مثال ہے۔ آپ نے زندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں گزاری اور اپنے دین کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ آپ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر مشکل گھڑی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے رہے اور اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار رہے۔ آپ کا نام تاریخ اسلام میں ایک عظیم مجاہد اور شہید کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر۔
- صحیح مسلم، کتاب السلام، باب السم۔
- سیرت ابن ہشام، ذکر غزوہ خیبر۔
- تاریخ الطبری، ذکر غزوہ خیبر۔
- البدایہ والنہایہ لابن کثیر، ذکر غزوہ خیبر۔
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الاثیر، ذکر بشر بن البراء۔
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی، ذکر بشر بن البراء۔
