براء بن مالک انصاری رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت براء بن مالک انصاری رضی اللہ تعالی عنہ (پورا نام: براء بن مالک بن نضر بن ضمضم بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار الخزرجی) ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، جو رسول اللہ ﷺ کے ننیہالی رشتہ داروں کا قبیلہ تھا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کا نام مالک بن نضر تھا، اور آپ مشہور صحابی، رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے سگے بھائی تھے۔ یہ دونوں بھائی رسول اللہ ﷺ کے خادم اور جانثار تھے۔ آپ کو "انصاری” کے لقب سے پکارا جاتا ہے جو مدینہ منورہ کے ان عظیم صحابہ کرام کے لیے مخصوص ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کی بھرپور مدد کی تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ نے اپنی ابتدائی زندگی اسی شہر میں گزاری۔ آپ نے بہت کم عمری میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور رسول اللہ ﷺ کی مدینہ ہجرت سے قبل ہی ایمان کی روشنی سے منور ہو چکے تھے۔ بچپن ہی سے آپ کے دل میں ایمان کی گہرائی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
مدینہ منورہ میں جب اسلامی معاشرہ قائم ہوا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ اس کے ایک فعال اور متحرک رکن تھے۔ آپ نے اپنی جوانی کا آغاز اسلامی تعلیمات کے سائے میں کیا اور جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ آپ کے رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کی شجاعت اور دلیری کو پہچان لیا تھا اور آپ ان چند صحابہ کرام میں سے تھے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے بعض خاص فضائل بیان فرمائے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ اسلامی تاریخ کے ایک بے مثال شجاع اور نڈر سپاہی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق سمیت تمام بڑے غزوات میں شرکت فرمائی اور ہر محاذ پر اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ آپ کی سب سے نمایاں کارکردگی اور شجاعت کا مظاہرہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں پیش آنے والی جنگِ یمامہ میں ہوا، جو مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کے خلاف لڑی گئی تھی۔

جنگِ یمامہ میں جب مسلمانوں کو مسیلمہ کے لشکر نے ایک مضبوط قلعے (جسے "حدیقۃ الموت” یعنی موت کا باغ کہا جاتا تھا) میں محصور کر لیا اور قلعے کے دروازے بند کر دیے، تو مسلمان شدید مشکل کا شکار ہو گئے۔ اس وقت حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک تاریخی جرات مندانہ فیصلہ کیا اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ انہیں ایک ڈھال پر رکھ کر قلعے کے اندر پھینک دیں تاکہ وہ اندر سے دروازہ کھول سکیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس پر ہچکچائے لیکن براء رضی اللہ تعالی عنہ کے اصرار پر انہیں قلعے کے اندر پھینک دیا گیا۔ آپ نے اندر جا کر تن تنہا دشمنوں کی ایک بڑی تعداد سے مقابلہ کیا، دروازہ کھولا اور مسلمانوں کے لیے فتح کا راستہ ہموار کیا۔ اس معرکے میں آپ کو شدید زخم آئے اور آپ کے جسم پر تقریباً اسی (80) سے زیادہ زخموں کے نشان تھے، جن میں تیروں اور تلواروں کے زخم بھی شامل تھے۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک اور منفرد فضیلت یہ تھی کہ اللہ تعالی آپ کی دعاؤں کو قبول فرماتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ "کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو پراگندہ بال اور گرد آلود لباس والے ہیں، لوگ ان کو حقیر جانتے ہیں، مگر اللہ کی نظر میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ ان میں براء بن مالک بھی ہے کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کر دے”۔ (اس مفہوم کی روایات مختلف انداز میں مروی ہیں)۔
ایک سفر کے دوران جب مسلمان پانی کی تلاش میں تھے اور کہیں پانی نہ ملا تو صحابہ کرام نے آپ سے دعا کی درخواست کی اور آپ کی دعا سے فوراً کنویں سے پانی ابل پڑا، جس سے تمام لشکر نے سیرابی حاصل کی۔ آپ ہمیشہ شہادت کی آرزو میں رہتے تھے اور اللہ تعالی نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی۔

میراث اور وصال

حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جہاد فی سبیل اللہ میں گزارا۔ آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے ادوارِ خلافت میں بھی اسلامی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر، آپ کی شہادت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں 20 ہجری (لگ بھگ 640 عیسوی) میں ایران کے محاذ پر ہوئی، جب مسلمان تستر (موجودہ شوشتر، ایران) کے قلعے کو فتح کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تستر کی جنگ ایک مشکل معرکہ تھا، جہاں قلعہ بند دشمن نے شدید مزاحمت کی۔ حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے اس جنگ میں بھی اپنی بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور اللہ سے شہادت کی دعا کی۔ وہ اسی جنگ میں، اپنے دیرینہ ارمان کو پاتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرما گئے اور اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہادری، ایمانی پختگی اور اللہ سے گہرے تعلق کی داستانیں ہمیشہ اسلامی تاریخ میں مشعلِ راہ رہیں گی۔ آپ کی میراث صرف آپ کی شجاعت ہی نہیں بلکہ آپ کا وہ ایمان اور توکل بھی ہے جو آپ کی دعاؤں کی قبولیت میں نمایاں ہوا۔

مستند حوالہ جات

  • الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر. (تاریخ الرسل والملوک).
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر. (البدایہ والنہایہ).
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی. (الاصابہ فی تمییز الصحابہ).
  • الذہبی، شمس الدین محمد بن احمد. (سیر اعلام النبلاء).
  • ابن الأثير، عز الدين علي بن محمد. (أسد الغابة في معرفة الصحابة).