براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام براء بن عازب بن حارث بن عدی بن جشم بن مجدذ الانصاری الاوسی الحارثی ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف انصاری قبیلے اوس کی شاخ بنو حارثہ بن حارث سے تھا۔ آپ کے والد حضرت عازب بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ بھی صحابی رسول تھے۔ براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کے لقب (کنیّت) ابو عمارہ اور بعض روایات میں ابو عمرو بھی ملتی ہے۔ آپ جلیل القدر صحابہ کرام میں شمار ہوتے ہیں اور ان نوجوان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے ابتدا ہی میں اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے براہ راست فیض حاصل کیا۔ آپ کی ذات علم، عمل، شجاعت اور تقویٰ کا حسین امتزاج تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہجرت سے کچھ عرصہ قبل ہوئی۔ آپ نے اپنے والدین اور قبیلے کے ساتھ نبوت کے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ ان خوش نصیب انصاری صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہی اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ کی ہجرت کا والہانہ استقبال کیا۔
براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بچپن سے ہی جہاد کے شوقین تھے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد کے وقت آپ کم سن تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اور دیگر کم عمر صحابہ کو واپس لوٹا دیا تھا، کیونکہ آپ کی عمر اس وقت تیرہ یا چودہ برس کے قریب تھی۔ آپ غزوہ خندق میں پہلی بار رسول اللہ ﷺ کی معیت میں شریک ہوئے، جب آپ کی عمر پندرہ برس ہو چکی تھی۔ اس کے بعد آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تقریباً چودہ یا پندرہ غزوات میں شرکت کی، جن میں حدیبیہ، خیبر، فتح مکہ، حنین اور طائف جیسے اہم واقعات شامل ہیں۔ آپ نے ہمیشہ شجاعت اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کے نمایاں کارناموں اور خدمات میں سب سے اہم حدیث نبوی کی روایت ہے۔ آپ کا شمار کثیر الروایت صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ سے تقریباً 305 یا 360 احادیث مروی ہیں، جن میں سے اکثر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہیں۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ کو امت تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
عسکری خدمات کے لحاظ سے، غزوہ خیبر میں آپ نے بہادری کے جوہر دکھائے اور فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد، آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں فتوحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ نے عراق اور ایران کی فتوحات میں شرکت کی، جن میں جنگ قادسیہ، جنگ نہاوند، رے (Rayy)، زنجان، جرجان اور طبرستان کی فتح شامل ہیں۔ آپ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں جنگی مہمات میں حصہ لیا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ کو کچھ عرصے کے لیے رے یا زنجان کا امیر (گورنر) بھی مقرر کیا گیا تھا۔ آپ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کوفہ میں گزارا جہاں آپ نے علم و حدیث کی تعلیم و ترویج کا فریضہ انجام دیا۔ آپ کے شاگردوں میں تابعین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی جنہوں نے آپ سے حدیث کا علم حاصل کیا۔

میراث اور وصال

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی پائی۔ آپ نے اپنا زیادہ تر وقت کوفہ میں گزارا، جہاں آپ کی علمی اور عملی خدمات جاری رہیں۔ آپ کا وصال حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں، ان کے مقرر کردہ عراق کے امیر مصعب بن زبیر کے عہد میں ہوا۔
آپ کی وفات 72 ہجری میں کوفہ میں ہوئی، اس وقت آپ کی عمر 80 سال سے زائد تھی۔ آپ کی وفات نے امت کو ایک عظیم عالم، مجاہد اور صحابی رسول سے محروم کر دیا۔ آپ نے اپنے پیچھے احادیث نبوی کا ایک عظیم ذخیرہ چھوڑا جو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ آپ کی زندگی صحابہ کرام کی فداکاری، علم دوستی اور دین اسلام سے گہری وابستگی کی درخشاں مثال ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن سعد، محمد بن سعد بن منيع الزهري، الطبقات الكبرى، دار صادر، بيروت.
  • ابن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، دار الجيل، بيروت، 1412 هـ.
  • ابن حجر العسقلاني، احمد بن علي، الإصابة في تمييز الصحابة، دار الكتب العلمية، بيروت، 1415 هـ.
  • الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد، سير أعلام النبلاء، مؤسسة الرسالة، بيروت، 1405 هـ.
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنھایۃ، دار الفکر، بیروت، 1986م.
  • البخاري، محمد بن إسماعيل، صحيح البخاري، دار طوق النجاة، 1422 هـ.
  • مسلم بن الحجاج، صحيح مسلم، دار إحياء التراث العربي، بيروت.