امر بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عمرو بن العاص بن وائل بن ہاشم بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لؤی القرشی السہمی تھا۔ آپ قبیلہ قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام عاص بن وائل تھا جو مکہ کے سرکردہ سرداروں میں سے تھے، اور والدہ کا نام سلمیٰ بنت حرملہ تھا۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ آپ عرب کے چار مشہور داہیوں (انتہائی ذہین و زیرک افراد) میں شمار ہوتے تھے اور آپ کی فہم و فراست، سیاسی بصیرت اور عسکری صلاحیتوں کو تسلیم کیا جاتا تھا۔ قبولِ اسلام سے قبل بھی آپ قریش کے بااثر اور ذہین ترین افراد میں سے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مکہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی مشرکینِ مکہ کے درمیان گزاری۔ آپ ابتدا میں اسلام اور مسلمانوں کے سخت مخالفین میں سے تھے اور کئی مواقع پر مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں شامل رہے۔ ہجرتِ حبشہ ثانیہ کے موقع پر، جب مسلمان حبشہ (ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کر چکے تھے، آپ کو قریش نے عبداللہ بن ابی ربیعہ کے ہمراہ شاہِ حبشہ نجاشی کے دربار میں بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو واپس مکہ لوٹا دے، لیکن نجاشی نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور مسلمانوں کو پناہ دی۔ یہ واقعہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جب انہیں مسلمانوں کے اخلاق اور نجاشی کے عدل و انصاف سے متاثر ہونے کا موقع ملا۔

غزوہ خندق کے بعد، اور خاص طور پر صلح حدیبیہ کے بعد، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اسلام کی حقانیت پر غور کرنا شروع کیا۔ شاہِ حبشہ نجاشی نے بھی آپ کو اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی تھی۔ بالآخر، 8 ہجری میں غزوہ خیبر کے بعد، آپ نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ آپ مدینہ پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اسلام قبول کرنے پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

قبولِ اسلام کے بعد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ہی کئی اہم عسکری اور انتظامی خدمات انجام دیں۔

  • سریہ ذات السلاسل: اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سریہ ذات السلاسل کا امیر بنا کر بھیجا، جس میں آپ نے کامیاب فوجی کارروائی انجام دی۔
  • عمانی گورنر: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو عمان کا عامل مقرر فرمایا، جہاں آپ نے بحسن و خوبی خدمات سرانجام دیں۔
  • شام کی فتوحات: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، آپ نے شام کی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے اجنادین، فحل، دمشق اور یرموک جیسی عظیم جنگوں میں حصہ لیا اور اپنی عسکری بصیرت کا لوہا منوایا۔ فلسطین اور اس کے شہروں کی فتح کا سہرا آپ کے سر ہے۔
  • مصر کی فتح: آپ کا سب سے بڑا اور یادگار کارنامہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مصر کی فتح ہے۔ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مصر کی فتح کی اجازت طلب کی اور تقریباً 4 ہزار مجاہدین کے لشکر کے ساتھ مصر پر چڑھائی کی۔ آپ نے اپنی ذہانت اور فوجی حکمت عملی سے بابلیون کے قلعے اور اسکندریہ کو فتح کیا، جو بازنطینی سلطنت کا اہم ترین شہر تھا۔ مصر کی فتح نے اسلامی خلافت کو ایک نئی وسعت دی اور اقتصادی طور پر مضبوط بنایا۔ آپ نے مصر میں شہر فسطاط کی بنیاد رکھی اور وہاں افریقہ کی پہلی جامع مسجد (جامع مسجد عمرو بن العاص) تعمیر کروائی۔
  • فوجی و انتظامی صلاحیت: آپ مصر کے پہلے اسلامی گورنر بنے اور آپ نے وہاں عدل و انصاف پر مبنی ایک بہترین انتظامی نظام قائم کیا جس نے وہاں کے قبطی عیسائیوں کو بھی متاثر کیا۔ آپ نے نہر سویز کی بحالی (جسے آپ کی مناسبت سے خلیج امیر المومنین کہا گیا) کا بھی اہتمام کیا جس سے مصر اور حجاز کے درمیان تجارتی راستے آسان ہوئے۔
  • تحکیم کا واقعہ: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد پیش آنے والے فتنے میں، آپ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا اور جنگِ صفین کے بعد ہونے والے تحکیم (ثالثی) کے واقعے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نمائندے کے طور پر شرکت کی، جہاں آپ نے اپنی سیاسی چالاکی سے ایک اہم کردار ادا کیا۔

میراث اور وصال

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں کئی اہم سنگ میل عبور کیے۔ آپ کی ذہانت، سیاسی بصیرت، عسکری مہارت اور انتظامی صلاحیتوں نے اسلامی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ آپ بلاشبہ اسلام کے عظیم فاتحین اور قائدین میں سے ایک ہیں۔

آپ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ مصر میں ہی گزارا۔ 43 ہجری (664 عیسوی) میں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، 90 سال سے زائد عمر میں مصر کے شہر فسطاط میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔ آپ کے آخری لمحات کے بارے میں روایت ہے کہ آپ نے دنیاوی زندگی پر افسوس کا اظہار کیا اور اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کو اپنی سب سے بڑی خواہش قرار دیا۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • تاریخ طبری
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
  • فتوح مصر والمغرب از ابن عبدالحکم