اكرمه بن ابى جهل رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
اکرمه بن ابی جہل رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قریش کے بااثر قبیلے بنو مخزوم سے تھا۔ آپ کا پورا نام اکرمه بن عمرو بن ہشام بن المغیرہ المخرومی القریشی تھا۔ آپ کے والد عمرو بن ہشام، جو ابو جہل کے نام سے معروف تھے، اسلام کے سب سے بڑے دشمنوں میں سے ایک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین مخالف تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام مجالد بنت خالد بن مخزوم تھا۔ اکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ ابتدائی طور پر اپنے والد کی طرح اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شدید عداوت رکھتے تھے اور انہیں اپنے قبیلے میں ایک سردار اور طاقتور شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ آپ کی زوجہ محترمہ ام حکیم بنت حارث بن ہشام تھیں، جو آپ کی چچا زاد بہن بھی تھیں۔ یہ دونوں بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
اکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی شرک اور اسلام دشمنی میں گزری۔ آپ بدر کے میدان میں اپنے والد کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف لڑے اور اپنے والد کی موت کے بعد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی مخالفت میں پیش پیش رہے۔ غزوہ احد میں بھی آپ نے مسلمانوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا۔ فتح مکہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخلہ فرمایا تو بہت سے قریشی سرداروں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن اکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے شدید ماضی کے باعث سزا کے خوف سے یمن کی طرف فرار ہو گئے۔ آپ کی نیک سیرت زوجہ ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا، جو پہلے ہی مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اکرمہ کے لیے امان طلب کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عظیم شفقت اور رحمت کے تحت اکرمہ کو امان عطا فرما دی۔ ام حکیم رضی اللہ تعالی عنہا فوری طور پر یمن روانہ ہوئیں اور اکرمہ کو واپس آنے اور اسلام قبول کرنے پر راضی کیا۔ جب اکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمالِ شفقت سے فرمایا: "مرحبا بالراکب المہاجر!” (خوش آمدید، ہجرت کرنے والے سوار!) یہ سن کر اکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور مکمل صدقِ دل سے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ اسلام کی طاقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عفو و درگزر اور سابق دشمنوں کو عظیم مجاہدین میں تبدیل کرنے کی بے مثال صلاحیت کا عکاس ہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد اکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی سابقہ زندگی کے گناہوں کی تلافی کے لیے خود کو مکمل طور پر اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے نہایت ایمانداری، بہادری اور جوش و جذبے کے ساتھ اسلام کا دفاع اور ترویج کی۔ آپ نے ہمیشہ یہ جملہ دہرایا کہ: "میں نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے بجائے پہلے اسلام کے خلاف خرچ کیا تھا، اب میں اللہ کے راستے میں ہی خرچ کروں گا۔” آپ نے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی جنگوں، بالخصوص جنگِ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف قتال میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ نے ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور مسلمانوں کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں شام کی فتوحات میں ایک اہم کمانڈر کی حیثیت سے حصہ لیا۔ آپ کی بہادری کی سب سے نمایاں مثال جنگِ یرموک میں ملتی ہے، جہاں آپ نے رومیوں کے خلاف بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے اس قدر بے خوفی سے دشمن کی صفوں میں گھس کر جنگ کی کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو قدرے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ جنگ یرموک میں آپ نے اپنے آپ کو مکمل طور پر شہادت کے لیے پیش کر دیا تھا، اور میدانِ جنگ میں کئی زخم کھانے کے باوجود آپ پامردی سے لڑتے رہے۔
میراث اور وصال
اکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ تعالی عنہ نے 15 ہجری (636 عیسوی) میں شام کی فتوحات کے دوران، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں شہادت کا رتبہ پایا۔ اکثر روایات کے مطابق، آپ نے جنگِ یرموک کے دوران شدید زخمی ہونے کے بعد جامِ شہادت نوش فرمایا۔ بعض روایات میں جنگِ اجنادین کا ذکر بھی آتا ہے، لیکن یرموک زیادہ مشہور ہے۔ آپ کی شہادت کا ایک دلگداز واقعہ کتبِ سیر میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ دو دیگر زخمی صحابہ، حارث بن ہشام اور سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہم اجمعین، کو پانی پیش کیا گیا۔ ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کی حالت کو زیادہ نازک سمجھ کر پانی دوسرے کی طرف بڑھا دیا، اور اسی ایثار کے عالم میں تینوں پیاسے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے، سبحان اللہ! اکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اور شہادت اسلام کی فتح و کامرانی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمتِ عالم اور ایک مخلص توبہ کرنے والے کی عظیم الشان قربانی کا ایک روشن باب ہے۔ آپ کی مثال اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ اسلام کس طرح شدید ترین دشمن کو بھی ایک عظیم سپہ سالار اور سچے مؤمن میں تبدیل کر دیتا ہے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
