ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا مکمل نام ارقم بن ابی الارقم (جن کا اصل نام عبد مناف تھا) بن اسد بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے ایک انتہائی معزز، بااثر اور طاقتور قبیلے بنو مخزوم سے تھا۔ بنو مخزوم مکہ کے رؤسا اور حکمران قبیلوں میں شمار ہوتا تھا، اور اس کے کئی افراد کا شمار قریش کے سرداروں میں ہوتا تھا۔ آپ کی والدہ کا نام امیمہ بنت حارث بن حابس تھا اور ان کا تعلق قبیلہ بنی سہم سے تھا۔

آپ رضی اللہ عنہ کو عام طور پر "صاحبِ دار الارقم” کے لقب سے جانا جاتا ہے، کیونکہ آپ کا گھر، جو کہ صفا پہاڑی کے دامن میں واقع تھا، ابتدائی اسلام کی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی گھر کو رسول اللہ ﷺ نے دعوتِ اسلام کے ابتدائی مشکل ترین ایام میں مسلمانوں کے لیے خفیہ اجتماع، تعلیم اور عبادت کے مرکز کے طور پر استعمال فرمایا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار ان خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں، جب دین کی دعوت بالکل خفیہ تھی اور مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی، سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ مختلف روایات کے مطابق، آپ رضی اللہ عنہ ساتویں، آٹھویں یا دسویں نمبر پر اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ قبولِ اسلام کے وقت آپ کی عمر تقریباً سولہ سے سترہ سال کے درمیان تھی، بعض روایات میں اس سے بھی کم کا ذکر ہے۔ اس کم عمری میں اسلام قبول کرنا آپ کے گہرے ایمان، سچی طلب اور بصیرت کی دلیل ہے۔

جب مسلمانوں کو کھلے عام عبادت کرنے یا تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں تھی اور قریش کی طرف سے شدید ایذا رسانی کا سامنا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکمت عملی کے تحت حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے گھر "دار الارقم” کو خفیہ مرکز کے طور پر منتخب فرمایا۔ یہ گھر صفا پہاڑی کے قریب واقع تھا اور بنو مخزوم کی طاقت کی وجہ سے قریش کے شر سے نسبتاً محفوظ تھا۔ تقریباً تین سال تک یہ گھر دعوتِ اسلام کا اولین مرکز، مسلمانوں کا پہلا مدرسہ اور جائے پناہ بنا رہا۔ یہیں پر رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو قرآن کی تعلیم دیتے، نماز سکھاتے اور اسلام کے اصول و احکام بیان فرماتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ نے اسی گھر میں اپنے اسلام کا اعلان کیا یا اسے مزید پختہ کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کی سب سے نمایاں اور عظیم خدمت اپنا گھر "دار الارقم” اللہ کی راہ میں وقف کرنا تھا، جس نے ابتدائی دورِ اسلام میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ گھر نہ صرف مسلمانوں کی خفیہ ملاقاتوں، قرآن کی تعلیم اور عبادت کا مرکز تھا، بلکہ اس نے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی جس پر مستقبل کے اسلامی معاشرے کی عمارت کھڑی ہوئی۔

  • تمام غزوات میں شرکت: آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کے بعد تمام بڑے غزوات بشمول بدر، احد، خندق، اور دیگر میں شرکت فرمائی۔ آپ ہمیشہ حق کی حمایت میں پیش پیش رہے اور اپنی جان و مال سے دین کی خدمت کی۔
  • ہجرت: آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی سعادت حاصل کی اور مہاجرین میں شامل ہوئے۔
  • مواخات: مدینہ منورہ پہنچنے پر نبی کریم ﷺ نے آپ کی مواخات (بھائی چارہ) مشہور انصاری صحابی حضرت ابو طلحہ زید بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ سے کروائی، جو اسلامی بھائی چارے کی ایک عظیم مثال تھی۔
  • حدیث کی روایت: آپ نے نبی کریم ﷺ سے چند احادیث بھی روایت کیں، جو آپ کی علمی میراث کا حصہ ہیں۔

حضرت ارقم رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی اور اس کے دفاع کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی قربانیاں اور خدمات، خاص طور پر دار الارقم کو دین کے لیے وقف کرنا، اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

میراث اور وصال

حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی بسر فرمائی۔ آپ کا وصال مدینہ منورہ میں، مختلف روایات کے مطابق، 53 ہجری میں ہوا، جب آپ کی عمر 80 سال سے زیادہ تھی۔ بعض روایات میں آپ کی وفات 55 ہجری یا 59 ہجری میں بھی ذکر کی جاتی ہے۔ آپ نے اپنی وفات سے قبل وصیت فرمائی تھی کہ آپ کی نمازِ جنازہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پڑھائیں۔ چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

آپ کی سب سے بڑی میراث بلا شبہ "دار الارقم” ہے۔ آپ نے اس گھر کو اپنی زندگی میں ہی وقف کر دیا تھا یا وصیت کی تھی کہ اسے کبھی بیچا نہ جائے اور نہ ہی اسے موروثی جائیداد کی طرح تقسیم کیا جائے، تاکہ یہ اسلام کی ایک زندہ یادگار رہے۔ یہ گھر طویل عرصے تک آپ کی اولاد کے زیر انتظام رہا، جنہوں نے اس کی حفاظت کی۔ آج بھی یہ جگہ مکہ مکرمہ میں موجود ہے اور حرم مکی کی توسیع کے دائرے میں شامل ہو چکی ہے، جو ابتدائی اسلام کی یاد دلاتی ہے۔ آپ کے بیٹے عثمان بن ارقم نے بھی اپنے والد سے احادیث روایت کیں۔

حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کی زندگی، ایمان، قربانی اور ایثار کا ایک روشن باب ہے۔ آپ کا نام اسلام کی تاریخ میں اس ہستی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس کے گھر نے اسلام کی شمع کو اس کے ابتدائی تاریک ترین ایام میں جلائے رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

مستند حوالہ جات

  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ
  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
  • ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ
  • طبری، تاریخ الامم والملوک
  • الواقدی، کتاب المغازی