ابودرداءرضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام عویمر بن عامر بن مالک بن زید بن قیس بن عامر بن امیہ بن مالک بن سالم بن غانم بن عوف بن خزرج تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلہ بنو خزرج کی شاخ بنو الحارث سے تھا۔ آپ کا لقب (کنیت) ابودرداء تھا، جو آپ کی بیٹی درداء کے نام پر پڑا، اور اسی لقب سے آپ زیادہ مشہور ہوئے۔ آپ کی اہلیہ کا نام ام الدرداء تھا، جو خود ایک جلیل القدر صحابیہ تھیں اور بعد میں حدیث کی راویات میں بھی ان کا نام آتا ہے۔ قبولِ اسلام سے قبل آپ مدینہ کے سرکردہ تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ ان انصار صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نسبتاً دیر سے اسلام قبول کیا۔ فتحِ بدر کے بعد جب مدینہ منورہ میں اسلام کا غلبہ واضح ہو چکا تھا، تب بھی آپ اپنے آبائی مذہب پر قائم تھے۔ آپ اپنے گھر میں ایک بت رکھتے تھے جس کی بڑی عقیدت سے پوجا کیا کرتے تھے۔ ایک دن آپ کے دیرینہ دوست اور صحابی حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ، جو کہ آپ کے بھائی بھی تھے (نبی اکرم ﷺ نے دونوں میں اخوت قائم کی تھی)، آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے گھر گئے اور بت کو توڑ ڈالا۔ جب حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ واپس آئے اور اپنے بت کو ٹوٹا ہوا دیکھا تو آپ کو شدید غصہ آیا اور آپ نے چیخنا شروع کر دیا کہ "ہائے، جس نے مجھے تباہ کر دیا، اس نے مجھے برباد کر دیا!” تاہم، تھوڑی دیر بعد جب آپ نے غور کیا کہ اگر یہ بت واقعی کوئی معبود ہوتا تو یہ اپنا دفاع خود کر سکتا تھا، تو آپ کے دل میں حق کی جستجو پیدا ہوئی اور آپ نے بلا تاخیر اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ آپ کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا، جس کے بعد آپ نے مکمل طور پر دینِ اسلام کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ قبولِ اسلام کے بعد آپ کے اندر ایسا انقلاب آیا کہ آپ نے دنیاوی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد خود کو علم، عبادت اور تقویٰ کے ایک اعلیٰ مقام پر فائز کیا۔ آپ کی نمایاں خدمات درج ذیل ہیں:

  • حافظِ قرآن: آپ ان چند صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے عہد میں ہی مکمل قرآن حفظ کر لیا تھا۔ آپ کو قرآن کی تلاوت کا خاص شغف تھا اور آپ کو بہترین قاریوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
  • فقاہت اور علم: آپ مدینہ کے عظیم فقیہ اور علماء میں سے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا: "ابودرداء ہماری امت کے حکیم (دانشور) ہیں۔” آپ کو دین کی گہری سمجھ حاصل تھی اور آپ پیچیدہ مسائل میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔
  • قاضی اور معلم: حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ کو شام (دمشق) کا قاضی مقرر کیا گیا، جہاں آپ نے عدل و انصاف کے تقاضے خوب نبھائے۔ آپ نے دمشق میں ایک عظیم علمی تحریک کا آغاز کیا اور وہاں مسجد میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ کے حلقہ درس میں سینکڑوں طالب علم شامل ہوتے تھے، جن میں سے بہت سے تابعین نے علم حاصل کیا۔ آپ شام میں علم کے سب سے بڑے مبلغ اور معلم تھے۔
  • زہد و تقویٰ: آپ دنیا سے بے رغبتی اور زاہدانہ زندگی کا نمونہ تھے۔ آپ نے مال و دولت اور دنیوی آسائشوں کو ترک کر دیا تھا۔ آپ کی تمام تر توجہ آخرت کی تیاری اور اللہ کی عبادت پر مرکوز رہتی تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ "میں تم سے تین چیزوں سے محبت کرتا ہوں: بھوک، بیماری، اور موت۔” (بھوک سے نفس کشی ہوتی ہے، بیماری سے گناہ دھلتے ہیں، اور موت کے بعد اللہ سے ملاقات ہوتی ہے)۔
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر: آپ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں بہت جری تھے۔ آپ اس حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے، چاہے وہ کوئی عام شخص ہو یا حکمران۔
  • جہاد میں شرکت: آپ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ متعدد غزوات میں شرکت کی اور بعد میں اسلامی فتوحات میں بھی حصہ لیا۔

میراث اور وصال

حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ، بالخصوص نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد، شام میں گزارا۔ آپ نے دمشق کو علم و ہدایت کا مرکز بنایا اور وہاں بے شمار افراد کو قرآن و سنت کی تعلیم دی۔ آپ کے شاگردوں میں بہت سے کبار تابعین شامل تھے جنہوں نے شام میں اسلامی علم کی روشنی پھیلائی۔ آپ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جن سے کثیر تعداد میں احادیث مروی ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علم کے حصول، اشاعت، عبادت اور تقویٰ میں گزاری۔

حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 32 ہجری میں دمشق میں وفات پائی۔ بعض روایات میں آپ کا سنہ وفات 38 ہجری بھی بتایا جاتا ہے۔ آپ کی وفات سے عالمِ اسلام ایک عظیم عالم، فقیہ، زاہد اور متقی شخصیت سے محروم ہو گیا۔ آپ کی میراث آپ کا علم، آپ کے اقوالِ حکمت، آپ کی زاہدانہ زندگی اور آپ کے تعلیم یافتہ شاگرد ہیں جنہوں نے اسلامی علوم کو بعد کی نسلوں تک پہنچایا۔

مستند حوالہ جات

  • سیر اعلام النبلاء، امام ذہبی
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ابن عبدالبر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ابن الاثیر
  • الإصابة في تمييز الصحابة، ابن حجر العسقلاني
  • البدایہ والنہایہ، ابن کثیر
  • تاریخ طبری، امام طبری