ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام سماک بن خرشہ بن لوذان بن عبدالود بن زید بن ثعلبہ بن خزرج بن ساعدہ انصاری خزرجی ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلے بنو ساعدہ سے تھا، جو انصار کے قبیلہ خزرج کی ایک شاخ تھی۔ آپ کی کنیت ابو دجانہ ہی مشہور ہوئی، اور آپ اس کنیت سے اتنے معروف ہوئے کہ آپ کے اصل نام پر کنیت کا غلبہ ہوگیا۔ آپ اپنی شجاعت، بہادری اور جنگی مہارت کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ کو کئی مواقع پر ذی السیفین (دو تلواروں والا) بھی کہا گیا، اگرچہ یہ لقب حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے لیے زیادہ مشہور ہے۔ تاہم، ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی تلوار بازی اور جنگی جوش کی وجہ سے آپ اس صفت سے بھی متصف کیے گئے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ اسلام قبول کرنے سے قبل بھی آپ اپنی قوم میں اپنی بہادری اور جسمانی قوت کے لیے مشہور تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی اور اسلام کی دعوت عام ہوئی، تو ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ انصار کے ان خوش نصیبوں میں شامل تھے جنہوں نے اوائل میں ہی اسلام قبول کیا اور اپنا سب کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نصرت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے نہایت اخلاص اور سچی لگن کے ساتھ دین اسلام کو اپنایا اور ہر موقع پر اپنی وفاداری اور عزم کا ثبوت دیا۔ قبولِ اسلام کے بعد آپ کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی آئی اور آپ عبادات اور جہاد دونوں میں پیش پیش رہنے لگے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد اور فتوحات سے عبارت ہے۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی اور اپنی شجاعت کے انمٹ نقوش چھوڑے۔

  • غزوہ احد میں شجاعت: یہ غزوہ آپ کی بہادری کا سب سے نمایاں باب ہے۔ غزوہ احد کے آغاز میں جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار نکالی اور فرمایا "کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے؟” تو کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پیشکش کی، مگر رسول اللہ ﷺ نے وہ تلوار ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ کو عطا فرمائی۔ ابو دجانہ نے اس موقع پر اپنی خاص سرخ پٹی سر پر باندھی اور میدانِ جنگ میں ایک خاص انداز میں چلتے ہوئے نکلے۔ یہ ان کا ایک مخصوص انداز تھا جو وہ دورانِ جنگ اختیار کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کو اس طرح چلتے دیکھ کر فرمایا: "یہ وہ چال ہے جسے اللہ پسند نہیں کرتا سوائے اس موقع کے۔” ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس تلوار کا خوب حق ادا کیا اور کفار کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ آپ نے مشرکین کے بہت سے بڑے سرداروں کو جہنم واصل کیا اور جب مسلمانوں کی صفیں بکھرنے لگیں اور نبی اکرم ﷺ خطرے میں گھر گئے، تو ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے جسم کو رسول اللہ ﷺ کے لیے ڈھال بنا لیا۔ تیروں اور تلواروں کے وار اپنے اوپر لیتے رہے تاکہ رسول اللہ ﷺ کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ اس موقع پر آپ کی پشت پر اتنے زخم آئے کہ آپ کا جسم چھلنی ہوگیا۔
  • سفاکی سے اجتناب: غزوہ احد کے دوران جب آپ نے ہند بنت عتبہ کو دیکھا جو کفار کو ابھار رہی تھی، تو آپ نے ان پر تلوار اٹھائی۔ لیکن فوراً پیچھے ہٹ گئے یہ سوچ کر کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کسی عورت کے خون سے آلودہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ آپ کے اسلامی غیرت اور اخلاقی برتری کی عمدہ مثال ہے۔
  • دیگر غزوات: غزوہ بدر، غزوہ خندق، صلح حدیبیہ، غزوہ خیبر، فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک سمیت تمام اہم معرکوں میں آپ نے اپنی جانفشانی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے ہمیشہ صفِ اول میں رہ کر جہاد کیا اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
  • عبادت گزاری: آپ صرف ایک بہادر سپاہی ہی نہیں بلکہ ایک کثرت سے عبادت کرنے والے عابد بھی تھے۔ آپ کے پڑوسیوں نے یہ گواہی دی کہ آپ کی چھت سے ہمیشہ یا تو نماز پڑھنے کی آواز آتی تھی یا تلاوتِ قرآن کی۔

میراث اور وصال

ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد بھی اسلام کی خدمت جاری رکھی۔ آپ نے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں فتنہ ارتداد کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں میں بھرپور حصہ لیا۔ آپ کی شہادت کا شرف یمامہ کی جنگ میں حاصل ہوا۔ یہ جنگ مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی، جس میں مسلمانوں نے کمال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ابو دجانہ رضی اللہ تعالی عنہ ان چند جاںباز صحابہ کرام میں سے تھے جو مسیلمہ کذاب کے "حدیقۃ الموت” (موت کے باغ) کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے تاکہ قلعہ کا دروازہ کھولا جاسکے اور مسلمانوں کی فوج اندر داخل ہوسکے۔ اسی معرکے میں، 12 ہجری میں، آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ نے انتہائی شجاعت سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اسلام کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کی جو قسم کھائی تھی، اسے آخری سانس تک پورا کیا۔ آپ کی بہادری، ایمان کی پختگی، اور رسول اللہ ﷺ سے محبت رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، جلد 3، صفحہ 59-60، 64۔
  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، جلد 4، صفحہ 38-39 (غزوہ احد کے واقعات کے تحت)۔
  • الطبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 2، صفحہ 507-508 (غزوہ احد)، جلد 3، صفحہ 288 (وفات یمامہ)۔
  • ابن الأثیر، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 2، صفحہ 491-492۔
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، جلد 3، صفحہ 139-140۔
  • صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب: غزوہ احد۔
  • صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ۔