ابو جندل بن سهيل رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ کا اصل نام العاص بن سہیل تھا۔ آپ کے والد کا نام سہیل بن عمرو تھا جو قریش کے سرکردہ اور معزز سرداروں میں سے تھے۔ والدہ کا نام فاتکہ بنت عامر تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنی عامر بن لؤی سے تھا۔ آپ کا لقب ابو جندل ہی اس قدر مشہور ہوا کہ لوگ آپ کو اسی نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن سہیل رضی اللہ تعالی عنہ بھی جلیل القدر صحابی تھے اور انہوں نے بدر کے موقع پر اسلام کی خاطر اپنے والد کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ بھی اسی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جو ابتدائی طور پر اسلام کا شدید مخالف تھا، مگر بعد میں اللہ تعالی نے ان کے والد کو بھی اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی مکہ میں اپنا ایمان قبول کر لیا تھا، جب کہ اسلام قبول کرنا بہت مشکل اور پر خطر تھا۔ آپ کے والد سہیل بن عمرو اس وقت اسلام کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے اپنے بیٹے کو اسلام سے پھیرنے کے لیے بے پناہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ انہیں قید کیا گیا اور زنجیروں میں جکڑ کر جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ اس شدید ظلم و جبر کے باوجود، ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ ان کی ابتدائی زندگی استقامت، صبر اور اللہ کی راہ میں قربانی کی عظیم مثال ہے۔ وہ برسوں تک مکہ میں اپنے ایمان کی وجہ سے قید و بند اور ایذا رسانی کا شکار رہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر پیش آیا۔
صلح حدیبیہ کے معاہدے کی شرائط طے ہو رہی تھیں اور قریش کی نمائندگی آپ کے والد سہیل بن عمرو کر رہے تھے۔ اسی دوران، ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ جو زنجیروں میں جکڑے اور زخموں سے چور تھے، مکہ سے فرار ہو کر مسلمانوں کے لشکر میں حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے۔ انہوں نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں اور اپنے زخم اور زنجیریں دکھائیں۔
معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ "جو شخص بھی ہم میں سے تمہارے پاس آئے گا، اگرچہ وہ مسلمان ہو، تمہیں اسے واپس کرنا ہوگا۔ اور جو شخص تمہارے پاس سے ہمارے پاس آئے گا، ہمیں اسے واپس کرنے کی ضرورت نہیں”۔ سہیل بن عمرو نے اس شرط کا اطلاق ابو جندل پر کرنے پر اصرار کیا، حالانکہ معاہدہ ابھی مکمل طور پر لکھا نہیں گیا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورتحال پر شدید دکھ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل سے ابو جندل کے لیے استثنا (exception) طلب کیا، مگر سہیل نے انکار کر دیا۔ بالآخر، معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجبوراً ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے والد کے حوالے کرنا پڑا۔ یہ منظر مسلمانوں کے لیے انتہائی کربناک تھا، خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بہت پریشان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ کو تسلی دی اور فرمایا کہ اللہ ان کے لیے اور دیگر مظلوم مسلمانوں کے لیے راستہ نکالے گا۔
بعد میں، ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ ایک بار پھر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور حضرت ابو بصیر رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملے، جو صلح حدیبیہ کی اسی شرط کے تحت واپس کیے گئے تھے مگر راستے میں فرار ہو کر ایک الگ گروہ بنا چکے تھے۔ یہ دونوں صحابہ اور ان کے ساتھیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں پناہ لی اور قریش کے تجارتی قافلوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، جو شام کی طرف جاتے تھے۔ اس سے قریش کو شدید نقصان پہنچا اور وہ مجبور ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھ کر درخواست کریں کہ آپ ان مسلمانوں کو مدینہ بلا لیں۔ اس طرح، قریش نے خود ہی اس شرط کو منسوخ کر دیا جس کے تحت مسلمانوں کو واپس کیا جا رہا تھا۔ یہ ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر مظلوم مسلمانوں کے لیے ایک بڑی فتح تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔
ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ بعد میں مدینہ منورہ ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اسلام کی کئی جنگوں اور فتوحات میں حصہ لیا اور اپنی بقیہ زندگی اسلام کی خدمت میں گزاری۔
میراث اور وصال
ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی صبر، استقامت اور اللہ پر توکل کی عمدہ مثال ہے۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ ان کے غیر متزلزل ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی عظمت اور معاہدے کی پاسداری کا ایک اہم ترین باب ہے۔ ان کا کردار یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ہر مشکل اور قربانی کا ایک بہترین انجام ہوتا ہے۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں 18 ہجری (تقریباً 639 عیسوی) میں شام میں طاعون عمواس کے دوران ہوا۔ یہ ایک مہلک وبا تھی جس میں بہت سے جلیل القدر صحابہ کرام نے شہادت پائی۔ آپ کو شام کے علاقے میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری (کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحہ مع اہل الحرب)
- صحیح مسلم (کتاب الجہاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ)
- سیرت ابن ہشام (جلد 2، ذکر صلح الحدیبیۃ)
- تاریخ طبری (جلد 3، ذکر صلح الحدیبیۃ)
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر (جلد 4، صلح الحدیبیۃ)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر (جلد 3، ترجمہ العاص بن سہیل)
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر (جلد 2، ترجمہ العاص بن سہیل)
